خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 189 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 189

خطبات مسرور جلد 16 189 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2018 نے تین پوائنٹ لکھ کے دیئے کہ میں تو بول نہیں سکوں گا۔انہوں نے میرے سے جو پوچھنا تھا وہ یہ تھا کہ میں کمزور ہوں اور خود کھڑا نہیں ہو سکتا اس لئے ویل چیئر پر بیٹھا ہوں اس کے لئے مجھے معذرت ہے۔خلافت کا بڑا احترام تھا۔اور یہ بھی کہ یہ دعا کریں کہ میں آخری سانس تک تبلیغ کرتارہوں اور اس کی مجھے اجازت بھی دیں اور پھر یہ کہ دفتر میں جا نہیں سکتا تو گھر میں اپنا کام کرنے کی اجازت دیں۔کام کی دُھن تھی۔یہ نہیں تھا کہ گھر میں بیٹھا ہوں تو فارغ بیٹھا رہوں۔گھر میں بھی کام کرتارہوں۔یہ جب حج پر گئے ہیں تو ان کے داماد بھی ساتھ تھے۔یہ کہتے ہیں کہ عثمان صاحب نے اپنے دعائیہ جذبات کو چائینیز منظوم کلام میں لکھا ہوا تھا اور ان کو بتایا کہ میں ان جذبات کو اس لئے منظوم کر رہا ہوں تا کہ آئندہ بھی ان سے فائدہ اٹھا سکوں۔اور حج کے ہمارے گروپ میں ایک موقع پر چند لوگوں نے مکرم عثمان چینی صاحب سے پوچھا کہ آپ کیا لکھ رہے ہیں۔آپ نے انہیں مختصر ابتایا کہ میں اپنی چائینیز قوم کے لئے دعائیں کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں حقیقی اسلام کی طرف ہدایت دے۔ان سوال کرنے والوں نے کافی حیرت کا اظہار کیا کہ ایک عمر رسیدہ بوڑھا شخص جو اس وقت سہارے کے بغیر آسانی سے چل نہیں سکتا اس کو صرف اپنی قوم کی ہدایت کے لئے فکر ہے۔پھر چینی صاحب اپنے حالات میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ چین میں بدھ ازم اور کنفیوشس ازم اور تاؤازم کی بعض تعلیمات آپس میں مخلوط ہو گئی ہیں اور بہت سے چینی ایک وقت میں ان تینوں مذاہب کی تعلیمات پر پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔مگر اس زمانے میں انہوں نے ان مختلف تعلیمات کو جمع کر کے اپنے طور پر ایک مذہب بنایا ہے اور اس مذہب میں انسان کی اخلاقی حالت کی طرف خاص توجہ دی جاتی ہے۔چینی صاحب لکھتے ہیں کہ جب تین چینی اخباروں میں میرے انٹر ویو شائع ہوئے تو ملائشیا کی داستا سوسائٹی نے جو نیا مذ ہب دے ازم ہے اس کی سوسائٹی نے مجھ سے خواہش کی کہ میں اسلام کی اخلاقی تعلیمات کے عنوان پر ایک مضمون لکھوں تا کہ وہ اسلام کی اخلاقی تعلیمات کو دوسرے مذاہب کی تعلیمات کے ساتھ ایک رسالہ میں شائع کریں۔چنانچہ میں نے اس سلسلہ میں ایک مضمون لکھا اور جس پر انہوں نے چینی صاحب کو واپس یہ جواب دیا کہ ہمیں آپ نے اسلام کے بارے میں ایک عظیم الشان مضمون دیا ہم آپ کے بہت ممنون ہیں۔آپ نے غیر جانبدارانہ رنگ میں اسلام کے حقائق بیان کئے ہیں۔آپ کی بحث باریک اور لطیف تھی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے بہت اچھی طرح مذہب کے علوم حاصل کئے ہیں۔چینی لوگوں کو اب تک اسلام سے واقفیت نہیں۔وجہ یہ ہے کہ چینی زبان میں اسلام کی تبلیغ نہیں ہوئی۔اب آپ سنگاپور میں اسلام کی اشاعت کے لئے آگئے ہیں۔(جب یہ سنگا پور میں تھے۔تو یہ لازمی بات ہے کہ اسلام ان ممالک میں چینیوں میں پھیل جائے اور چینی لوگ بھی اس سے برکات حاصل کریں۔آغا سیف اللہ صاحب ان کے کلاس فیلو بھی تھے یا اس زمانے میں جامعہ میں پڑھتے تھے لکھتے ہیں کہ عثمان چینی صاحب میرے کلاس فیلو بھی تھے۔آپ بھر پور جوانی کی عمر میں پارسا خوش خصائل اور نیک اطوار کے مالک تھے۔بڑے سوز و گداز سے نماز ادا کرتے۔نہایت تضرع سے دعا مانگتے تھے۔نفلی روزے رکھتے۔نوافل ادا کرنے کے عادی تھے۔تسبیح و تحمید اور ذکر الہی میں کمال شغف رکھتے تھے۔احمدیت کی نعمت ملنے پر اظہار تشکر کرتے اور