خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 172
خطبات مسرور جلد 16 172 16 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 20 / اپریل 2018ء بمطابق 20 / شہادت 1397 ہجری بمقام مسجد بشارت، پید رو آباد، سپین تشہد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مَنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔(حم السجدۃ:34) اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ اور بات کہنے میں اس سے بہتر کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک اعمال بجالائے اور کہے کہ میں یقینا کامل فرمانبرداروں میں سے ہوں۔یہ آیت ایک کامل مثال ہے اور ان تمام خصوصیات کو سمیٹے ہوئے ہے جو ایک مومن کا خاصہ ہونا چاہئے۔ایک حقیقی مسلمان سے زیادہ کون ان باتوں کو کرنے والا ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جو یہ تین باتیں یا تین خصوصیات بتائی ہیں اگر کسی میں ہوں تو اس کی زندگی میں انقلاب پیدا ہو سکتا ہے اور ایسا شخص نہ صرف اپنی زندگی میں انقلاب پیدا ہو سکتا ہے بلکہ معاشرے میں بھی انقلاب پیدا کرنے والا بن سکتا ہے۔یہ جو تین باتیں ہیں یعنی دعوت الی اللہ کرنا، عمل صالح کرنا اور اطاعت اور فرمانبرداری کا نمونہ دکھا کر یہ اعلان کرنا کہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تمام باتوں پر عمل کرنے والا یا عمل کرنے کی حتی المقدور کوشش کرنے والا ہوں۔یہ باتیں ایسی ہیں جن میں سے پہلی بات ایک مومن کو دینی علم سیکھنے اور اسے دنیا کو سکھانے والا بناتی ہے۔جو یہ سکھاتی ہے کہ دنیا کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ کے حق کیا ہیں اور تم نے انہیں کس طرح ادا کرنا ہے۔یہ بتاتی ہے کہ دوسروں کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر ایک دوسرے کے کیا حقوق رکھے ہیں اور تم نے انہیں کس طرح ادا کرنا ہے۔دوسروں کو بتانے کی طرف تبھی توجہ پیدا ہو سکتی ہے جب دوسروں کے لئے ایک درد دل میں ہو۔ان کو شیطان کے نرغے اور قبضہ سے بچانے کے لئے ایک تڑپ اور توجہ ہو۔عباد الرحمن کے گروہ کو بڑھانے کے لئے ایک تڑپ ہو۔جس میں یہ خصوصیت پیدا ہو جائے یا اللہ تعالیٰ کے قریب لانے کے لئے ایک جذبہ اور شوق ہو خاص طور پر ایسے حالات میں جبکہ شیطان کے منصوبے اور اللہ تعالیٰ سے دُور کرنے کے لئے مختلف دلچسپیوں کے سامان اپنی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں۔ایسے حالات میں خدا تعالیٰ کا خوف رکھنے والا اور اس کے قرب کو تلاش کرنے والا ہی یہ کوشش اور جد وجہد کر سکتا ہے۔پھر دوسری خصوصیت یہ ہے کہ فرمایا کہ عمل صالح بجالاؤ۔یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حق ادا کرنے کی طرف نہ صرف توجہ دو بلکہ خود ایک مثال بن کر اپنا نمونہ دوسروں کے لئے قائم کرو ورنہ اگر اپنا عمل نہیں تو