خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 194
خطبات مسرور جلد 16 194 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2018 اللہ تعالیٰ سے آپ کا مزید تعلق پیدا ہوا۔گفتگو کہتے ہیں کہ تبلیغ میں بھی آپ بہت پر جوش تھے۔عموماً خاموش طبع اور کم گو طبیعت کے مالک تھے۔لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ جب تبلیغ شروع ہوتی تھی تو آپ میں غیر معمولی قوت اور جوش پیدا ہو جاتا تھا اور گھنٹوں گا کرتے تھے۔کئی مرتبہ فون پر بھی گفتگو شروع ہوتی تو وقت کا احساس ختم ہو جاتا اور گھنٹہ گھنٹہ گفتگو ہو جاتی۔مہمان نوازی بھی آپ کو ورثہ میں ملی تھی۔کہا کرتے تھے کہ ہمارے والد بہت مہمان نواز تھے کیونکہ گاؤں میں کوئی ہوٹل نہیں تھا اور ان کے والد کہا کرتے تھے کہ ہمارا گھر ہی ہوٹل ہے۔مہمان نوازی میں چینی صاحب کی اہلیہ بھی آپ کا بھر پور ساتھ دیتی تھیں۔اسی طرح جتنے مرضی تھکے ہوں ہر ایک کے جذبات کا خیال رکھنے والے تھے۔ایک دفعہ رات دیر تک میٹنگ ہوتی رہی اور جب کار میں بیٹھنے لگے تو کسی نے کہا کہ میراگھر قریب ہے وہاں چلیں تو رشید صاحب کہتے ہیں ہمارا تو خیال تھا کہ انکار کر دیں گے لیکن چل پڑے اور وہاں جا کر اس شخص نے پھر کھانے کا بھی انتظام شروع کر دیا۔بڑی دیر تک وہاں رہے۔آپ رات کو Late ایک بجے کے قریب پہنچے۔لیکن یہ نہیں تھا کہ اس کو انکار کر دیں یا یہ کہیں کہ جلدی کرو میں نے جانا ہے۔اسی طرح نصیر احمد بدر صاحب مربی سلسلہ ہیں۔یہ بھی لکھتے ہیں کہ جب مجھے چینی زبان سیکھنے کا ارشاد ہوا تو اس کے بعد ان سے رابطہ ہوا۔وہاں چین کے بہت سے علاقوں میں جاکر دعوت الی اللہ کی توفیق ملتی رہی اور اس موقع پر عثمان چینی صاحب کی نہایت مفید رائے اور مشوروں سے بہت فائدہ اٹھایا۔کہتے ہیں کہ خطوط کے ذریعہ سے وہاں میری رہنمائی کرتے تھے۔اور کہتے ہیں کہ ہزاروں چینیوں کو زبانی اور کتب، فولڈر کی شکل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچانے کا موقع ملتا رہا۔کہتے ہیں تقریباً ہر جگہ عثمان چینی صاحب کا ذکر نہایت اچھے الفاظ میں ہو تا رہا جو چین میں اسلام کے ایک بہت بڑے سکالر سمجھے جاتے ہیں۔یہ کہتے ہیں چینی زبان کا جو یاد گار لٹریچر اپنے پیچھے چھوڑا ہے وہ کبھی آپ کو مرنے نہیں دے گا۔ان کے قلم سے نکلی ہوئی چینی زبان کی بیسیوں کتب اور تراجم کا ایک سمندر ہے جو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے روحانی خزائن سے اخذ کیا ہے اور ترجمہ کر کے لوگوں تک پہنچایا۔ان کی فصیح و بلیغ چینی زبان بھی اپنے اندر ایک خاص کشش و جذب کی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔کہتے ہیں اس بات کا اندازہ مجھے چین کے ایک مسلمان مدرسہ میں جا کر ہوا جہاں پہلی دفعہ جانے پر تو انہوں نے کوئی خاص رد عمل ظاہر نہیں کیا۔مسلمانوں کا جو علاقہ ہے وہاں مدرسہ میں گیا لیکن جب میں کچھ عرصہ بعد دوبارہ وہاں گیا تو تمام چینی مسلمان اور امام صاحب بڑا پیار کرتے اور بڑی چاہت سے ملتے تھے۔اس پر ایک دوست سے میں نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ جب میں پہلی دفعہ آپ کے پاس آیا تھا تو آپ میں اتنی چاہت نہ تھی جتنی اب ظاہر ہو رہی ہے۔اس پر ایک چینی دوست نے بتایا کہ آپ جو چینی زبان کی کتب مولوی صاحب کو دے گئے تھے ان میں سے خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی منتخب تحریرات کا چینی ترجمہ وہ خطبہ میں پڑھ کر سناتے ہیں تو ہمارے اندر ایک وجد کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ہم نے اس سے پہلے اس قسم کی شاندار تحریرات اپنی پوری زندگی میں نہیں سنیں اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں مزید اس قسم کی کتب لا کر دیں۔