خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 192 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 192

خطبات مسرور جلد 16 192 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2018 مجھے ان تمام سوالات کے صحیح جوابات بتائے۔مجھے الفاظ ہی نہیں مل رہے تھے کہ میں کیا کہوں۔مجھ پر ان جوابات کا گہرا اثر ہو ا۔اس طرح انہوں نے مجھے قرآن کریم کا ترجمہ اور کچھ کتب بھی تحفہ کے طور پر دیں اور کہا کہ انہیں پڑھو اور پھر ضرور لکھنا اور بتانا کہ ان کتابوں کو پڑھ کر کیسا لگا۔اور کہتے ہیں کہ میں نے بہر حال ان کتابوں کو پڑھا اور میری سوچ کلیۂ تبدیل ہو گئی۔اس وقت مجھے بیعت کا علم نہیں تھا۔بعد میں پھر میں نے بیعت بھی کر لی۔اور یہ لکھتے ہیں کہ میں نے ہمیشہ اس بات کو اعزاز سمجھا کہ مجھے حضرت امام مہدی کے ظہور اور امام مہدی کی سچی جماعت کا علم ہوا۔دعاؤں کی قبولیت کے لوگوں نے واقعات لکھے ہیں۔منظور شاد صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ ربوہ سے کراچی ٹرین پر سفر کر رہے تھے۔ساٹھ بچے ساتھ تھے۔ربوہ اطفال کا کوئی فنکشن تھا۔راستے میں باجماعت نماز ادا کی تو غیر احمدیوں کو پتہ لگ گیا کہ یہ تو احمدی ہیں۔اس پر مولویوں نے ڈبوں میں تقریر شروع کر دی کہ ان کے خلاف کارروائی کرو۔ہم بڑے پریشان تھے۔عثمان چینی صاحب بھی ساتھ تھے۔اس وقت سیکیورٹی کے لحاظ سے بھی مختلف لوگوں کی مختلف ڈیوٹیاں لگائی گئیں۔تو چینی صاحب نے کہا کہ میری بھی لگاؤ۔اس پر کہتے ہیں کہ میں نے انہیں کہا آپ کا کام یہ ہے کہ بر تجھ پہ بیٹھ جائیں اور دعا کریں۔مولویوں کا پر وگرام تھا کہ ملتان پہنچ کر ان کے خلاف کارروائی کریں گے اور ماریں گے۔لیکن کہتے ہیں کہ ملتان گزر گیا تھوڑی دیر بعد مولوی کی طرف سے خاموشی چھا گئی۔جاکے دیکھا تو مولوی سویا ہوا تھا۔مولوی صاحب نے تو ملتان اترنا تھا لیکن ایسا سویا کہ ملتان سٹیشن بھی گزر گیا اور اس کی آنکھ نہیں کھلی اور اگلے سٹیشن پر کہیں جا کر وہ اترا اور اس طرح کہتے ہیں کہ ہماری جان بچی۔اسی طرح عدنان ظفر صاحب ہیں کہتے ہیں کہ میرا ہوم آفس میں کام نہیں ہو رہا تھا۔پاسپورٹ مانگتا تو کہتے کہ ہمارے ریکارڈ میں آپ کا یو کے کا ریکارڈ ہی کوئی نہیں ہے۔میں جاب سے چھٹی لے کر تین چار مہینے تک جاتا رہا۔آخر مایوس ہو گیا۔ایک دن اسلام آباد میں چینی صاحب سے ملاقات ہوئی۔نماز پڑھ کے گھر جارہے تھے۔میں نے پاسپورٹ والا اپنا مسئلہ بیان کیا۔انہوں نے وہیں کھڑے ہو کر دعا کی کہ دعا کرتے ہیں اور اتنی رقت تھی اور چیخنے والی دعائیں تھیں کہ کہتے ہیں میں بھی ڈر گیا کہ میرے لئے اتنی دعائیں کر رہے ہیں۔خواہ مخواہ میں نے ان کو تکلیف دی۔کچھ اور لوگ بھی دعا میں شامل ہو گئے۔اگلے دن کہتے ہیں میرے وکیل نے جب ہوم آفس فون کیا تو وہاں کوئی اٹینڈ نہیں کر رہا تھا۔کافی لمبی گھنٹی بجی تو وہاں کا جو ڈائریکٹر تھا وہ وہاں سے گزرا اور اس نے فون اٹھا لیا۔انہوں نے ان کو بتایا کہ اس طرح مسئلہ ہے۔تو ڈائریکٹر نے کہا کہ اچھا اس سے کہو کہ صبح آ کے مجھے دفتر میں ملے۔کہتے ہیں میں دفتر میں گیا۔مسٹر رچرڈ ان کا نام تھا۔میں reception میں گیا اور reception کو میں نے کہا میں نے ان سے ملنا ہے تو reception والوں نے کہا کہ یہ بڑا افسر ہے وہ تمہیں کہاں ملے گا۔تم ہمیں بتاؤ تمہارا کیا کام ہے۔انہوں نے کہا نہیں مجھے انہوں نے خود بلایا ہے۔کوئی افسر کو اطلاع کرنے کو تیار نہیں تھا۔آخر ایک آدمی تیار ہوا۔اس نے جا کر بتایا تو مسٹر رچرڈ خود اپنے دفتر سے اٹھ کے آئے۔ان کو اپنے ساتھ کمرے میں لے گئے۔اپنے کمپیوٹر پہ سارا ریکارڈ تلاش کیا۔پھر اپنے سیکرٹری کو بلایا اور خط دے دیا کہ ان کو پاسپورٹ ایشو کر دیا جائے اور اس کے بعد پھر واپس باہر چھوڑنے آئے۔اور سارا عملہ دیکھ رہا تھا کہ یہ کون غیر ملکی بڑا آدمی آگیا ہے کہ جس کو چھوڑنے کے لئے اتنا بڑا افسر