خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 188 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 188

خطبات مسرور جلد 16 188 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2018 دی۔یونیورسٹی میں اس شرط کے ساتھ پڑھنا ہے کہ تمہارا پر دہ ہو اور اگر کلاس میں مجبوراً اتارنا بھی پڑے تو پھر میک آپ نہیں ہونا چاہئے اور اس کے بعد بھی پھر فوراً پر دہ ہو۔اسی طرح چھوٹی بیٹی ہیں منزہ۔وہ بھی کہتی ہیں کہ ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ تم لوگوں کو چاند کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اس طرح اگر چاند نہ ملا تو ستارے تو مل ہی جائیں گے۔یعنی کہ ہمیشہ اونچے مقاصد رکھو اور پنجوقتہ نماز باجماعت کے ساتھ ہمیں تہجد کی بھی ترغیب دیتے۔پانی کے چھینٹے ڈال کر فجر کی نماز پہ اٹھاتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کی کتب پڑھنے کی طرف توجہ دلاتے اور کئی گھنٹوں بیٹھ کر بڑے صبر اور تحمل سے ہمارے سوالوں کے جواب دیتے۔یہ نہیں کہ ذراسی بات پر تنگ آجائیں۔یہ والدین کے لئے بھی ایک نمونہ ہے۔ہمیشہ یہ کہتے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے جو صلاحیتیں دی ہیں ان کو استعمال کرو۔کبھی ضائع نہ کرو اور کہتے جو عمل بھی کروا سے خدا کی عبادت کی نیت سے کرنا چاہئے۔روحانی ترقی کی مثال دیتے ہوئے کہتے تھے کہ وہ اس سیڑھیوں کی طرح ہوتی ہے جس میں کبھی کبھی تو قف آجاتا ہے لیکن پھر ساتھ ہی مزید بلندی کی طرف قدم بڑھتا ہے۔لکھتی ہیں کہ انہوں نے ہمیں سادگی، عاجزی اور دوسروں کو خود پر ترجیح دینا سکھایا۔جب آپ صدر جماعت اسلام آباد تھے تو تمام گھروں میں سینٹرل بیٹنگ لگائی جارہی تھی۔اس وقت انہوں نے یقین دہانی کی کہ ہمارے گھر میں سب سے آخر میں یہ کام ہو۔ان کے بیٹے ڈاکٹر داؤ د صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے بتایا کہ جامعہ کی تعلیم کے دوران انہیں اپنے بڑے بھائی اور والد صاحب کی وفات کا ٹیلیگرام آیا۔تو اس وقت جامعہ کے امتحانات میں مصروف تھے۔انہوں نے سوچا کہ یہ افسوس ناک خبر بھی جامعہ کے امتحان کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے اور یہ سوچ کر آپ نے وقت پر امتحان دیئے اور وقت ضائع نہیں کیا۔ان کے یہ بیٹے ہی لکھتے ہیں کہ چائینیز لوگوں میں تبلیغ کا انہیں بہت شوق تھا۔جس فنکشن میں بھی جاتے وہاں لوگوں کو احمدیت کا تعارف کراتے اور لٹریچر تقسیم کرتے یہاں تک کہ جب آپ بیمار ہو گئے اور چل نہیں سکتے تھے تو ویل چیئر (wheel chair) پر آتے تھے ، اور ویل چیئر کے خانے میں بھی بڑی بڑی کتابیں ڈالنے پر اصرار کرتے تھے تاکہ لوگوں میں تقسیم کر سکیں۔پھر یہ کہتے ہیں کہ جب میں چھوٹا تھا تو کبھی ان کے دفتر میں چلا جاتا۔پین یا پنسل لینے کی کوشش کرتا تو مجھے اپنے آفس میں رکھے ہوئے پین استعمال کرنے نہیں دیتے تھے۔اور میر کی والدہ سے کہتے تھے کہ میرے لئے الگ پین خرید کر دو۔اس کو پین کی ضرورت ہے۔اور اگر کبھی فوٹو کاپی کروانی ہوتی تو مجھے کہتے کہ گھر سے اپنا کاغذ ساتھ لے کر آؤ اور پھر مشین پر فوٹو کاپی کر لینا۔پھر یہ بیٹے ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے صفاتی نام یاد کرنے کی تلقین کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے جتنے صفاتی نام ہیں وہ یاد کرو۔انہوں نے چائینیز زبان میں ایک نظم لکھی تھی جس میں اللہ تعالیٰ کے سو صفاتی ناموں کی تعریف کی تھی۔یہ نظم روزانہ رات کو پڑھتے تھے اور کھیل کی صورت میں ہم بہن بھائیوں کے در میان زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام یاد کرنے کا مقابلہ کرواتے تھے اور پھر انعام بھی دیتے تھے۔دو تین مہینے پہلے یہ اپنے داماد اور فیملی کے ساتھ مجھ سے ملنے آئے تو ان کے داماد لکھتے ہیں کہ مجھے انہوں