خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 183 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 183

خطبات مسرور جلد 16 183 17 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 27 / اپریل 2018ء بمطابق 27 / شہادت 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یو کے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: گزشتہ دنوں جماعت کے ایک بزرگ اور عالم مکرم عثمان چینی صاحب کی وفات ہوئی گزشتہ دنوں جماعت کے ایک بزرگ اور عالم مکرم عثمان چینی صاحب کی وفات ہوئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَانَّا الَيْهِ رجِعُونَ۔اللہ تعالیٰ نے ان کو چین کے ایک دور دراز علاقے سے اپنی خاص تقدیر سے نکال کر پاکستان آنے اور احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔کس کس طرح اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ سلوک کرتا رہا اور انہیں احمدیت قبول کرنے اور دینی علم حاصل کرنے اور پھر زندگی وقف کرنے کی طرف رہنمائی کی اور توفیق عطا فرمائی۔ان کی اپنی تحریریں ہیں، انہوں نے اپنی یاد داشت لکھی ہے اور اس میں کافی تفصیل سے اس پر روشنی ڈالی ہے۔یہ تفصیل تو یہاں بیان کرنے کا وقت نہیں۔انہوں نے مختلف لوگوں کو جو اپنی بعض باتیں بتائیں ، لوگوں نے جو اُن کے بارے میں بعض باتیں لکھی ہیں وہ بھی بہت تفصیل سے لکھی ہوئی ہیں اور ان کی تفصیل بیان کرنا بھی یا ان سب کو بیان کرنا ممکن نہیں۔بہت ایمان افروز واقعات ہیں۔ان کے حالات اور ان کی زندگی اور خدمات اور سیرت کے بارے میں اتنازیادہ مواد ہے کہ ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے۔میرے خیال میں خدام الاحمدیہ پاکستان یہ کام بہتر طور پر کر سکتی ہے۔بہر حال اس وقت میں اس درویش صفت انسان، جماعت کے بزرگ واقف زندگی، مبلغ سلسلہ، عالم، بلکہ حقیقت میں عالم با عمل اور ولی اللہ انسان کا کچھ تذکرہ کروں گا جو واقفین زندگی اور مبلغین کے لئے بھی خاص طور پر اور عمومی طور پر ہر ایک کے لئے ، ہر احمدی کے لئے قابل تقلید نمونہ ہے۔مختلف لوگوں نے ان کی سیرت کے بارہ میں جو لکھا ہے اس کا جیسا کہ میں نے کہا بعد میں مختصر اذکر کروں گا۔عثمان چینی صاحب معروف تھے عثمان چینی کے نام سے۔ان کا پورا نام محمد عثمان چو چنگ شی تھا۔13 /ر اپریل 2018ء کو ان کی وفات ہوئی۔یہ 13 دسمبر 1925ء کو چین کے صوبہ آن خوئی میں ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ہائی سکول کے بعد 1946ء میں نان چنگ یونیورسٹی میں ایک سال کا ایڈوانس کورس کیا۔پھر نان چنگ نیشنل یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات میں تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔چونکہ سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اس لئے قانون، فلسفہ یا دینیات سیکھنے کا سوچا۔پہلے کہتے ہیں ترکی جا کر تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ تھا۔پھر 1949ء میں یہ پاکستان تشریف لے آئے۔خود تحقیق کر کے انہوں نے بیعت کی۔جامعہ احمدیہ میں تعلیم شروع کی۔اپریل