خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 186
خطبات مسرور جلد 16 186 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2018 دیکھا اور ایک آواز سنی کہ تمہاری ساری ضرورتیں اس شخص کے ذریعہ پوری کی جائیں گی۔کہتی ہیں اس خط کو دیکھنے کے بعد میں نے عثمان صاحب کو خواب میں دیکھا جبکہ وہ سفید کپڑوں میں ملبوس میرے پاس کھڑے تھے اور میں لیٹی ہوئی تھی۔بعد میں جب مجھے عثمان صاحب کی تصویر دکھائی گئی تو مجھے معلوم ہوا کہ یہی وہ شخص ہے جنہیں میں نے خواب میں دیکھا تھا اور اس طرح میں نے رشتہ قبول کر لیا۔چار سال منگنی رہی۔پاسپورٹ نہیں بن رہا تھا۔وہاں کے حالات بڑے خراب تھے اور سیاسی صور تحال اور کلچرل ریولیوشن (Revelation) کی وجہ سے ان کا آنا بہت مشکل تھا۔کہتی ہیں عثمان صاحب نے ایک خواب میں دیکھا تھا کہ جب ماؤزے تنگ کی وفات ہو گی تو بیوی آئے گی۔اور ماؤزے تنگ صاحب جو اس وقت کے چائنا کے چیئر مین تھے ، ان کی صحت بھی اچھی تھی کوئی بیمار بھی نہیں تھے اور بڑے آرام سے زندگی گزار رہے تھے۔بہر حال اس پر انہوں نے کہا یہ تو بڑا لمبا عرصہ ہے پتہ نہیں کب آئے۔اس پر چینی صاحب نے فیصلہ کیا کہ ماؤزے تنگ کو خط لکھیں۔کہتے ہیں میں خط پوسٹ کرنے جارہا تھا کہ ماؤزے تنگ کی وفات کی اطلاع مل گئی۔ان کی بیوی لکھتی ہیں کہ اس کی وفات کے چند دن بعد ہی مجھے اپنا پاسپورٹ مل گیا۔اور کہتی ہیں چنانچہ میں پاسپورٹ لے کے اپنے والد صاحب کے گھر آئی اور جب میں گھر آئی تو اس رات بہت بارش ہوئی اور اس سے پہلے بہت خشک سالی تھی۔اتنی بارش ہوئی کہ پانی کے بہاؤ کی وجہ سے زمین میں جو بڑے بڑے کٹاؤ پیدا ہو جاتے ہیں وہ پیدا ہو گئے۔ایک غیر احمدی ہمسائے نے مجھے کہا کہ تم پہلے آجاتی تو ہماری یہ خشک سالی دور ہو جاتی۔بہر حال کہتی ہیں ایک ہفتہ کے بعد میں چائنا سے نکلی اور سامان میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔دو جوڑے تھے جو عثمان صاحب کے چھوٹے بھائی نے مجھے دیئے تھے اور Soya Sauce کی چند cubes تھیں۔12 / اگست 1978ء کو میں کراچی پہنچی۔وہاں چوہدری احمد مختار صاحب نے نکاح پڑھایا اور خود ہی میرے ولی مقرر ہوئے۔تیسرے دن ہم نے چائینیز ایمبیسی میں جانا تھا۔ٹرین کے ذریعہ ہم گئے جس میں مر دوں اور عورتوں کا علیحدہ علیحدہ انتظام تھا اور فیصلہ یہ ہوا تھا کہ جب سارے لوگ ٹرین سے اتر جائیں گے تو ہم سٹیشن پر ملیں گے۔لیکن یہ کہتی ہیں کہ میں تو نئی تھی جس ڈبے میں بیٹھی تھی اس کے سارے لوگ، مسافر اس سے پہلے ہی اتر گئے۔میں سمجھی یہی آخری سٹیشن ہے اور ٹرین جب دوبارہ چلی تو پھر مجھے احساس ہوا لیکن اس وقت پھر ٹرین پر چڑھنا مشکل تھا۔بہت رش تھا۔خیر میں بڑی پریشان تھی۔بہر حال ایک پولیس افسر نے جب مجھے پھرتے ہوئے دیکھا تو اس نے ریلوے پولیس والوں کو وہاں بلا لیا اور پھر مجھے چائینیز ایمبیسی بھجوا دیا۔کہتی ہیں میں نے نقاب اور کوٹ پہنا ہوا تھا۔اس وقت ایمبیسی والوں کو یقین نہیں آرہا تھا کہ میں چائینیز ہوں کیونکہ ایک عورت برفقعے میں کس طرح ہو سکتی ہے۔بہر حال انہوں نے ایک چائینیز رسالہ منگوایا اور مجھے کہا پڑھ کے سناؤ اور پھر ٹیکسی کا انتظام کیا گیا۔بہر حال ایک لمبی کہانی ہے اور کسی نہ کسی طرح وہ پہنچ گئیں۔ٹیکسی والا راستے میں پوچھتا جارہا تھا کہ کہاں لے جانا ہے تو اس نے ان کو پہنچادیا اور بلکہ ٹیکسی والا بڑا حیران تھا کہ میں نے کبھی اس طرح کسی نوجوان عورت کو گھومتے ہوئے اور پھر اس طرح ملتے ہوئے دیکھا نہیں۔بہر حال کہتی ہیں کہ یہ ہماری زندگی کی ابتدا تھی۔عثمان صاحب کے بارے میں لکھتی ہیں کہ اچھے خاوند تھے بلکہ میرے روحانی استاد تھے۔جب میں پاکستان آئی تو انہوں نے سب سے پہلے مجھے نماز پڑھنا سکھائی۔