خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 178
خطبات مسرور جلد 16 178 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2018 دوبارہ قائم ہو، اسلام کی برتری دنیا پر دوبارہ ثابت ہو، مخالفین اسلام کے منصوبوں کو اللہ تعالی تباہ کرنا چاہتا ہے اور تباہ کرنے والا ہے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجنے اور سلسلہ کو قائم کرنے کا انتظام فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ اب اس سلسلہ کی عظمت کو دکھا رہا ہے۔ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: " یہ زمانہ کیسا مبارک زمانہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان پر آشوب دنوں میں محض اپنے فضل۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے اظہار کے لئے یہ مبارک ارادہ فرمایا۔" خدا تعالیٰ نے ان پر آشوب دنوں میں محض اپنے فضل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے اظہار کے لئے یہ مبارک ارادہ فرمایا کہ غیب سے اسلام کی نصرت کا انتظام فرمایا اور ایک سلسلہ کو قائم کیا۔میں ان لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں جو اپنے دل میں اسلام کے لئے ایک درد رکھتے ہیں اور اُس کی عزت اور وقعت اُن کے دلوں میں ہے وہ بتائیں کہ کیا کوئی زمانہ اس زمانے سے بڑھ کر اسلام پر گزرا ہے جس میں اس قدر سب و شتم اور توہین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کی گئی ہو اور قرآن شریف کی ہتک ہوتی ہو ؟ پھر مجھے مسلمانوں کی حالت پر سخت افسوس اور دلی رنج ہوتا ہے۔اور بعض وقت میں اس درد سے بیقرار ہو جاتا ہوں کہ ان میں اتنی حس بھی باقی نہیں رہی کہ اس بے عزتی کو محسوس کر لیں۔کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ بھی عزت اللہ تعالیٰ کو منظور نہ تھی جو اس قدر سب و شتم پر بھی وہ کوئی آسمانی سلسلہ قائم نہ کرتا اور ان مخالفین اسلام کے منہ بند کر کے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی عظمت اور پاکیزگی کو دنیا میں پھیلا تا جبکہ خود اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں تو اس تو ہین کے وقت اس صلوۃ کا اظہار کس قدر ضروری ہے۔اور اس کا ظہور اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کی صورت میں کیا ہے۔" یعنی جماعت احمدیہ کو قائم کر کے۔فرمایا " مجھے بھیجا گیا ہے تاکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کھوئی ہوئی عظمت کو پھر قائم کروں اور قرآن شریف کی سچائیوں کو دنیا کو دکھاؤں اور یہ سب کام ہو رہا ہے۔لیکن جن کی آنکھوں پر پٹی ہے وہ اس کو دیکھ نہیں سکتے حالانکہ اب یہ سلسلہ سورج کی طرح روشن ہو گیا ہے اور اس کی آیات و نشانات کے اس قدر لوگ گواہ ہیں کہ اگر ان کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو ان کی تعداد اس قدر ہو کہ رُوئے زمین پر کسی بادشاہ کی بھی اتنی فوج نہیں ہے۔اس قدر صورتیں اس سلسلہ کی سچائی کی موجود ہیں کہ ان سب کو بیان کرنا بھی آسان نہیں۔چونکہ اسلام کی سخت تو ہین کی گئی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اسی توہین کے لحاظ سے اس سلسلہ کی عظمت کو دکھایا ہے۔" (ملفوظات جلد 5 صفحہ 13-14) اور ہم گواہ ہیں کہ یہ عظمت اللہ تعالیٰ دکھا رہا ہے۔یہاں بھی پریس کی اور لوگوں کی توجہ پیدا ہوئی ہے اور دنیا کے بعض ممالک میں اس کے کھل کر اظہار بھی ہو رہے ہیں۔پس یقینا یہ باتیں جو ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بات کی تصدیق کرنے والی ہیں۔اور جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے کام تو وہ خود کر رہا ہے لیکن اس میں ہمیں حصہ دار بنانا چاہتا ہے اس لئے اس میں حصہ دار بنیں اور بھر پور طریقے سے بنیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ ہمیں یہ بتاتے ہوئے کہ عمر بڑھانی ہے تو تبلیغ کے کام میں مصروف ہو جاؤ، فرماتے ہیں کہ : "سب آدمی اپنے اپنے کام اور غرض سے جس کے لئے وہ آئے ہیں واقف نہیں ہوتے۔بعض کا اتنا ہی