خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 170
خطبات مسرور جلد 16 170 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2018 ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 348 تا 349) چاہئے کہ یہ جو اُن کے کمزوری کے حالات ہیں اور حکومت بھی اور قانونی ادارے بھی اور انتظامیہ بھی ان کے خلاف پہلے سے بڑھ کر حرکتیں کر رہے ہیں۔ان دنوں میں خاص طور پر اپنی حالتوں میں تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔فرمایا کہ " کمزوری کے ایام ہیں ہر ایک شخص کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنی اصلاح کرے اور اپنی حالت میں تبدیلی کرے۔دیکھو ایک دوسروں کا شکوہ کرنا، دل آزاری کرنا اور سخت زبانی کر کے دوسرے کے دل کو صدمہ پہنچانا اور کمزوروں اور عاجزوں کو حقیر سمجھنا سخت گناہ ہے۔اب تم میں ایک نئی برادری اور نئی اخوت قائم ہوئی ہے۔پچھلے سلسلے منقطع ہو گئے ہیں۔خدا تعالیٰ نے یہ نئی قوم بنائی ہے جس میں امیر غریب بچے جو ان بوڑھے ہر قسم کے لوگ شامل ہیں۔پس غریبوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے معزز بھائیوں کی قدر کریں اور عزت کریں اور امیروں کا فرض ہے کہ وہ غریبوں کی مدد کریں۔ان کو فقیر اور ذلیل نہ سمجھیں کیونکہ وہ بھی بھائی ہیں گو باپ جدا جدا ہوں۔مگر آخر تم سب کا روحانی باپ ایک ہی ہے اور وہ ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں۔" کشتی نوح کے مطالعہ کی تحریک: آپ نے ہماری اصلاح کے لئے اپنی کتاب "کشتی نوح " پڑھنے کی تلقین فرمائی اور اس کو بار بار پڑھنے کا ارشاد فرمایا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ : " میں نے بارہا اپنی جماعت کو کہا ہے کہ تم نے اس بیعت پر ہی بھروسہ نہ کرنا۔اس کی حقیقت تک جب تک نہ پہنچو گے تب تک نجات نہیں۔قشر پر صبر کرنے والا مغز سے محروم ہو تا ہے۔"صرف ظاہری شیل (shell) کو دیکھنا کافی نہیں ہے جب تک اس کے اندر جو چیز ہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو۔فرمایا کہ "اگر مرید خود عامل نہیں تو پیر کی بزرگی اسے کچھ فائدہ نہیں دیتی۔جب کوئی طبیب کسی کو نسخہ دے اور وہ نسخہ لے کر طاق میں رکھ دے تو اسے ہر گز فائدہ نہ ہو گا۔" اسی طرح ہے جس طرح ڈاکٹر سے نسخہ لے کے اس کو استعمال نہ کرو اور کہو کہ میں ٹھیک نہیں ہوا۔یہی حال روحانی مریضوں کا ہے۔اگر باتیں سن کے پھر عمل نہیں کروگے تو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔فرمایا" ہر گز فائدہ نہ ہو گا کیونکہ فائدہ تو اس پر لکھے ہوئے عمل کا نتیجہ تھا جس سے وہ خود محروم ہے۔" فرمایا کہ "کشتی نوح کا بار بار مطالعہ کرو اور اس کے مطابق اپنے آپ کو بناؤ۔قد افلَحَ مَنْ زَكيها (الشمس: 10) " يقيناوه فلاح پا گیا، کامیاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا۔فرمایا کہ یوں تو ہزاروں چور، زانی، بدکار، شرابی، بد معاش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کیا وہ در حقیقت ایسے ہیں ؟ ہر گز نہیں۔انتی وہی ہے جو آپ کی تعلیمات پر پورا کار بند ہے۔" ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 232-233) پھر اس " کشتی نوح" کو جماعتوں میں پڑھ کر سنانے اور پڑھنے کی طرف توجہ دلانے، اس کا التزام کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ " کشتی نوح میں میں نے اپنی تعلیم لکھ دی ہے اور اس سے ہر ایک شخص کو آگاہ ہونا ضروری ہے۔چاہئے کہ ہر ایک شہر کی جماعت جلسے کر کے سب کو یہ سنادے۔ایک مستعد اور فارغ شخص کو بھیج دی جاوے جو پڑھ کر سنادے اور اگر یونہی تقسیم کرنے لگو تو خواہ پچاس ہزار ہو کافی نہیں ہو سکتی ہیں۔اس ترکیب سے اس کی اشاعت بھی ہو جائے گی اور وہ وحدت جو ہم چاہتے ہیں جماعت میں پیدا ہونے لگے گی۔" ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 408) پس اس کے لئے اس کو جہاں پڑھنے اور سنانے کا جماعتوں میں انتظام ہونا چاہئے اور اسی طرح ایم ٹی اے