خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 199
خطبات مسرور جلد 16 199 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مئی 2018 بے تحاشا گالیاں آپ کو دے رہا تھا۔آپ خاموشی اور سکون سے اس کی گالیوں کو برداشت کر رہے تھے۔وہ لونڈی دروازے میں کھڑی ہو کر یہ سارا نظارہ دیکھتی رہی۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ وہ بیشک ایک عورت تھی اور کا فرہ تھی لیکن پرانے زمانے میں جہاں مکہ کے لوگ اپنے غلاموں پر ظلم کرتے تھے وہاں یہ بھی ہو تا تھا کہ بعض شرفاء اپنے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک بھی کرتے تھے اور آخر کافی عرصہ کے بعد وہ غلام اسی خاندان کا ایک حصہ سمجھے جاتے تھے۔اسی طرح وہ بھی حضرت حمزہ کے خاندان کی لونڈی تھی۔جب اس نے یہ سارا نظارہ دیکھا۔اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھا اپنے کانوں سے سب کچھ سنا تو اس پر بہت اثر ہوا مگر کچھ کر نہیں سکتی تھی۔دیکھتی رہی سنتی رہی اور اندر ہی اندر پیچ و تاب کھاتی رہی، کڑھتی رہی، جلتی رہی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کر چلے گئے تو وہ بھی اپنے کام کاج میں لگ گئی۔شام کو جب حضرت حمزہ اپنے شکار سے واپس آئے اور اپنی سواری سے اترے اور تیر کمان کو ہاتھ میں پکڑے اپنی بڑی بہادری کا، ایک فخر کا انداز دکھاتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے تو وہ لونڈی اس وقت اٹھی۔اس نے بڑی دیر سے اپنے غصے اور غم کے جذبات اس وقت دبائے ہوئے تھے۔اس نے بڑے زور سے حضرت حمزہ کو کہا کہ تمہیں شرم نہیں آتی بڑے بہادر بنے پھرتے ہو۔حمزہ یہ سن کر حیران ہو گئے اور تعجب سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے ؟ لونڈی نے کہا کہ معاملہ کیا ہے۔تمہارا بھتیجا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) یہاں بیٹھا تھا کہ ابو جہل آیا اور اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کر دیا اور بے تحاشا گالیاں دینی شروع کر دیں اور پھر ان کے منہ پر تھپڑ مارا۔مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے سے اُف تک نہیں کی اور خاموشی کے ساتھ سنتے رہے۔ابو جہل گالیاں دیتا گیا اور دیتا گیا اور جب تھک گیا تو چلا گیا۔مگر میں نے دیکھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کسی بات کا جواب نہ دیا۔تم بڑے بہادر بنے پھرتے ہو۔بڑے اکڑتے ہوئے شکار سے واپس آئے ہو تو تمہیں شرم نہیں آتی کہ تمہاری موجودگی میں تمہارے بھتیجے کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے۔حضرت حمزہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اور اس وجہ سے بھی کہ سرداران قریش میں ان لوگوں کا شمار ہو تا تھا اور ریاست کی وجہ سے اسلام کو ماننے کو تیار نہیں تھے حالانکہ سمجھتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بچے ہیں مگر حمزہ اس وقت اپنی شان اور جاہ و جلال کو ایمان پر قربان کرنے کے لئے تیار نہیں تھے مگر جب انہوں نے اپنی لونڈی سے یہ واقعہ سنا تو ان کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور ان کی خاندانی غیرت جوش میں آئی۔چنانچہ وہ اسی طرح بغیر آرام کئے غصہ سے کعبہ کی طرف روانہ ہو گئے۔پہلے انہوں نے کعبہ کا طواف کیا اور اس کے بعد مجلس کی طرف بڑھے جس میں ابو جہل بیٹھا ہوا اپنی بڑیں مار رہا تھا لاف زنی کر رہا تھا اور اس واقعہ کو بڑا مزے لے لے کر سنا رہا تھا اور تکبر کے ساتھ یہ بیان کر رہا تھا کہ آج میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو یوں گالیاں دیں اور آج میں نے یہ سلوک کیا۔حمزہ جب اس مجلس میں پہنچے تو انہوں نے جاتے ہی کمان بڑے زور کے ساتھ ابو جہل کے سر پر ماری اور کہا کہ تم اپنی بہادری کے دعوے کر رہے ہو اور لوگوں کو سنا رہے ہو کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح ذلیل کیا اور محمد نے اُف تک نہیں کی۔صلی اللہ علیہ وسلم۔اب میں تجھے ذلیل کرتا ہوں اگر تجھ میں کچھ ہمت ہے تو میرے سامنے بول۔ابو جہل اس وقت مکہ کے اندر ایک بادشاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔قوم کا سردار تھا۔فرعون والی حالت تھی اس کی۔جب اس کے ساتھیوں