خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 166
خطبات مسرور جلد 16 166 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2018 پس اگر اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو ایسی خوش قسمت دے اور انہیں تو فیق دے کہ وہ بدیوں سے جنگ کرنے والے ہوں اور تقویٰ اور طہارت کے میدان میں ترقی کریں یہی بڑی کامیابی ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی چیز موئثر نہیں ہو سکتی۔" تلوار سے جنگ نہیں کرنی۔پہلے تقویٰ پیدا کرنے کے لئے اپنے نفس سے جنگ کرنی ہے پھر دوسروں کو بھی انسان پیغام پہنچا سکتا ہے اور اس سے لوگ پھر ناراض بھی نہیں ہوں گے۔فرمایا کہ " اس وقت گل دنیا کے مذاہب کو دیکھ لو کہ اصل غرض تقویٰ مفقود ہے اور دنیا کی وجاہتوں کو خدا بنایا گیا ہے۔حقیقی خدا چھپ گیا ہے اور سچے خدا کی ہتک کی جاتی ہے۔مگر اب خدا چاہتا ہے کہ وہ آپ ہی مانا جاوے اور دنیا کو اس کی معرفت ہو۔جو لوگ دنیا کو خدا سمجھتے ہیں وہ متوکل نہیں ہو سکتے۔" پس ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ دنیاوی مقاصد کی طرف تو ہماری زیادہ توجہ نہیں۔اگر خدا تعالیٰ کا حق ادا کرنا ہے تو پھر دین کو مقدم کرنا ہو گا اور دنیاوی مقاصد کو پس پشت ڈالنا ہو گا۔پس یہ ہم نے دیکھنا ہے کہ ہم دین کو مقدم کر رہے ہیں یا د نیا ہمارے دین پر غالب آ رہی ہے۔تقویٰ میں ہم بڑھ رہے ہیں یا تقویٰ کی کمی ہو رہی ہے۔دینی علم بڑھانے کی ضرورت اور اس کے ذرائع : اپنی روحانیت بڑھانے اور خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے ساتھ اپنے دینی علم کو بڑھانے کی ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 358-357) طرف مزید توجہ دلاتے ہوئے ایک موقع پر آپ ہمیں نصیحت فرماتے ہیں کہ : " مر شد اور مرید کے تعلقات استاد اور شاگرد کی مثال سے سمجھ لینے چاہئیں۔جیسے شاگر د استاد سے فائدہ اٹھاتا ہے اسی طرح مرید اپنے مرشد سے۔لیکن شاگر د اگر استاد سے تعلق تو رکھے مگر اپنی تعلیم میں قدم آگے نہ بڑھائے تو فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔یہی حال مرید کا ہے۔" استاد سے یا اپنے ٹیچر سے ایک سٹوڈنٹ صرف تعلق رکھتا ہے، اس سے واقف ہے اور علم حاصل نہیں کر رہایا اس کی باتوں پر عمل نہیں کر رہا تو فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔اسی طرح آپ نے فرمایا کہ مرید اور مرشد کے تعلق میں صرف یہ کہہ دینا کہ میرا تعلق ہے اس سے وہ فائدہ نہیں اٹھا سکتا جب تک ان باتوں پر عمل نہیں کروگے جو تمہیں کہی جاتی ہیں۔آپ نے فرمایا پس اس سلسلہ میں تعلق پیدا کر کے اپنی معرفت اور علم کو بڑھانا چاہئے۔طالب حق کو ایک مقام پر پہنچ کر ہر گز ٹھہر نا نہیں چاہئے ورنہ شیطان لعین اور طرف لگادے گا۔اور جیسے بند پانی میں عفونت پیدا ہو جاتی ہے۔پانی کچھ عرصہ کھڑا رہے تو پھر اس میں بد بو پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح اگر مومن اپنی ترقیات کے لئے سعی نہ کرے تو وہ گر جاتا ہے۔"اگر صحیح مومن ہو تو ترقی کی طرف قدم بڑھنا چاہئے۔ایک جگہ کھڑے رہے تو پھر کھڑے نہیں رہو گے بلکہ گر جاؤ گے، نیچے چلے جاؤ گے۔فرمایا کہ " پس سعادت مند کا فرض ہے کہ وہ طلب دین میں لگا رہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی انسان کامل دنیا میں نہیں گزرا۔لیکن آپ کو بھی ربّ زِدْنِي عِلْمًا (طه: 115 ) کی دعا تعلیم ہوئی تھی۔پھر اور کون ہے جو اپنی معرفت اور علم پر کامل بھروسہ کر کے ٹھہر جاوے اور آئندہ ترقی کی ضرورت نہ سمجھے۔جوں جوں انسان اپنے علم اور معرفت میں ترقی کرے گا اسے معلوم ہو تا جاوے گا کہ ابھی بہت سی باتیں حل طلب باقی ہیں۔بعض امور کو وہ ابتدائی نگاہ میں (اس