خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 187 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 187

خطبات مسرور جلد 16 187 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2018 مسجد میں نماز پڑھانے کے بعد گھر آکر مجھے باجماعت نماز پڑھاتے۔کئی کئی گھنٹوں مجھے نماز کے عربی الفاظ سکھاتے۔انہوں نے مجھے لفظ بہ لفظ اور سطر به سطر سکھایا اور نصیحت کی کہ اس کی مشق کرتی رہو اور اگر بھول جاؤ تو دعاؤں کی کتاب پاس رکھو۔انہوں نے چھ ماہ میں مجھے قاعدہ پڑھنا سکھا دیا۔انہوں نے مجھے قرآن پڑھنا سکھانا شروع کیا تو ساتھ ہی ترجمہ بھی سکھایا تا کہ میری دلچپسی قائم رہے۔بہت صبر والے تھے۔بہت گہرائی تک جاکر مضمون سمجھاتے۔لمبی مثالوں کے ساتھ سمجھاتے۔بہت صلہ رحمی رکھتے تھے۔انہوں نے اپنی والدہ کو چائنا سے پاکستان بلا کر ان کی بھر پور خدمت کی۔کہتی ہیں بعض دفعہ ہمارے حالات ایسے ہوتے تھے، ایسا وقت بھی آیا کہ دن میں دودھ کی صرف ایک بو تل خرید سکتے تھے اور وہ بھی اپنی والدہ کو دے دیتے تھے۔جہاں بھی سفر پر جاتے اپنی والدہ کو ساتھ رکھتے۔چینی صاحب نے والدہ کی بڑی خدمت کی۔کہتی ہیں آپ کی تمام عمر اپنے کام کے ساتھ لگاؤ پر مشتمل تھی۔جب آپ کی صحت اچھی تھی تو اکثر رات دیر تک دفتر کام کرتے بلکہ بعض دفعہ کام کرتے کرتے صبح ہو جاتی تھی۔گھر میں ان کا سب سے اہم کام بچوں کی اچھی تربیت کرنا تھا اور باقی چھوٹے چھوٹے دنیاوی کاموں میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے تھے۔اپنے کھانے اور کپڑوں وغیرہ کے متعلق بہت سادہ مزاج تھے۔پھر ان کی بڑی بیٹی ہیں ڈاکٹر قرۃ العین لکھتی ہیں کہ میرے والد صاحب کی بعض خصوصیات کو الفاظ میں بیان کرنا میرے لئے مشکل ہے۔آپ بہت شفیق، مہربان، نہایت محنتی، انتھک ، ہمیشہ اچھی امید رکھنے والے ، عاجز انسان تھے۔ہر معاملے میں ہم سارے بہن بھائیوں کو اور پھر اپنے دامادوں کو بھی گفتگو میں شامل ہونے کی ترغیب دیتے تھے۔ہماری سکول کی پڑھائی میں دلچسپی لیتے تھے۔ٹیچر کے تاثرات معلوم کرتے تھے کہ کیا کہا ٹیچر ز نے اور کہتے تھے تم لوگوں کی زندگی کا مقصد یہ ہے، دنیا میں اس لئے تمہیں اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے ، یہ مقصد ہے تمہارا کہ تبلیغ کر و خاص طور پہ چائینیز لوگوں کو اور ہمیں باقاعدگی سے نصیحت کرتے تھے کہ روحانیت، اخلاق اور علم میں ترقی کرتے رہو۔اور اکثر کہتے کہ تم لوگوں کی شخصیت، عمل اور رویہ کو دیکھ کر لوگوں کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ خدا کا وجود موجود ہے کیونکہ جو بچے خدا پر یقین رکھتے ہیں وہ ان بچوں سے بہت بہتر ہوتے ہیں جو یہ یقین نہیں رکھتے۔یہ بھی نصیحت کرتے کہ تمہارے ہر کام میں جو شروع کرو اس میں باقاعدگی ہونی چاہئے۔کبھی یہ نہیں ہوا کہ بچپن میں ڈانٹا ہو۔ہمیشہ پیار سے سمجھاتے تھے اور جہاں کبھی سختی کی تو وہ نماز کے بارے میں کہ نماز میں با قاعدگی کیوں نہیں رکھی۔اور کہتی ہیں بلکہ ہمیں بچپن میں عادت ڈالنے کے لئے پانچوں وقت مسجد میں نماز ادا کرنے کے لئے لے جاتے تھے اور چھٹیوں میں ہمیں کوئی نہ کوئی کتاب پڑھنے کے لئے دیتے پھر اس کا ٹیسٹ لیتے۔پھر کہتی ہیں کہ انہوں نے کشتی نوح کی ایک بہت پرانی کا پی پڑھنے کے لئے دی اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ اس کو پڑھو اس کی اردو اتنی زیادہ مشکل نہیں ہے جتنی دوسری کتابوں کی اردو مشکل ہے۔اور پھر کہنے لگے کہ یہ کشتی نوح پہلی کتاب ہے جو انہوں نے جامعہ احمدیہ میں خود پڑھی تھی۔پھر پر دے کے بارے میں بھی ان کو فکر تھی۔یونیورسٹی جاؤ گی تو پردہ کرنا اور اگر نقاب اتارنے کی مجبوری ہو تو پھر یہ ہے کہ میک آپ نہیں کرنا اور صرف پڑھائی کے دوران اُتارنا ہے۔یہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع سے انہوں نے پوچھا تھا اور پھر اس کی اجازت