خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 184
خطبات مسرور جلد 16 184 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2018 1957ء میں جامعہ احمدیہ سے شہادۃ الاجانب کا امتحان پاس کیا۔یہ مبلغین کا short course تھا۔16 اگست 1959ء کو آپ نے وقف کیا اور آپ کا تقرر جنوری 1960ء میں ہوا۔پھر مبلغین کلاس کا کورس پاس کرنے کے لئے انہوں نے دوبارہ اپریل 1961ء میں جامعہ احمدیہ میں داخلہ لیا۔اور 1964ء میں شاہد کی ڈگری حاصل کی۔پاکستان میں وکالت تصنیف تحریک جدید ربوہ میں نیز کراچی اور ربوہ میں ان کو بطور واقف زندگی اور مربی خدمت کی توفیق ملی۔1966ء میں سنگا پور اور ملائشیا تشریف لے گئے۔وہاں ان کو تقریباً ساڑھے تین سال سنگا پور میں اور چار مہینے کے قریب ملائشیا میں خدمت کی توفیق ملی۔1970ء میں واپس پاکستان آئے اور پھر مختلف جگہوں پر مربی سلسلہ رہے۔عمرہ اور حج بیت اللہ کرنے کی بھی سعادت ان کو نصیب ہوئی اور حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کی ہجرت کے بعد جب یہاں لندن میں مختلف دفاتر کا قیام ہوا، کاموں میں وسعت پیدا ہوئی ، جماعتی لٹریچر کا ترجمہ کرنے کی طرف زیادہ وسعت پیدا ہوئی تو چینی ڈیسک بھی قائم کیا گیا۔پھر ان کو یہاں بلالیا گیا اور آپ کو چینی کتب کے چینی تراجم کی توفیق ملی جس میں چینی ترجمہ قرآن خاص طور پر قابل ذکر ہے۔جماعتی عقائد اور تعلیمات پر مشتمل کتب بھی آپ نے لکھیں۔آپ کے پسماندگان میں آپ کی ایک اہلیہ ، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔جہاں تک چینی ترجمہ قرآن کا سوال ہے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی ہدایت پر انہوں نے 1986ء میں چینی ترجمہ قرآن کا کام شروع کیا۔اسی سال جون میں آپ کو پاکستان سے برطانیہ بلا لیا گیا اور چار سال کی محنت کے بعد یہ ترجمہ مکمل ہوا۔چینی صاحب خود لکھتے ہیں کہ چینی ترجمہ قرآن کا کام کافی وقت چاہتا تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی طرف سے ہدایت تھی کہ اسے صد سالہ احمد یہ جشن تشکر کے موقع پر شائع ہونا چاہئے۔کہتے ہیں مجھے بہت فکر تھی کہ کام وقت پر مکمل ہو جائے۔مناسب آدمیوں کی تلاش تھی جو چینی زبان کا معیار بہتر کرنے اور نظر ثانی کے کام میں مدد دے سکیں اور پاکستان یا یو کے میں رہ کر یہ کام بڑا مشکل تھا۔مثلاً اگر چینی زبان میں کسی کو عبور تھا تو اسلامیات سے ناواقف تھا اور اگر دین کا علم تھا تو چینی زبان معیاری نہیں تھی۔یہ بڑا مشکل کام تھا۔بہر حال کہتے ہیں جب ترجمہ مکمل ہو گیا تو حضرت خلیفہ المسیح الرابع کی ہدایت پر چین اور سنگا پور جا کر چینی زبان کے ماہرین سے بھی مشورہ کیا۔اس کو بہتر بنایا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے چینی زبان میں قرآن کریم کا بڑا معیاری ترجمہ تیار ہوا اور خود یہ بڑی عاجزی سے لکھتے ہیں کہ یہ کام میرے لئے ممکن نہیں تھا۔صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس سے یہ ممکن ہوا۔یہ کہتے ہیں کہ چینی زبان میں اس سے قبل بھی بعض تراجم قرآن کریم موجود تھے اور بعد میں بھی تراجم ہوئے جن کی تعداد دس سے زیادہ ہے۔لیکن جماعت احمدیہ کا جو ترجمہ ہے اس کی اپنی منفرد خصوصیات ہیں جو کسی اور ترجمہ میں نہیں ہیں اور یہ جماعتی علم کلام کی وجہ سے ایک بڑا شاہکار ہے۔اس کی اشاعت پر چین اور دوسرے ممالک کے اہل زبان کی طرف سے بیشمار تبصرے موصول ہوئے جن میں اس ترجمہ کو بہترین قرار دیتے ہوئے زبر دست خراج تحسین پیش کیا گیا۔جماعت کا ترجمہ کافی مقبول ہے اور اس کی بڑی ڈیمانڈ ہے۔بعض لوگ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ جماعتی عقائد بیچ میں ڈال دیئے گئے ہیں یا اپنے مطابق تفسیر کر دی گئی ہے لیکن عمومی طور پر ترجمہ کا معیار ہر ایک نے بہت اعلیٰ قرار دیا۔چین کے ایک پروفیسر لین سانگ (Lin Song) ہیں انہوں نے ایک کتاب " اس صدی کے چینی زبان میں تراجم