خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 175
خطبات مسرور جلد 16 175 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2018 ذریعہ خوشخبری بھی دی ہے۔ایک تو كتب الله لا غلبن کا ذکر ہو چکا ہے۔اس کے علاوہ بھی کئی الہام ہیں۔چند (تذکرہ صفحہ 574 ایڈیشن چہارم) اللہ تعالیٰ اپنے دین میں تمہاری مدد کرے گا۔یعنی جس کام کو آپ پھیلا رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کا دین ہے وہ ایک بیان کرتا ہوں۔مثلاً فرمایا يَنْصُرُ كُمُ اللهُ فِي دِينِهِ اسلام ہے۔پھر ایک الہام ہے کہ يَنْصُرُكَ اللهُ مِنْ عِنْدِهِ ( تذکرہ صفحہ 39 ایڈ یشن چہارم) خدا اپنی طرف سے تیری مدد کرے گا۔پھر ایک الہام ہے کہ " میں تجھے زمین کے کناروں تک عزت کے ساتھ شہرت دوں گا۔" (تذکرہ صفحہ 149 ایڈیشن چہارم) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت قائم ہو گی اور اسلام کا پیغام پہنچانے کی وجہ سے قائم ہو گی اور اللہ تعالی کی طرف سے قائم ہو گی۔پھر یہ الہام ہے جو ہر جگہ کافی مشہور بھی ہے اور ہر جگہ کہا جاتا ہے۔اس کا میں ذکر کرنا پہلے چاہتا تھا کہ "میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہونچاؤں گا۔" ( تذکرہ صفحہ 260 ایڈیشن چہارم) ہر کوئی جانتا ہے، ہر کوئی کہتا ہے۔پس اس میں تو کوئی شک نہیں کہ آپ کا پیغام دنیا میں پہنچنا ہے اور دنیا آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق اور ایک جری پہلو ان کی حیثیت سے جانے گی اور جان رہی ہے۔ایم ٹی اے کی غیر معمولی افادیت اور اہمیت: اب ہم دیکھتے ہیں کہ ایم ٹی اے کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ دنیا میں خود پیغام پہنچا رہا ہے۔بھی کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ ہمارے دنیاوی وسائل کبھی بھی اس بات کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے یا کم از کم اس وقت تک اس بات کے متحمل نہیں ہیں کہ ہم ٹی وی چینل چلائیں ، چوبیس گھنٹے چلائیں اور دنیا کی مختلف زبانوں میں پروگرام دیں اور دنیا کے ہر خطے میں اس کے پروگرام پہنچ رہے ہوں اور دنیا کے جو مختلف خطے ہیں، ان میں ہر خطہ میں ، میرے خطبات کے ترجمے پہنچ رہے ہوں۔چھ سات زبانوں میں ساتھ کے ساتھ رواں ترجمہ ہو رہا ہے۔یہ سب اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے وعدوں کا نتیجہ ہے۔اور پھر اس کے ذریعہ یعنی میرے خطبات کے ذریعہ اور پروگراموں کے ذریعہ اور ایم ٹی اے کے مختلف پروگراموں کے ذریعہ سعید فطرت لوگ احمدیت میں شامل ہو رہے ہیں۔مجھے کئی لوگ لکھتے ہیں کہ کس طرح ایم ٹی اے پر آپ کے خطبات نے یا دوسرے پروگراموں نے ہم پر اثر ڈالا اور ہم نے احمدیت میں دلچسپی لی اور اللہ تعالیٰ نے احمدیت قبول کرنے کی توفیق دی۔دو تین دن ہوئے Guadelope کے مربی کے ساتھ وہاں کے نواحمدی کا ایک پروگرام آ رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ احمدیت کا تعارف تو مجھے ہو گیا لیکن میں بیعت نہیں کر رہا تھا اور خطبات سننے کے بعد پھر تسلی ہوئی اور ان کے ذریعہ پھر مجھے بیعت کی بھی تحریک پیدا ہوئی۔پس یہ تو اللہ تعالیٰ کے کام ہیں اور اس کے وعدے ہیں۔یہ تو پورے ہوتے رہیں گے انشاء اللہ۔اس میں ہمارا یا کسی انسانی کوشش کا کمال نہیں ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بہترین مومن کی نشانی یہ ہے کہ وہ دعوت الی اللہ کرے۔پس اللہ تعالیٰ ہمیں اس کام میں حصہ دار بنانا چاہتا ہے جو کام وہ خود کر رہا ہے اور جس کے کرنے کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ہمیں تو اللہ تعالیٰ ثواب میں شامل کرنا چاہتا ہے۔پس ہر احمدی کو اس بات کو اہمیت