خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 180
خطبات مسرور جلد 16 180 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2018 پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں اس اہم خدمت جو اسلام کی خدمت ہے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : " اب وقت تنگ ہے۔میں بار بار یہی نصیحت کرتا ہوں کہ کوئی جوان یہ بھروسہ نہ کرے کہ اٹھارہ یا انیس سال کی عمر ہے اور ابھی بہت وقت باقی ہے۔تندرست اپنی تندرستی اور صحت پر ناز نہ کرے۔اسی طرح اور کوئی شخص جو عمدہ حالت رکھتا ہے وہ اپنی وجاہت پر بھروسہ نہ کرے۔زمانہ انقلاب میں ہے۔یہ آخری زمانہ ہے۔اللہ تعالیٰ صادق اور کاذب کو آزمانا چاہتا ہے۔اس وقت صدق و وفا کے دکھانے کا وقت ہے اور آخری موقع دیا گیا ہے۔یہ وقت پھر ہاتھ نہ آئے گا۔یہ وہ وقت ہے کہ تمام نبیوں کی پیشگوئیاں یہاں آکر ختم ہو جاتی ہیں۔اس لئے صدق اور خدمت کا یہ آخری موقع ہے جو نوع انسان کو دیا گیا ہے۔اب اس کے بعد کوئی موقع نہ ہو گا۔بڑاہی بد قسمت وہ ہے جو اس موقع کو کھو دے۔" فرماتے ہیں کہ "نر از بان سے بیعت کا اقرار کرنا کچھ چیز نہیں ہے بلکہ کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگو کہ وہ تمہیں صادق بنادے۔اس میں کا ہلی اور سستی سے کام نہ لو بلکہ مستعد ہو جاؤ اور اُس تعلیم پر جو میں پیش کر چکا ہوں عمل کرنے کے لئے کوشش کرو اور اس راہ پر چلو جو میں نے پیش کی ہے۔" (ملفوظات جلد 6 صفحہ 263-264) جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں بھی کہا تھا اور کشتی نوح کے حوالے سے جو بات کی تھی کہ کشتی نوح میں ہماری تعلیم کا جو حصہ ہے وہ ضرور ہر ایک احمدی کو پڑھنا چاہئے بلکہ پوری، کشتی نوح ہی آپ نے فرمایا۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 3 صفحہ 408) ہمیں دعوت الی اللہ کی جو توفیق ملنی ہے، اور ہمیں اعمال صالحہ بجالانے کی جو توفیق ملنی ہے اس کی طرف بھی یہ ہماری تعلیم والے جو ارشادات ہیں وہ رہنمائی کرتے ہیں اور یہی وہ تعلیم ہے جو ہمیں بہترین مومن بنا سکتی ہے۔اعمال صالحہ کی طرف مزید توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : اگر چہ عام نظر میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ لا إِلهَ إِلَّا الله کے بھی قائل ہیں۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی زبان سے تصدیق کرتے ہیں۔بظاہر نمازیں بھی پڑھتے ہیں۔روزے بھی رکھتے ہیں۔مگر اصل بات یہ ہے کہ روحانیت بالکل نہیں رہی اور دوسری طرف ان اعمال صالحہ کے مخالف کام کرنا ہی شہادت دیتا ہے کہ وہ اعمال، اعمالِ صالحہ کے رنگ میں نہیں کئے جاتے " اللہ تعالیٰ کے جو حکم ہیں ان کے مخالف سارے کام کر رہے ہیں۔یہ بات ثابت کرتی ہے کہ جو کام مسلمان کر رہے ہیں وہ اعمال صالحہ نہیں ہیں اور جو بعض نیکیاں کر بھی رہے ہیں وہ صرف فرمایا بلکہ رسم اور عادت کے طور پر کئے جاتے ہیں کیونکہ ان میں اخلاص اور روحانیت کا شمہ بھی نہیں ہے۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ ان اعمال صالحہ کے برکات اور انوار ساتھ نہیں ہیں۔خوب یاد رکھو کہ جب تک سچے دل سے اور روحانیت کے ساتھ یہ اعمال نہ ہوں کچھ فائدہ نہ ہو گا اور یہ اعمال کام نہ آئیں گے۔اعمال صالحہ اُسی وقت اعمال صالحہ کہلاتے ہیں جب ان میں کسی قسم کا فساد نہ ہو۔صلاح کی ضد فساد ہے۔صالح وہ ہے جو فساد سے مبر امنزہ ہو۔جن کی نمازوں میں فساد ہے اور نفسانی اغراض چھپے ہوئے ہیں ان کی نماز یں اللہ تعالیٰ کے واسطے ہر گز نہیں ہیں اور وہ زمین سے ایک