خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 167
خطبات مسرور جلد 16 167 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2018 بچے کی طرح جو اقلیدس کے اشکال کو محض بیہودہ سمجھتا ہے ) بالکل بیہودہ سمجھتے تھے۔لیکن آخر وہی امور صداقت کی صورت میں اُن کو نظر آئے۔اس لئے کس قدر ضروری ہے کہ اپنی حیثیت کو بدلنے کے ساتھ ہی علم کو بڑھانے کے لئے ہر بات کی تکمیل کی جاوے۔تم نے بہت سی بیہودہ باتوں کو چھوڑ کر اس سلسلہ کو قبول کیا ہے۔" فرماتے ہیں بہت ساری بیہودہ باتوں کو چھوڑ کر اس سلسلہ کو قبول کیا ہے "اگر تم اس کی بابت پورا علم اور بصیرت حاصل نہیں کروگے تو اس سے تمہیں کیا فائدہ ہوا۔" یہ کوئی فائدہ نہیں کہ ہم نے بیعت کرلی، احمدی ہو گئے یا ہم پیدائشی احمدی ہیں۔جب تک خود علم نہیں حاصل کرو گے، اپنے علم کو نہیں بڑھاؤ گے، دینی علم کو نہیں بڑھاؤ گے نہ پیدائشی احمدی ہونا کوئی فائدہ دے گا، نہ خود بیعت کرنا کوئی فائدہ دے گا۔فرمایا کہ "تمہارے یقین اور معرفت میں قوت کیونکر پیدا ہو گی اگر علم نہ بڑھایا۔"ذراذراسی بات پر شکوک اور شبہات پید اہوں گے اور آخر قدم کو ڈگمگا جانے کا خطرہ ہے۔" (ملفوظات جلد 3 صفحہ 193) بہت سارے لوگ جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں یا جن کو اعتراضات پیدا ہو جاتے ہیں یا جو بعض لوگ صرف اس لئے احمدیت پر یا دین پر قائم ہوتے ہیں کہ ہمارے رشتہ دار احمدی ہیں ان کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔اگر وہ علم حاصل کریں تو جتنے شکوک و شبہات ہیں وہ دور ہو سکتے ہیں اور پھر قدم نہیں ڈگمگائیں گے۔پھر شیطان حملہ نہیں کرے گا۔پس جیسا کہ پہلے قرآن کریم پر غور اور فکر کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تلقین فرمائی تھی اسی طرح آپ کی کتب کو بھی پڑھنے اور دینی علم بڑھانے کی طرف ہمیں توجہ کرنی چاہئے اور اسی طرح خلافت سے تعلق جوڑنے کے لئے بھی کوشش کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے جو ایم ٹی اے کی نعمت دی ہے اس کے ذریعہ رابطہ قائم کرنا چاہئے اور خلیفہ وقت کے جو تمام پروگرام ہیں ان سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔جو لوگ اس تعلق کو ایک خاص توجہ سے قائم رکھے ہوئے ہیں، بہت سارے لوگ ہیں جو ایم ٹی اے سنتے ہیں اور ایم ٹی اے سے تعلق ہے ان کے مجھے خطوط آتے ہیں کہ ان کے ایمان ویقین میں اس تعلق کی وجہ سے ترقی ہوئی ہے۔پس یہ ایک بہت بڑا ذریعہ ہے جس سے ہر احمدی کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔آپس میں محبت اور پیار کرنے اور ایک دوسرے کی تکلیف کو سمجھنے اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : اصل بات یہ ہے کہ اندرونی طور پر ساری جماعت ایک درجہ پر نہیں ہوتی۔" یہ نہیں ہو سکتا کہ سب برابر ہوں۔" کیا ساری گندم تخم ریزی سے ایک ہی طرح نکل آتی ہے ؟" ہم زمین میں گندم کا بیج ڈالتے ہیں تو سارے بیچ تو نہیں نکلتے۔" بہت سے دانے ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ضائع ہو جاتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو چڑیاں کھا جاتی ہیں۔بعض کسی اور طرح قابل شمر نہیں رہتے۔" ان کو پھل نہیں لگتا۔" غرض ان میں سے جو ہو نہار ہوتے ہیں " جو اچھے ہوتے ہیں، اُگنے کی صلاحیتیں ان میں ہوتی ہیں " ان کو کوئی ضائع نہیں کر سکتا۔خدا تعالیٰ کے لئے جو جماعت تیار ہوتی ہے وہ بھی گزر ہوتی ہے۔" کھیتی کی طرح ہوتی ہے " اسی لئے اس اصول پر اس کی ترقی ضروری ہے۔کوئی دین کے علم میں زیادہ ہے کوئی کمزور ہے۔کوئی کسی لحاظ سے بہتر ہے کسی میں کوئی نیکی ہے اور اپنی