خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 196 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 196

196 خطبات مسرور جلد 16 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 اپریل2018 تھے۔میں بھی ایک دفعہ اس جگہ گیا تو نیچے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے اور قرآن کریم ہاتھ میں تھا۔دعائیں کر رہے تھے۔پھر ہم لوگوں نے بچوں نے بھی اور بڑوں نے بھی ان کو دعا کے لئے کہا۔بڑے مسکراتے ہوئے جواب دیا کرتے تھے اور بڑی شفقت کا سلوک کیا کرتے تھے۔ڈاکٹر نوری صاحب بھی لکھتے ہیں کہ 2004ء میں چودہ پندرہ سال قبل جب ان کا چیک آپ کیا گیا تو تشخیص ہوا کہ ان کو دل کی بیماری ہے اور اس کا علاج بھی کوئی نہیں کیا جاسکتا۔کہتے ہیں مجھے بہت پریشانی ہوئی کیونکہ محض دعا اور چند معمولی ادویات کے سوا اور کوئی ترکیب نہیں تھی۔پھر یہ لکھتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے survival کے چانس بہت کم ہوتے ہیں اور چند سال سے زیادہ نہیں جی سکتے۔لیکن ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ میں حیران ہوں کہ چینی صاحب کو کئی بار ملا ہوں اور علالت کے باوجود کمزوری کے آثار تو ظاہر ہوتے رہے لیکن اللہ کے فضل سے آپ نے کبھی اپنی بیماری کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں حائل نہیں ہونے دیا اور کام ہمیشہ کرتے رہے۔کبھی یہ نہیں ہوا کہ بیماری کی وجہ سے کام نہ کریں یا عبادتوں میں کمی بلکہ ایک نے مجھے لکھا ہے کہ برف شدید پڑی ہوئی تھی ہمارا خیال تھا کہ چینی صاحب کے لئے آنا مشکل ہو گا۔آج فجر کے وقت برف زیادہ ہے اور اس وقت چلا بھی نہیں جارہا تو کوئی مسجد میں نہیں آئے گا لیکن کم از کم جاکے مسجد تو کھولتے ہیں لیکن کہتے ہیں جب ہم باہر نکلے تو برف پر پاؤں کے نشان تھے اور جب اندر گئے تو دیکھا کہ چینی صاحب مسجد میں نہ صرف آئے ہوئے ہیں بلکہ بہت پہلے برف میں چل کر آئے اور آکر تہجد کی نماز وہاں ادا کر رہے تھے۔عطاء المجیب راشد صاحب نے ان کا جو خلاصہ لکھا ہے وہ اچھا خلاصہ ہے اور حقیقت بھی یہی ہے۔کہتے ہیں کہ انہوں نے بہت بڑا خلا چھوڑا۔بلند پایہ بزرگ تھے۔کہتے ہیں میں چینی صاحب کی خصوصیات کے بارے میں سوچ رہا تھا تو مجھے ذہن میں آیا کہ بہت دعا گو اور مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔نمازوں کے بیحد پابند ، بیماری اور کمزوری کے باوجود مسجد جانے والے بہت نیک اور خدا ترس، بے ضرر انسان تھے۔ہر ایک کی خیر خواہی کرنے والے اور نیک مشورہ دینے والے تھے۔بہت سادہ مزاج اور بے تکلف انسان تھے۔بہت مہمان نواز اور محبت بھرے اصرار سے مہمان نوازی کرنے والے تھے۔بہت بلند ہمت اور کمزوری کے باوجود متحرک خدمت دین میں مصروف اپنی ذمہ داری کو بہت اخلاص محنت اور محبت سے ادا کرنے والے، خدمت دین کرتے چلے جانے کی ایک دُھن بہت نمایاں تھی۔خلافت احمدیہ کے بچے، بے ریا اور باوفا خدمت گزار تھے۔ہمیشہ بہت خندہ پیشانی اور مسکراہٹ سے ملتے تھے اور بے شمار ان کی خصوصیات ہیں۔اور یہ حقیقت ہے جو انہوں نے بیان کی۔اللہ تعالیٰ مکرم عثمان چینی صاحب کے درجات بلند سے بلند کرتا چلا جائے اور ان کی اہلیہ کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے اور ان کا حافظ و ناصر ہو اور اسی طرح بچوں کو بھی ان کی دعاؤں اور نیکیوں کا وارث بنائے۔ان کے نقش قدم پر چلنے والے ہوں۔میں اب نماز کے بعد ان کا نماز جنازہ بھی پڑھوں گا۔انشاء اللہ۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 18 مئی 2018ء تا 24 مئی 2018ء جلد 25 شماره 20 صفحہ 0905)