خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 173
خطبات مسرور جلد 16 173 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2018 تمہارا دینی علم بھی بے فائدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے کا عمل بھی اللہ تعالیٰ کی برکات اور بہتر نتائج سے خالی ہو گا۔جب یہ صورتحال ہو تو پھر دعوت الی اللہ کی تمام کوششیں بریکار گئیں۔اور اللہ تعالیٰ کی رضا بھی پھر حاصل نہ ہوئی۔اور پھر تیسری خصوصیت یہ بیان فرمائی کہ حقیقی مومن یہ اعلان کرے کہ میں کامل فرمانبر داروں میں سے ہوں۔یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکامات پر کامل ایمان لاتا ہوں اور نہ صرف ایمان لا تا ہوں بلکہ ان کو اپنی زندگی کا حصہ بناتا ہوں۔میں دین کو دنیا پر مقدم کرنے والا ہوں اور رہوں گا۔فرمانبر داری میں خلیفہ وقت اور نظام جماعت کی اطاعت اور فرمانبرداری بھی آجاتی ہے۔یہ کہنا کہ میں بڑی تبلیغ کر رہا ہوں ، میرے پاس بڑا علم ہے، مجھے کسی نظام کی ضرورت نہیں ہے، یہ طریق اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔اس زمانے میں اللہ تعالیٰ ایک جماعت قائم کرنا چاہتا تھا اور اس نے قائم کر دی۔پس اس کے ساتھ جڑنا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ بیشک دعوت الی اللہ بڑی اچھی بات ہے لیکن یہ اعلان بھی ضروری ہے کہ اتنی مِنَ الْمُسْلِمِینَ کہ میں اطاعت کے اعلیٰ معیار قائم رکھتے ہوئے فرمانبر داری کا بھی اعلان کرتا ہوں۔اسی طرح عمل صالح اور نیک عمل اور تقویٰ کے معیار بھی اسی وقت حاصل ہوتے ہیں جب اطاعت اور فرمانبرداری کا معیار بھی بلند ہو گا۔بعض دفعہ بظاہر نیک یا دین کا کام کرنے والے لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کا انجام نظر آتا ہے کہ اچھا نہیں ہوا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک مومن کو ، ایک عمدہ ترین بات کہنے والے کو بھی اعلیٰ نمونہ دکھانے والے کے معیار اس وقت حاصل ہوں گے اور نتیجہ خیز ہوں گے جب وہ یہ اعلان بھی کرے کہ میں فرمانبر دار ہو تا ہوں۔میں اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے نظام کی کامل فرمانبرداری اور اطاعت کرتا ہوں۔اور ہم احمدیوں کے لئے یہ معیار جو کامل فرمانبر داری کے ہیں تبھی قائم ہوں گے ، ہماری تبلیغ تبھی کامیاب ہو گی اور ہماری نیکیاں تبھی عمل صالح کہلائیں گی جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد نظام خلافت کی بھی پوری اطاعت کرنے والے ہوں گے اور خلافت کے زیر انتظام جو نظام ہے اس سے بھی تعاون کرنے والے ہوں گے۔ہماری انفرادی اور اجتماعی کوششوں میں برکت تبھی پڑے گی جب جماعت کا ہر فرد اور ہر عہدیدار بھی، ہر کارکن بھی اور ہر مربی بھی نظام کو سمجھنے اور ایک دوسرے کے حق ادا کرنے والا ہو گا۔اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا ہے اور ان وعدوں کے مطابق بھیجا ہے کہ جن کاموں کی تکمیل آپ کے سپر د ہے وہ انشاء اللہ پورے ہونے ہیں۔کچھ تو آپ کی زندگی میں پورے ہوئے اور کچھ آپ علیہ السلام کی زندگی کے بعد پورے ہونے تھے اور ہو رہے ہیں اور آپ کے ذریعہ سے اسلام کا پیغام بھی دنیا کے کونے کونے میں پہنچ رہا ہے اور آہستہ آہستہ پاک دل احمدیت اور اسلام کی آغوش میں آرہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کو جن مقاصد کے لئے بھیجتا ہے ان کو پورا فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ : كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَ آنَا وَرُسُلِى (المجادلة:22 ) کہ اللہ تعالیٰ نے