خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 193 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 193

خطبات مسرور جلد 16 193 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2018 باہر آیا اور دروازہ کھول کر رخصت کر رہا ہے۔تو اس کو میں کیا بتاتا۔کہتے ہیں اس وقت میری جو حالت تھی کہ یہ عثمان چو صاحب کی رفتت بھری دعائیں تھیں جس نے چار مہینے سے پھنسا ہوا کام صرف ایک دن میں کر دیا اور نہ صرف ایک دن میں کر دیا بلکہ بڑے افسر کے ہاتھ سے خود کروا دیا۔واقعات تو بے شمار ہیں اتنے زیادہ ہیں کہ جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ جو بیان ہو ہی نہیں سکتے۔چند ایک جو اُن کے قریبی ہیں ان کے بارہ میں بتا دیتا ہوں۔سید حسین احمد صاحب مربی لکھتے ہیں کہ ہفتہ وار ہمارا اجلاس ہو تا تھا۔ہمارے مربیان کے پاس سواریاں تو تھیں نہیں۔بسوں میں بیٹھ کے چلے جاتے تھے۔رات دیر تک میٹنگ ہوتی تھی جب اس کے بعد جانے کے لئے یہ ہوتا تھا کہ ہم اس انتظار میں ہوتے تھے کہ کسی نہ کسی عاملہ ممبر کے ساتھ چلے جائیں۔لیکن عثمان چینی صاحب نے کبھی اس کا انتظار نہیں کیا پیدل ہی چل پڑتے تھے یا کوئی بس مل جاتی تھی راستے میں یا کوئی نہ کوئی سواری ان کو لے جاتی تھی اور جس جگہ مشن ہاؤس میں رہتے تھے وہاں اتنی جگہ تھی کہ ایک دفعہ جب انہوں نے دعوت کی تو ہم نے پوچھا کہ آپ رہتے کہاں ہیں ؟ انہوں نے کہا یہی کمرہ ہے جو عورتوں کا ہال ہے۔جب عور تیں نماز پڑھنے آتی ہیں تو اپنا سامان ہم سمیٹ لیتے ہیں اور اس کے بعد یہی ہماری سونے کی جگہ ہے۔یہی ہمارے کھانے کی جگہ ہے۔یہی سب کچھ ہے۔بڑی عاجزی سے انکساری سے چھوٹی سی جگہ پر رہتے رہے۔رشید ارشد صاحب ہیں جو چینی ڈیسک میں کام کرتے ہیں۔انہوں نے ان کے ساتھ بڑا لمبا عرصہ کام کیا۔یہ کہتے ہیں تینتیس سال کام کرنے کا موقع ملا اور ان کے بارے میں جو خصوصیات ہیں وہ لکھتے ہیں کہ نماز باجماعت میں با قاعدگی اور عبادت میں شغف ہمارے لئے ایک نمونہ تھا۔بارش ہو طوفان ہو برف باری ہو بڑی باقاعدگی سے نماز باجماعت کے لئے مسجد میں تشریف لاتے تھے اور کہتے ہیں ہم نے آپ کو اس حال میں بھی دیکھا ہے کہ بڑھاپے کی وجہ سے کافی کمزور ہو چکے تھے اور اسلام آباد مسجد سے گھر آنے کا، پہلے بھی اس کا ذکر ہو گیا) چند منٹ کا فاصلہ پندرہ بیس منٹ میں سانس لے لے کر طے کرتے تھے لیکن مسجد ضرور آتے تھے۔تہجد کا باقاعدگی سے التزام رکھتے تھے۔ایک دفعہ کہتے ہیں ہم لمبا سفر کر کے چین کے ایک علاقے میں گئے اور پھر وہاں بھی مقامی احمدی لوگوں سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی اس لئے میرا خیال تھا کہ تہجد کے لئے اٹھنا مشکل ہو گا۔لیکن صبح دیکھا کہ چینی صاحب تہجد ادا کر رہے ہیں اگر چہ مختصر ادا کی لیکن ناغہ نہیں کیا۔چینی صاحب نے خود بھی اس بارہ میں لکھا ہے۔انہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ جب چین سے ربوہ آئے تو دیکھا کہ ربوہ کے بزرگان کس سوز و گداز سے نمازیں ادا کرتے ہیں۔روزے رکھتے ہیں۔اعتکاف کرتے ہیں۔دعائیں کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی دعائیں سنتا بھی ہے۔اس بات کا آپ پر خاص اثر ہوا اور آپ نے ارادہ کر لیا کہ میں بھی ان بزرگوں کے نقش قدم پر چلوں گا۔اس وقت آپ کو خلیفہ وقت حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رہنمائی میسر تھی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے وجودوں کی صحبت نصیب تھی۔مولانا غلام رسول راجیکی صاحب، حضرت مختار احمد صاحب شاہ جہان پوری، حضرت محمد ابراہیم صاحب بقا پوری، سید ولی اللہ شاہ صاحب وغیرہ کی صحبت سے مستفیض ہوتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان بزرگوں کی صحبت کی وجہ سے آپ کی شخصیت کو مزید ابھارا اور