خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 169 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 169

خطبات مسرور جلد 16 169 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2018 ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 347 تا 348) پردہ پوشی کرنی چاہئے نہ کہ اس کے عیبوں کا اظہار کیا جائے، اس کی کمزوریوں کو باہر نکالا جائے۔آجکل یہ عجیب رواج پیدا ہو گئے ہیں۔اب خاوند بیوی بھی ایک دوسرے کی کمزوریاں ظاہر کرنے لگ گئے ہیں اور اس کے لئے ریکارڈنگ کرنی شروع کر دیتے ہیں۔فرمایا کہ " ذرا ذراسی بات پر ایسی سخت گرفتیں نہیں ہونی چاہئیں جو دل شکنی اور رنج کا موجب ہوتی ہیں۔" پھر بھائی چارے اور ہمدردی کی نصیحت فرماتے ہوئے آپ مزید فرماتے ہیں کہ "ہماری جماعت کو سر سبزی نہیں آئے گی جب تک وہ آپس میں سچی ہمدردی نہ کریں۔اگر پھلنا پھولنا ہے تو پھر آپس میں سچی ہمدردی ہونی چاہئے۔" جو پوری طاقت دی گئی ہے وہ کمزور سے محبت کرے۔" جس کو بھی طاقت دی گئی ہے وہ کمزور سے محبت کرے۔فرماتے ہیں کہ "میں جو یہ سنتاہوں کہ کوئی کسی کی لغزش دیکھتا ہے تو وہ اس سے اخلاق سے پیش نہیں آتا بلکہ نفرت اور کراہت سے پیش آتا ہے حالانکہ چاہئے تو یہ کہ اس کے لئے دعا کرے، محبت کرے اور اسے نرمی اور اخلاق سے سمجھائے۔مگر بجائے اس کے کینہ میں زیادہ ہوتا ہے۔اگر عفو نہ کیا جائے، ہمدردی نہ کی جاوے اس طرح پر بگڑتے بگڑتے انجام بد ہو جاتا ہے۔" فرمایا کہ " خدا تعالیٰ کو یہ "حرکتیں "منظور نہیں۔جماعت تب بنتی ہے کہ بعض بعض کی ہمدردی کر کے پردہ پوشی کی جاوے۔جب یہ حالت پید اہو تب ایک وجود ہو کر ایک دوسرے کے جوارح ہو جاتے ہیں اور اپنے تئیں حقیقی بھائی سے بڑھ کر سمجھتے ہیں۔ایک شخص کا بیٹا ہو اور اس سے کوئی قصور سر زد ہو تو اس کی پردہ پوشی کی جاتی ہے اور اس کو الگ سمجھا جاتا ہے۔کبھی نہیں چاہتا کہ اس کے لئے اشتہار دے۔" اپنے بیٹے کی کوئی برائی دیکھتا ہے تو دنیا میں اس کی برائیاں نہیں پھیلا تا۔قریبی تعلق والا ہو تو اس کی برائیوں کو چھپایا جاتا ہے اس کو پھیلایا نہیں جاتا۔فرمایا کہ " پھر جب خدا تعالیٰ بھائی بناتا ہے تو کیا بھائیوں کے حقوق یہی ہیں ؟" یہاں بھائی سے مراد ہر قریبی رشتہ ہے۔دنیا کے بھائی اخوت کا طریق نہیں چھوڑتے۔" اپنے رشتہ داروں کی مثال دی کہ " میں مرزا نظام الدین و غیرہ کو دیکھتا ہوں۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رشتہ دار تھے مرزا نظام الدین وغیرہ جو آپ کے مخالف بھی تھے اور دین سے بھی ہٹے ہوئے تھے کہ ان کی اباحت کی زندگی ہے۔مگر جب کوئی معاملہ ہو تو تینوں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔فقیری بھی الگ رہ جاتی ہے۔فرمایا کہ " بعض وقت انسان، جانور ، بند ریا کتے سے بھی سیکھ لیتا ہے۔یہ طریق نامبارک ہے کہ اندرونی پھوٹ ہو۔خدا تعالیٰ نے صحابہ کو بھی یہی طریق و نعمت ، اخوت یاد دلائی ہے۔اگر وہ سونے کے پہاڑ بھی خرچ کرتے تو وہ اخوت ان کو نہ ملتی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان کو ملی۔اسی طرح پر خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور اسی قسم کی اخوت وہ یہاں قائم کرے گا۔" فرمایا" خدا تعالیٰ پر مجھے بہت بڑی امیدیں ہیں۔اس نے وعدہ کیا ہے۔جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ (آل عمران: 56) " یعنی ان لوگوں کو جنہوں نے تیری پیروی کی ہے ان لوگوں پر جنہوں نے انکار کیا ہے قیامت کے دن تک بالا رکھنے والا ہوں ، فوقیت دینے والا ہوں۔فرمایا کہ " میں یقیناً جانتا ہوں کہ وہ ایک جماعت قائم کرے گا جو قیامت تک منکروں پر غالب رہے گی مگر یہ دن جو ابتلاء کے دن ہیں اور کمزوری کے ایام ہیں۔" اس زمانے میں کمزوری کے ایام تھے۔آجکل پھر خاص طور پر پاکستان میں احمدیوں کو اس بات پر نظر رکھنی