خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 168 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 168

168 خطبات مسرور جلد 16 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2018 اپنی صلاحیتوں کے مطابق وہ پہنچتے ہیں۔جو کمزور ہیں ان کو بھی ساتھ لے کر چلنا ان کا کام ہے جو بہتر ہیں۔فرمایا کہ " پس یہ دستور ہونا چاہئے کہ کمزور بھائیوں کی مدد کی جاوے اور ان کو طاقت دی جاوے۔یہ کس قدر نامناسب بات ہے کہ دو بھائی ہیں۔ایک تیر نا جانتا ہے اور دوسرا نہیں۔تو کیا پہلے کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ وہ دوسرے کو ڈوبنے سے بچاوے یا اس کو ڈوبنے دے اس کا فرض ہے کہ اس کو غرق ہونے سے بچائے۔اسی لئے قرآن شریف میں آیا ہے تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى (المائدہ: 3) " کہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے سے تعاون کرو۔فرمایا کہ "کمزور بھائیوں کا بار اٹھاؤ، عملی، ایمانی اور مالی کمزوریوں میں بھی شریک ہو جاؤ۔" عملی کمزوریاں ہیں تو ان میں بھی شریک ہو جاؤ۔کس طرح ہو جاؤ کہ ان کی عملی کمزوریاں اختیار کر لو!؟ نہیں۔ان کو دُور کرنے کی کوشش کرو۔ایمان میں ان کی کمزوریاں ہیں تو اگر تمہارا ایمان مضبوط ہے تو ان کے ایمان کو بچانے کی کوشش کرو۔مالی کمزوریاں ہیں تو ان کی مالی مدد اگر کر سکتے ہو تو وہ کرو۔نہیں تو نظام جماعت کو بتاؤ کہ جس حد تک نظام جماعت کر سکتا ہے مدد کرے۔فرمایا کہ "بدنی کمزوریوں کا بھی علاج کرو۔" صحت کی حالت نہیں ہے ، ظاہری بیماریاں ہیں ان کا بھی علاج کرو۔فرمایا " کوئی جماعت جماعت نہیں ہو سکتی جب تک کمزوروں کو طاقت والے سہارا نہیں دیتے اور اس کی یہی صورت ہے کہ ان کی پردہ پوشی کی جاوے۔" ایک دوسرے کے عیب بتانے کی بجائے پردہ پوشی کی جائے۔" صحابہ کو یہی تعلیم ہوئی کہ نئے مسلموں کی کمزوریاں دیکھ کر نہ چڑو۔کیونکہ تم بھی ایسے ہی کمزور تھے۔اسی طرح یہ ضروری ہے کہ بڑا چھوٹے کی خدمت کرے اور محبت اور ملائمت کے ساتھ برتاؤ کرے۔دیکھو وہ جماعت جماعت نہیں ہو سکتی جو ایک دوسرے کو کھائے اور جب چار مل کر بیٹھیں تو ایک اپنے غریب بھائی کا گلہ کریں۔"کوئی ایک دوسرے کو کھا تو نہیں سکتا۔یہاں کھانے سے مراد یہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم چغلیاں کرتے ہو ، بدظنیاں کرتے ہو تو اسی طرح ہے جیسے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاتے ہو۔پس برائیاں نہ دیکھو۔ہر ایک کی اچھائیاں دیکھو۔فرمایا کہ "وہ جماعت جماعت نہیں ہو سکتی جو ایک دوسرے کو کھائے اور جب چار مل کر بیٹھیں تو ایک اپنے غریب بھائی کا گلہ کریں " اس کی برائیاں بیان کرنی شروع کر دیں " اور نکتہ چینیاں کرتے رہیں اور کمزوروں اور غریبوں کی حقارت کریں اور ان کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھیں۔ایسا ہر گز نہیں چاہئے۔بلکہ اجماع میں چاہئے کہ قوت آجاوے اور وحدت پیدا ہو جاوے جس سے محبت آتی ہے اور برکات پیدا ہوتے ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ ذرا ذرا سی بات پر اختلاف پیدا ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مخالف لوگ جو ہماری ذرا ذراسی بات پر نظر رکھتے ہیں معمولی باتوں کو اخباروں میں بہت بڑی بنا کر پیش کر دیتے ہیں۔" آپ نے فرمایا اور خلق کو " اس وجہ سے پھر گمراہ کرتے ہیں۔"لوگوں کو بتاتے ہیں کہ دیکھو ان میں یہ یہ برائیاں ہیں اور عام لوگ تحقیق تو کرتے نہیں اور گمراہ ہو جاتے ہیں۔فرمایا لیکن اگر اندرونی کمزوریاں نہ ہوں تو کیوں کسی کو جرات ہو کہ اس قسم کے مضامین شائع کرے اور ایسی خبروں کی اشاعت سے لوگوں کو دھو کہ دے۔کیوں نہیں کیا جاتا کہ اخلاقی قوتوں کو وسیع کیا جاوے اور یہ تب ہوتا ہے کہ جب ہمدردی، محبت اور عفو اور کرم کو عام کیا جاوے اور تمام عادتوں پر رحم ، ہمدردی اور پردہ پوشی کو مقدم کر لیا جاوے۔" کہ ایک کا قصور دیکھ کے اس کی