خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 177 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 177

خطبات مسرور جلد 16 177 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2018 جامعہ کے وہ لڑکے جو یہاں آتے ہیں ان کا بھی عمومی تاثر یہی ہے کہ سپین کے لوگ زیادہ بہتر طریق پر لٹریچر وصول کرتے ہیں اور عموماً عزت اور احترام سے ملتے ہیں اور پڑھتے ہیں۔بہت کم ہیں جو پھینکتے ہوں۔عموماً دیکھتے ہیں ، پڑھتے ہیں اور پھر جیب میں ڈال لیتے ہیں۔اسی طرح ہماری ایک سپینش خاتون ہیں جو احمدی ہوئی ہیں اور لندن میں رہتی ہیں۔وہاں ہمارے سیکرٹری نو مبایعین کی اہلیہ ہیں۔ان کا خاندان یہیں ہے۔ماں باپ یہیں ہیں۔وہ بھی یہاں آتی ہیں تو مختلف سکولوں میں یا یونیورسٹی میں ، کالجوں میں جا کر تبلیغ کرتی ہیں۔وہ لندن سے آکے مواقع تلاش کر لیتی ہیں کہ کس طرح جماعت کا تعارف کروانا ہے اور اسلام کا پیغام پہنچانا ہے تو جو یہاں رہنے والے ہیں ، مربیان ہیں وہ ایسے مواقع کیوں نہیں پیدا کر سکتے۔پس یہاں رہنے والے احمدی عہدیداروں اور مربیان کو اس بارے میں ایک مضبوط اور مربوط پروگرام بنانا چاہئے۔نواحمدی سپینش جس کا میں نے ذکر کیا ہے ان کو بھی میں نے یہی کہا تھا کہ تمہارے خیال میں تبلیغ کے جو بہترین طریقے ہو سکتے ہیں وہ مجھے لکھ کر بھجواؤ۔جب اس کا وہ مشورہ آئے گا تو وہ بھی یہاں بھجوادوں گا۔اگر وہ قابل عمل ہے اور آپ لوگوں کو سمجھ آتی ہے تو پھر اس کے مطابق عمل ہونا چاہئے۔لیکن اصل چیز یہی ہے کہ آپس کے تعاون کی ضرورت ہے۔ذاتیات سے ہٹ کر جماعتی مفادات کو مقدم رکھنے کی ضرورت ہے۔اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے احمدی ہو کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں اور ایک خاص جوش، جذبے اور لگن سے ادا کرنی ہیں۔صرف سال بعد نئے مربیان کے یہاں مہینہ کے لئے آکر لٹریچر تقسیم کرنے سے مقصد پورا نہیں ہو گا۔میں نے ان لوگوں کو اس لئے بھجوانا شروع کیا تھا کہ ایک تو آپ کی مدد ہو جائے گی کیونکہ یہاں افراد جماعت کی تعداد کم ہے۔دوسرے اس طرح آپ کے دل میں بھی تبلیغ کا شوق پیدا ہو گا یاز بان صحیح طرح نہ آنے کی وجہ سے کم از کم تبلیغ کرنے کے لئے جو حجاب ہے وہ دُور ہو گا اور سب تبلیغ کے کام میں شامل ہو جائیں گے۔جو مربیان نئے آتے ہیں ان کو تو زبان نہیں آتی لیکن پھر بھی ہر جگہ جاتے ہیں اور اپنا مقصد پورا کر لیتے ہیں۔پس یہ احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دعوت الی اللہ کا کام جو ایک حقیقی مومن کے سپرد کیا ہے اسے ہم نے بھی پورا کرنا ہے۔ایک تڑپ اور جذبے سے اس میں حصہ لیتا ہے اور اس کام میں سب سے زیادہ مربیان کا پہلے فرض ہے کہ وہ تبلیغ کے مختلف راستے تلاش کریں۔افراد کو بتائیں اور افراد جماعت کو ساتھ لے کر چلیں۔جو نیشنل سیکرٹری تبلیغ ہیں وہ تبلیغ کے بارے میں بڑے جذبے کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔انہوں نے کھل کر تو مجھے نہیں کہا لیکن لگتا ہے کہ انہیں بجٹ کا بھی مسئلہ رہتا ہے۔افراد جماعت کے تعاون کا بھی مسئلہ رہتا ہے۔پس یہ امیر جماعت کی بھی ذمہ داری ہے کہ اگر سیکرٹری تبلیغ اور مربیان اور افراد جماعت کو بجٹ کا مسئلہ ہے تو حل کریں، مجھے لکھیں۔اور اس کے لئے امیر جماعت کا بھی کام ہے کہ بھر پور تعاون دیں۔پہلے بھی تو اخراجات بہت سارے مرکز پورے کرتا ہے۔یہی طریق ہے جس سے ہم اسلام کی کھوئی ہوئی شان دوبارہ قائم کر سکتے ہیں۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد تھا۔زمانے کی حالت کا نقشہ کھینچتے ہوئے اور اسلام کی موجودہ حالت کو سامنے رکھ کر اپنے دل کے درد کا ذکر فرماتے ہوئے اور یہ بتاتے ہوئے کہ اب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اسلام کی شان و شوکت