خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 198
خطبات مسرور جلد 16 198 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 مئی 2018 کرنے والے لوگ ہیں۔آج حضرت حمزہ بن عبد المطلب کا ذکر کروں گا۔ان کا ذکر خاص طور پہ جس طرح یہ مسلمان ہوئے تفصیل سے تاریخ اور احادیث میں بیان ہے۔اسی طرح ان کی شہادت کا واقعہ بھی۔یہ سید الشہداء کے لقب سے مشہور ہیں اور اسی طرح اسد اللہ اور اسد رسول بھی ان کا لقب ہے۔حضرت حمزہ سردار قریش حضرت عبد المطلب کے صاحبزادے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔حضرت حمزہ کی والدہ کا نام ہالہ تھا اور یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ حضرت آمنہ کی چازاد بہن تھیں۔حضرت حمزہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو سال اور ایک روایت کے مطابق چار سال عمر میں بڑے تھے۔(استیعاب جلد اوّل صفحه 369 حمزه بن عبد المطلب مطبوعه دار الجيل بيروت 1992ء)،(اسد الغابه جلد 2 صفحه 67 حمزه بن عبد المطلب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) حضرت حمزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی بھی تھے۔ایک لونڈی تھی ثوبیہ انہوں نے دونوں کو دودھ پلایا تھا۔(شرح زرقانی جلد 4 صفحه 499 باب ذكر بعض مناقب العباس مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 1996ء۔از مكتبة الشاملة) حضرت حمزہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی نبوت کے بعد چھ نبوی میں دارِ ارقم کے زمانہ میں اسلام قبول کرنے کی توفیق پائی۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 6 حمزه بن عبد المطلب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت حمزہ کے قبول اسلام کا واقعہ حضرت مصلح موعودؓ نے تاریخی واقعات کی روشنی میں اپنے انداز میں بیان کیا ہے۔اس کا کچھ خلاصہ میں بیان کروں گا اور کچھ تفصیل بھی۔اس کو سن کے انسان جب تصور میں لاتا ہے کہ کس طرح حضرت حمزہ نے اسلام قبول کیا اور اس کی کیا وجہ بنی اور کس طرح ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غیرت آئی جب ابو جہل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر زیادتی کی تھی۔بہر حال اس واقعہ کا ذکر اس طرح ہے کہ ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صفا اور مروہ پہاڑیوں کے درمیان ایک پتھر پر بیٹھے تھے اور یقیناً یہی سوچ رہے تھے کہ خدا تعالیٰ کی توحید کو کس طرح قائم کیا جائے کہ اتنے میں ابو جہل آگیا۔اس نے آتے ہی کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تم اپنی باتوں سے باز نہیں آتے۔یہ کہہ کر اس نے آپ کو سخت غلیظ گالیاں دینی شروع کیں۔آپ خاموشی کے ساتھ اس کی گالیوں کو سنتے رہے اور برداشت کیا۔ایک لفظ بھی آپ نے منہ سے نہیں نکالا۔ابو جہل جب جی بھر کے گالیاں دے چکا تو اس کے بعد وہ بد بخت آگے بڑھا اور اس نے آپ کے منہ پر تھپڑ مارا۔مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی اسے کچھ نہیں کہا۔آپ جس جگہ بیٹھے تھے اور جہاں ابو جہل نے گالیاں دی تھیں وہاں سامنے ہی حضرت حمزہ کا گھر تھا۔حضرت حمزہ اس وقت تک ابھی ایمان نہیں لائے تھے۔ان کا معمول تھا کہ روزانہ صبح تیر کمان لے کر شکار پر چلے جایا کرتے تھے اور شام کو واپس آتے تھے اور پھر قریش کی جو مجالس تھیں ان میں بیٹھا کرتے تھے۔اس دن جب ابو جہل نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور بڑا بُرا سلوک کیا تو وہ شکار پر گئے ہوئے تھے لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ جب ابو جہل یہ سب کچھ کر رہا تھا تو حضرت حمزہ کے خاندان کی ایک لونڈی دروازے میں کھڑی ہو کر یہ نظارہ دیکھ رہی تھی۔ابو جہل جب بار بار آپ پر حملہ کر رہا تھا اور