خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 195
خطبات مسرور جلد 16 195 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2018 پھر یہ کہتے ہیں کہ چینی صاحب کے آبائی گاؤں میں جانے کا موقع ملا۔ان کے عزیزوں اور رشتہ داروں سے ملاقات ہوئی۔سارے کے سارے عثمان چو صاحب کا نہایت ادب اور محبت سے ذکر کرتے۔ہر کوئی آتا اور عثمان چو صاحب سے اپنا رشتہ بتا کر بڑی خوشی کا اظہار کرتا اور کہتے ہیں جتنے دن میں وہاں ٹھہر اسب نے بڑا خیال رکھا۔بڑی مہمان نوازی کی۔بڑی آؤ بھگت کی۔صرف اس لئے کہ عثمان چینی صاحب کو میں جانتا ہوں اور جماعت احمدیہ کا نمائندہ ہوں۔کہتے ہیں عثمان چینی صاحب کا چینی زبان میں کیا ہوا قرآن کریم کا ترجمہ نہایت سلیس اور آسان الفاظ میں ہر کسی کو سمجھ آنے والا ترجمہ ہے جس میں چینی زبان کی فصاحت و بلاغت کا معیار بھی جھلکتا نظر آتا ہے۔اس لئے باوجود اس کے کہ قرآن کریم کے دوسرے تراجم بھی چینی زبان میں موجود ہیں لیکن عثمان چو صاحب کا ترجمہ پورے چین میں یکساں مقبول اور سند کی حیثیت رکھتا ہے۔اس کا اندازہ بہت سے چینی علماء سے مل کر ہوا جو جماعت کے عقائد سے اختلاف رکھنے کے باوجود اس ترجمہ کو نہایت پسندیدہ نگاہ سے دیکھتے ہیں اور قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے حد درجہ چاہت رکھتے ہیں۔کہتے ہیں کہ علاقے کے دورے کے دوران جب ایک بزرگ امام نے میرے پاس یہ ترجمہ دیکھا تو ان کی آنکھوں میں چمک پیدا ہو گئی۔ان کے پاس چینی صاحب والا ترجمہ تھا اور اس کو دیکھ کر انہوں نے نہایت خوشی کا اظہار کیا اور بار بار کہتے رہے کہ مجھے اس ترجمہ کی لمبے عرصہ سے تلاش تھی کیا آپ مجھے یہ قرآن کریم عطا کر سکتے ہیں ؟ ہم نے انہیں کہا کہ اس وقت تو ہمارے پاس صرف ایک ہی نسخہ ہے۔آپ اپنا ایڈریس بھجوا دیں ہم آپ کو عثمان چینی صاحب سے منگوا دیتے ہیں۔تو کچھ دیر سوچ کر کہنے لگے کہ آپ یہ قرآن کریم تھوڑی دیر کے لئے مجھے ادھار دے دیں۔میں اس کی فوٹو کاپی کروالیتا ہوں۔قریباً ساڑھے چودہ سو صفحات پر مشتمل اس ترجمہ کی فوٹو کاپی کرنے پر ان کا یہ شوق دیکھ کر ہم نے پھر ان کو قرآن کریم دے دیا اور وہ اتنے خوش ہوئے اور بار بار شکر ادا کرتے تھے کہ جیسے ان کو کوئی بے بہا خزانہ مل گیا۔خزانہ تو یقیناً ہے۔خوشی کا اظہار ان سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔اسی طرح ان کے بے شمار رابطے تھے۔ابھی بھی ان کے رابطے تھے۔اسی طرح اور مبلغین جو وہاں رہے ہوئے ہیں انہوں نے بھی یہی لکھا ہے کہ چین میں جہاں بھی ہم جاتے تھے ہر جگہ چینی صاحب کا ذکر تھا۔ظفر اللہ صاحب بھی وہاں مربی سلسلہ رہے ہیں۔آجکل پاکستان میں ہیں۔کہتے ہیں کہ 2004ء میں چینی صاحب جب پاکستان تشریف لے گئے تو اسلام آباد سے ربوہ کے سفر کے دوران کلر کہار کے علاقے میں مجھے لے جاکر وہ جگہ دکھائی جہاں آپ جامعہ میں تعلیم کے دوران آکر چلہ کیا کرتے تھے۔آپ نے اپنی قبولیت دعا کا ایک واقعہ بھی بیان کیا کہ کس طرح ایک گھر میں تشریف لے گئے جن کے ہاں شادی کے دس سال بعد تک کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔چلہ کے دوران چینی صاحب سے اولاد کے لئے دعا کی درخواست کی۔چینی صاحب نے دعا کی اور خواب میں دیکھا کہ ان کے صحن میں چارپائی پر چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سوئے ہوئے ہیں۔آپ نے یہ خواب ان کو سنائی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے خوشخبری دی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بیٹا عطا کرے گا۔چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو بیٹے سے نوازا۔یہ جب کلر کہار میں چلہ کیا کرتے تھے تو مجھے بھی یاد ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے زمانے میں ہم چھوٹے ہوتے