خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 191
خطبات مسرور جلد 16 191 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2018 انگلستان چلے جانے کے بعد ایک لمبے عرصہ تک غیر احمدیوں میں ان کا ذکر اور یاد قائم رہی۔یہ کہتے ہیں میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ چینی صاحب والدہ کی بڑی خدمت کرتے تھے۔بعض دفعہ والدہ غصہ میں ڈانٹتیں اور یہ لپک کر ان کو با قاعدہ پیار کرتے۔ان کی ضروریات کا خیال رکھتے اور اتنا انہاک ہو تا کہ اس کی کوئی فکر نہیں ہوتی تھی کہ آس پاس کون دیکھ رہا ہے۔والدہ سے جو پیار اور ان کا اظہار ہورہا تھا وہ ایک غیر معمولی تھا۔جماعت تو کموک قرغزستان کے مجانوف محمد صاحب لکھتے ہیں کہ عثمان چو صاحب سے میری ملاقات 1994ء میں ایک سفر کے دوران جہاز میں ہوئی۔ابتداء مجھے یہ اندازہ نہیں ہوا کہ وہ مسلمان ہیں یا جماعت احمدیہ کے عالم ہیں۔لیکن جب جہاز پرواز کرنے لگا تو انہوں نے بسم اللہ پڑھا تب مجھے معلوم ہوا کہ وہ مسلمان ہیں۔کچھ دیر کے بعد میں نے انہیں سلام کیا۔ہمارا تعارف ہوا اور ہم نے مختلف امور پر گفتگو شروع کر دی۔انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ کو جماعت احمدیہ مسلمہ کے بارے میں معلوم ہے ؟ میں نے کہا کہ نہیں میرے علم میں نہیں ہے۔اس کے بعد انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ قرآن کریم کا چینی زبان میں ترجمہ پڑھتے ہیں ؟ میں نے جواب دیا کہ جی میں پڑھتا ہوں۔اس پر کہنے لگے کہ چینی زبان میں قرآن کریم کے کتنے تراجم کا آپ کو علم ہے ؟ میں نے کہا کہ اس وقت جتنے تراجم موجود ہیں میں نے ان کا مطالعہ کیا ہے اور کر رہا ہوں۔عثمان صاحب نے پوچھا کہ جن مترجمین نے قرآن کریم کے تراجم چینی زبان میں کئے ہیں کیا آپ ان کو جانتے ہیں ؟ میں نے کہا میں تو سب کو جانتا ہوں۔تو عثمان صاحب نے کہا ان مترجمین میں سے ایک مترجم کا نام عثمان چو ہے۔کیا آپ انہیں جانتے ہیں ؟ میں نے کہا جی میں انہیں جانتا ہوں لیکن میں نے ان کا ترجمہ قرآن نہیں پڑھا اور نہ ہی کبھی ان سے ملاقات ہوئی ہے۔انہوں نے پوچھا کہ آپ عثمان چو کو کیسے جانتے ہیں ؟ میں نے کہا کہ بس مجھے یہ علم ہے کہ وہ عالم ہیں۔قرآن کریم کا چینی زبان میں ترجمہ کر چکے ہیں۔مگر میں نے انہیں کبھی دیکھا نہیں ہے۔اس پر انہوں نے بتایا کہ میں ہی عثمان چو ہوں۔مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ عثمان چو صاحب سے ملاقات کر رہا ہوں۔انہوں نے مجھے اپنے رابطہ کی اور پھر عارضی طور پر جہاں رہائش رکھے ہوئے تھے اس کی معلومات دیں۔میں نے بھی انہیں اپنا نمبر دیا۔ایک دو دن کے بعد مجھے چینی صاحب کا فون آیا کہ آپ کے گھر آکر آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔میں تو تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اتنے بڑے مرتبے کے عالم مجھ سے ملنے میرے گھر آئیں گے۔میں نے ان کا اپنے گھر میں استقبال کیا۔ان کے ساتھ دو پاکستانی دوست بھی تھے۔ہم دس منٹ تک بات چیت کرتے رہے۔اس کے بعد عثمان چو صاحب نے مجھے ایک ریسٹورنٹ میں دعوت دی۔میں نے انہیں کہا کہ آپ مہمان ہیں اور مجھے آپ کو دعوت دینی چاہئے۔لیکن انہوں نے کہا کہ آپ طالب علم ہیں اور میں آپ کا بڑا ہوں اور والدین کی جگہ ہوں۔اس لئے مجھے آپ کی مدد کرنی چاہئے۔اس کے بعد ہم ریسٹورنٹ میں گئے۔کھانا کھایا۔مختلف امور پر گفتگو ہوئی۔اور اسی طرح کہتے ہیں کہ ایک دن میں ان کو ملنے گیا۔سینٹرل بنک کی عمارت تھی۔ہم نے ان کی رہائش گاہ میں بیٹھ کر گفتگو کی اور عثمان چو صاحب نے مجھ سے وفات مسیح، مسئلہ ختم نبوت، یا جوج ماجوج، جن، امام مہدی اور اس طرح قرآن و حدیث کے بارہ میں سوالات کئے۔میں نے انہیں وہی جواب دیئے جو عام طور پر روایتی مسلمان دیا کرتے ہیں۔عثمان چو صاحب مسکرانے لگے اور پھر انہوں نے