خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 190
خطبات مسرور جلد 16 190 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 اپریل2018 ہمیشہ عظیم محبت اخلاص اور فدائیت کے جذبات کا مظاہرہ کرتے۔لکھتے ہیں کہ یہ سچی شہادت ہے کہ زمانہ طالبعلمی میں بعض اوقات شدت اداسی اور تفکر میں ان کے آنسو بہنے لگتے۔اپنی والدہ، بھائیوں سے ملاپ اور ان کی خیریت کے بارہ میں وہاں پر قائم نظام حکومت کی وجہ سے بعض اوقات دکھ کا اظہار کرتے اور بڑے الحاح سے اور تضرع اور سوز سے اپنے خالق حقیقی کے حضور اپنے مطلوبہ مقاصد کے لئے دعائیں کرتے۔کہتے ہیں یہ نظارے اب بڑی عمر میں بھی میرے لئے قابل رشک ہیں۔آغا سیف اللہ صاحب لکھتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے کہ اس بندہ خدا نے اس زمانہ ابتلا میں جو مانگا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص اور دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا اور احمدیت کی برکت سے سب کچھ دیا اور وافر رحمتوں سے بھی نوازا بلکہ مخلوق خدا نے بھی ان کی قبولیت دعا کے ثمرات سے فیض پایا۔کہتے ہیں کہ مجھے بھی زمانہ طالب علمی میں حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی، حضرت مولوی عبد اللطیف صاحب بہاولپوری، صاحبزادہ سید ابوالحسن صاحب اور دیگر بزرگوں کی خدمت میں بیٹھنے اور درخواست دعا کرنے اور ان کی قبولیت کے اثرات دیکھنے کی بفضلہ تعالیٰ توفیق ملی ہے۔یہ لکھتے ہیں کہ میں پوری احتیاط سے اپنے مشاہدے اور وجد ان سے گواہی دے سکتا ہوں کہ عبادت میں سوز و گداز، دعا میں الحاح و تضرع اور قبولیت دعا کے لحاظ سے ان محترم اکابرین کا عکس محترم عثمان چینی صاحب کی ذات میں موجود تھا۔کہتے ہیں میں نے خود بھی کئی بار ذاتی معاملات میں ان کی قبولیت دعا کا مشاہدہ کیا ہے۔اور پھر یہ لکھتے ہیں کہ آپ ہمیشہ مجھے اور میرے ساتھ ملنے والوں کو دعائیں کرنے کی تلقین کرتے تھے۔آپ بڑے زیرک اور مومنانہ فراست کے مالک تھے۔جماعتی انتظامی معاملات میں اظہار رائے میں نہایت محتاط تھے۔خود بھی نظام جماعت کا احترام مکمل پابندی سے کرتے تھے۔اپنے دوستوں اور ملنے والوں کو بھی اس کی ہمیشہ تلقین کرتے۔خلافت سے مکمل روحانی عقیدت رکھتے اور ان کے احسانات پر تشکر کا اظہار کرتے تھے۔جب بھی کوئی آپ سے درخواست کرتا تو پوچھا کرتے تھے کہ خلیفہ وقت کی خدمت میں درخواست دعا کی ہے؟ یہاں اسلام آباد کے صدر جماعت ڈاکٹر رضوان صاحب ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ نماز سے ان کی محبت کا یہ عالم تھا کہ آخری چند سالوں میں انہیں اپنے گھر سے مسجد تک جانے کے لئے جو صرف چند منٹ کا فاصلہ ہے کئی منٹ لگ جاتے تھے اور راستے میں کئی دفعہ رک کر سانس لینا پڑتا تھا۔مگر اس کے باوجود میں نے کبھی انہیں نماز جمع کرتے نہیں دیکھا۔ایک دفعہ جب مغرب اور عشاء کی نماز میں وقفہ بہت کم تھا تو میں نے انہیں عرض کیا کہ آپ گھر جانے کے بجائے مسجد میں عشاء کا انتظار کر لیا کریں یا جمع کر لیا کریں۔تو فرمانے لگے کہ چلنے سے exercise ہو جاتی ہے اور گھر سے مسجد تک کا فاصلہ طے کرنے کا ثواب بھی مل جاتا ہے اس لئے میں جاتا بھی ہوں اور آتا بھی ہوں۔رشید بشیر الدین صاحب ابو ظہبی میں ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ان کی دعاؤں سے غیر احمدی اور احمدی سب ان سے فیض پاتے تھے۔جب یہ ڈرگ روڈ کراچی میں مربی تھے تو وہاں قیام کے دوران غیر احمدی مرد وزن چینی صاحب سے اپنی ذاتی اور دیگر معاملات میں مشورے لیتے اور گواہی دیتے کہ ان کے مشوروں پر عمل کرنے سے اور چینی مولوی صاحب سے دعا کروانے کے بعد ان کے بڑے بڑے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔تو مختصر یہ کہ ڈرگ روڈ کراچی کا مشہور چینی مولوی بلا تفریق مذہب ہر ایک کے لئے فیض رساں وجو د رہا اور بے شمار محبتیں بانٹتا رہا۔ان کے