خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 179 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 179

خطبات مسرور جلد 16 179 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2018 کام ہو تا ہے کہ چوپایوں کی طرح کھا پی لینا۔وہ سمجھتے ہیں کہ اتنا گوشت کھاتا ہے۔اس قدر کپڑا پہنتا ہے وغیرہ اور کسی بات کی ان کو پر واہ اور فکر ہی نہیں ہوتی۔ایسے آدمی جب پکڑے جاتے ہیں تو پھر یک دفعہ ہی ان کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔" فرمایا " لیکن جو لوگ خدمت دین میں مصروف ہوں ان کے ساتھ نرمی کی جاتی ہے اس وقت تک کہ جب تک وہ اس کام اور خدمت کو پورا نہ کر لیں۔فرمایا کہ " انسان اگر چاہتا ہے کہ اپنی عمر بڑھائے اور لمبی عمر پائے تو اس کو چاہئے کہ جہاں تک ہو سکے خالص دین کے واسطے اپنی عمر کو وقف کرے۔یہ یادر کھے کہ اللہ تعالیٰ سے دھو کہ نہیں چلتا۔جو اللہ تعالیٰ کو دغا دیتا ہے وہ یاد رکھے کہ اپنے نفس کو دھو کہ دیتا ہے۔وہ اس کی پاداش میں ہلاک ہو جاوے گا۔" فرمایا کہ " پس عمر بڑھانے کا اس سے بہتر کوئی نسخہ نہیں ہے کہ انسان خلوص اور وفاداری کے ساتھ اعلائے کلمتہ الاسلام میں مصروف ہو جاوے اور خدمت دین میں لگ جاوے اور آجکل یہ نسخہ بہت ہی کارگر ہے کیونکہ دین کو آج ایسے مخلص خادموں کی ضرورت ہے۔اگر یہ بات نہیں ہے تو پھر عمر کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے۔یونہی چلی جاتی ہے۔" ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 329-330) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے جو نصیحت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرمائی تھی وہی ہمارے لئے بھی ایک سنہری نصیحت ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر حضرت علیؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ بخدا تیرے ذریعہ ایک آدمی کا ہدایت پا جانا تیرے لئے اعلیٰ درجہ کے سرخ اونٹوں کے مل جانے سے بہتر ہے۔(صحیح البخارى كتاب الجهاد باب من اختار الغزو بعد البناء حديث 2942) سرخ اونٹ اس زمانے میں بڑی قیمتی چیز سمجھی جاتی تھی۔سرخ اونٹ رکھنے والا جو ہو تا ہے وہ امیر کبیر انسان سمجھا جاتا تھا۔پس آپ نے فرمایا یہ دنیاوی مال و متاع جو ہے اس بات کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا کہ تم تبلیغ کر و اور کسی کی ہدایت کا ذریعہ بنو۔پس بیشک یہاں دنیا کمائیں جو یہاں آئے ہوئے ہیں لیکن کچھ وقت تبلیغ کے لئے بھی ضرور دیں۔میں نے تو مہینہ میں ایک دو دن کہا ہے اس سے زیادہ آپ لوگوں کو دینا چاہئے۔اس سے دنیا بھی ملے گی اور اللہ تعالیٰ بھی راضی ہو گا۔جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا کہ تبلیغ کرنے کی وجہ سے اپنا دینی علم بھی بڑھے گا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کسی نیک کام اور ہدایت کی طرف بلاتا ہے اس کو اتناہی ثواب ملتا ہے جتنا کہ ثواب اس پر عمل کرنے والے کو ملتا ہے اور اس کے ثواب میں سے کچھ بھی کم نہیں ہو تا۔(صحیح مسلم کتاب العلم باب من سن سنة حسنة۔۔۔الخ حديث 6804) پس یہ اس آیت کی وضاحت ہے جو شروع میں تلاوت کی گئی تھی کہ اس سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائے۔بلانے والے کو بھی ثواب مل رہا ہے۔نیکی کرنے کا بھی ثواب مل رہا ہے اور جس کو ہدایت مل رہی ہے اس کا بھی ثواب مل رہا ہے۔دعوت الی اللہ کرنے والے کو دنیاوی انعام بھی ملا، عمر میں بھی برکت پڑی اور نیکی کا ثواب بھی ملا۔پس اللہ تعالیٰ کے انعاموں کا وارث بننے کے لئے ہمیں ضرورت ہے کہ اس وقت تبلیغ اور دنیا کی ہدایت کے لئے وقت دیں۔