خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 176
خطبات مسرور جلد 16 176 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2018 دینی چاہئے کہ جو کام اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے اس میں حصہ دار بن کر ثواب میں حصہ لیں۔اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنیں۔پس آپ لوگ جو یہاں سپین میں ہیں وقت نکال کر مہینہ میں کم از کم ایک دو دن تبلیغ کے لئے دیں۔یہاں کے لوگوں کی نفسیات کے مطابق تبلیغ کے مختلف طریقے تلاش کریں۔ایک نواحمدی سپینش ہیں دو تین دن ہوئے مجھے ملنے آئے تو کہنے لگے کہ جس طرح ہمیں یہاں اسلام کی تبلیغ کرنی چاہئے ہم اس طرح نہیں کر رہے، جماعت نہیں کر رہی۔بلکہ ان کے خیال میں ایک آدھ مربی کے علاوہ مربیان بھی سپینش نفسیات کو سمجھتے ہوئے تبلیغ نہیں کر رہے یا ان کو پتا نہیں کس طرح تبلیغ کرنی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہم بیشک یورپ میں شمار ہوتے ہیں لیکن ہماری نفسیات یورپ سے کچھ مختلف ہے۔یورپ کے لوگوں کی طرح آجکل کے حالات کی وجہ سے اسلام سے اور مسلمانوں سے ہم یہاں کے لوگ خوفزدہ بھی ہیں۔یورپ کا اثر ہے۔لیکن ساتھ ہی مسلمانوں کے ایک لمبا عرصہ سپین میں رہنے کی وجہ سے غیر محسوس طریقے پر ہمارے اندر مسلمانوں سے تعلق کا جذبہ بھی ہے جسے ابھارنے کی ضرورت ہے۔خاص طور پر بعض علاقوں میں جیسے اندلس کا صوبہ ہے۔نہیں ہمارے مرکزی تبلیغ سیکرٹری بھی اور جماعتوں کے تبلیغی سیکرٹریان بھی اور دوسرے عہدیدار بھی جہاں حالات کے مطابق منصوبہ بندی کریں وہاں ہر احمدی کو بھی خدام، انصار، لجنہ کو بھی تبلیغ کے لئے وقت دینا چاہئے۔یہاں مسلمانوں کو سات آٹھ سو سال پہلے تلوار کے زور پر عیسائی بنایا گیا لیکن ہم نے محبت پیار اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کے ذریعہ دلوں کو جیتنا ہے۔جماعت کا تعارف، اسلام کا تعارف تو یہاں وسیع پیمانے پر اب ہو رہا ہے۔ٹی وی چینل اور اخبار جماعت کے بارے میں لکھتے ہیں اور اس ذریعہ سے بھی ایک تبلیغ ہو رہی ہے۔قرطبہ کے ایک اخبار کے ایڈیٹر یا شاید مالک مجھے ملنے آئے تھے۔انہوں نے اخبار دکھایا کہ کس طرح میں جماعت کے بارے میں لکھتا ہوں اور پورا صفحہ لکھا ہوا ہے۔لندن میں جب ہمارا پیس سمپوزیم ہوا ہے تو وہاں بھی یہاں کے اخبار والے اور ٹی وی چینل کے نمائندے آئے ہوئے تھے۔ٹی وی چینل کے نمائندے نے میرا انٹر ویو بھی لیا اور پھر یہاں آکر اپنے ٹی وی چینل پر جماعت کے بارے میں اور جماعت اسلام کی جو پرامن تعلیم پیش کرتی ہے اس کے بارے میں ایک پروگرام بھی دکھایا۔میرے انٹر ویو کا کچھ حصہ بھی اس میں دکھایا۔تو اب سپین کی وہ صور تحال نہیں ہے جو آج سے پینتیس چالیس سال پہلے تھی۔آج اگر پیغام پہنچانے میں کمی ہے تو ہماری طرف سے ہے۔پھر یہاں مختلف شہروں میں مرا کو اور دوسرے عرب ممالک کے لوگ آکر بس گئے ہیں۔ان کے علاقوں میں عربی بولنے والوں کے ذریعہ سے تبلیغ کی جائے۔عربی لٹریچر تقسیم کیا جائے۔سپینش زبان میں لٹریچر کا جہاں تک تعلق ہے اور اسلام اور احمدیت کے تعارف پر مبنی لٹریچر کا جہاں تک تعلق ہے گزشتہ چند سال سے میں یو کے اور جرمنی کے فارغ التحصیل طلباء جو شاہد کر کے میدان عمل میں آنے والے ہیں ، ان کو میدان عمل میں بھیجنے سے پہلے یہاں بھیجتا ہوں اور وہ ہر شہر میں یہ لٹریچر تقسیم کرتے ہیں۔میرے خیال میں شاید تین ملین سے زیادہ کی تعداد میں لٹریچر تقسیم ہو چکا ہو گا۔نئے مربیان اور