خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 181 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 181

خطبات مسرور جلد 16 181 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2018 بالشت بھی اوپر نہیں جاتی ہیں کیونکہ ان میں اخلاص کی روح نہیں اور وہ روحانیت سے خالی ہیں۔" ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 237) اعمال صالحہ کی حقیقت کیا ہے؟ اس کو بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " یا درکھو اللہ تعالیٰ روح اور روحانیت پر نظر کرتا ہے۔وہ ظاہری اعمال پر نگاہ نہیں کرتا۔وہ ان کی حقیقت اور اندرونی حالت کو دیکھتا ہے کہ ان کے اعمال کی شہر میں خود غرضی اور نفسانیت ہے یا اللہ تعالیٰ کی سچی اطاعت اور اخلاص۔مگر انسان بعض وقت ظاہری اعمال کو دیکھ کر دھو کہ کھا جاتا ہے۔جس کے ہاتھ میں تسبیح ہے یاوہ تہجد واشراق پڑھتا ہے ، بظاہر ابرار واخیار کے کام کرتا ہے، "بڑی نیکی کی باتیں کر رہا ہے " تو اس کو نیک سمجھ لیتا ہے۔" ایک انسان عام طور پر تسبیح جس کے ہاتھ میں ہو اس کو انسان دوسرا بڑا نیک سمجھتا ہے "مگر خدا تعالیٰ کو تو پوست پسند نہیں۔"جو ظاہری چیزیں ہیں وہ پسند نہیں ہیں۔" یہ پوست اور قشر ہے اللہ تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا اور کبھی راضی نہیں ہوتا جب تک وفاداری اور صدق نہ ہو۔" ظاہری چمک دمک، ایک چیز کی ظاہری حالت ، اس کا ایک shell، باہر کا خول یہ چیزیں اللہ کو پسند نہیں ہیں بلکہ یہ راضی نہیں کرتیں۔فرمایا " بے وفا آدمی کتے کی طرح ہے۔جو مر دار دنیا پر یر گرے ہوئے ہوتے ہیں وہ بظاہر نیک بھی نظر آتے ہوں لیکن افعالِ ذمیمہ اُن میں پائے جاتے ہیں۔" برے کام کرنے والے ہیں " اور پوشیدہ بد چلنیاں ان میں پائی جاتی ہیں۔جو نمازیں ریا کاری سے بھری ہوئی ہوں ان نمازوں کو ہم کیا کریں اور ان سے کیا فائدہ؟" پس ایسے دکھاوے کے جو اعمال ہیں انسان کے کچھ کام نہیں آسکتے۔ایسے عمل جس میں ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس کی رضا مد نظر نہ ہو اس کا کوئی ثواب نہیں ہوتا۔ایسی دعوت الی اللہ کرنے والوں کے نتائج بھی خاطر خواہ نہیں ہوتے چاہے وہ جتنی مرضی کوشش کر لیں۔پس اس طرف بھی ہمیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پھر اعمال صالحہ کثرت سے بجالانے کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ : ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 239-240) " پس جو شخص ایمان کو قائم رکھنا چاہتا ہے وہ اعمالِ صالحہ میں ترقی کرے۔یہ روحانی امور ہیں اور اعمال کا اثر عقائد پر پڑتا ہے۔" اگر مضبوط ایمان ہونا ہے تو اعمال بجالانے ضروری ہیں۔"جن لوگوں نے بد کاری وغیرہ اختیار کی ہے ان کو دیکھو تو آخر معلوم ہو گا کہ ان کا خدا پر ایمان نہیں ہے۔حدیث شریف میں اسی لئے ہے کہ چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا اور زانی جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہو تا۔اس کے یہی معنے ہیں کہ اس کی بد اعمالی نے اس کے بچے اور صحیح عقیدے پر اثر ڈال کر اسے ضائع کر دیا ہے۔ہماری جماعت کو چاہئے کہ اعمالِ صالحہ کثرت سے بجالاوے۔اگر اس کی بھی یہی حالت رہی جیسے اوروں کی تو پھر امتیاز کیا ہوا؟ اور خدا تعالیٰ کو اُن کی رعایت اور حفاظت کی کیا ضرورت ہے ؟ خدا تعالیٰ اُسی وقت رعایت کرے گا جب تقویٰ، طہارت اور سچی اطاعت سے اسے خوش کرو گے۔یادر کھو کہ اس کا کسی سے کچھ رشتہ نہیں ہے۔" یعنی اللہ تعالیٰ کا کسی سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔" محض لاف اور یاوہ گوئی سے کوئی بات نہیں بنا کرتی۔" فضول باتیں کرتے رہو یا دعوے کرتے رہو۔ان دعووں کا کوئی فائدہ