خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 165
خطبات مسرور جلد 16 165 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2018 وجہ تھی کہ وہ کسی میدان میں شیطان کے حملے سے نہیں ڈگمگائے۔" شیطان ان پر حملہ آور نہیں ہو سکا، شیطان ان پر قابو نہیں پاسکا۔دنیاوی کام بھی کرتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ ہمیشہ یاد رہتا تھا۔"کوئی امر ان کو سچائی کے اظہار سے نہیں روک سکا۔" آپ نے فرمایا "میر امطلب اس سے صرف یہ ہے کہ جو بالکل دنیا ہی کے بندے اور غلام ہو جاتے ہیں گو یاد نیا کے پرستار ہو جاتے ہیں ایسے لوگوں پر شیطان اپنا غلبہ اور قابو پالیتا ہے۔دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو دین کی ترقی کی فکر میں ہو جاتے ہیں۔یہ وہ گروہ ہوتا ہے جو حزب اللہ کہلاتا ہے اور جو شیطان اور اس کے لشکر پر فتح پاتا ہے۔مال چونکہ تجارت سے بڑھتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے بھی طلب دین اور ترقی دین کی خواہش کو ایک تجارت ہی قرار دیا ہے۔چنانچہ فرمایا ہے هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلى يَتجَارَةٍ تُنْجِيَكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيْمٍ - (الصف:11) که کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت کے بارے میں بتاؤں جو تمہیں ایک دردناک عذاب سے بچائے گی۔فرمایا کہ "سب سے عمدہ تجارت دین کی ہے جو درد ناک عذاب سے نجات دیتی ہے۔پس میں بھی خدا تعالیٰ کے ان ہی الفاظ میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ۔" فرمایا کہ " میں زیادہ امید ان پر کرتا ہوں جو دینی ترقی اور شوق کو کم نہیں کرتے۔جو اس شوق کو کم کرتے ہیں مجھے اندیشہ ہوتا ہے کہ شیطان ان پر قابونہ پالے۔" یعنی جن میں مستقل مزاجی نہیں ہے تو پھر دین دنیا پر مقدم نہیں رہ سکتا۔پھر ستیاں بھی شروع ہو جاتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ انسان شیطان کے قبضہ میں چلا جاتا ہے۔فرمایا کہ " اس لئے کبھی ست نہیں ہونا چاہئے۔ہر امر کو جو سمجھ میں نہ آئے پوچھنا چاہئے تاکہ معرفت میں زیادت ہو۔پوچھنا حرام نہیں۔بحیثیت انکار کے بھی پوچھنا چاہئے۔"اگر کوئی کسی بات کو نہیں مانتا، غیر ہیں تو ان کو تبلیغ کرنی چاہئے۔انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ وہ بھی پوچھیں اور عملی ترقی کے لئے بھی۔" ایک مومن جو ہے اگر اس کو عملی ترقی کرنی ہے تو علم حاصل کرنا چاہئے اور سوال پوچھنے چاہئیں۔فرمایا کہ "جو علمی ترقی چاہتا ہے اس کو چاہئے کہ قرآن شریف کو غور سے پڑھیں۔جہاں سمجھ میں نہ آئے دریافت کریں۔اگر بعض معارف سمجھ نہ سکے تو دوسروں سے دریافت کر کے فائدہ پہنچائے۔" فرمایا کہ " قرآن شریف ایک دینی سمند رہے جس کی تہہ میں بڑے بڑے نایاب اور بے بہا گوہر موجود ہیں۔" ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 193-194) ایک موقع پر جماعت کو تقویٰ کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ہمیں جس بات پر مامور کیا ہے وہ یہی ہے۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جس بات کے لئے بھیجا ہے وہ یہی ہے " کہ تقویٰ کا میدان خالی پڑا ہے۔تقویٰ ہونا چاہئے۔نہ یہ کہ تلوار اٹھاؤ۔" تلواریں نہیں اٹھانی لوگوں کے سر نہیں اڑانے۔جس طرح آجکل بعض تنظیمیں یا دہشت گرد گروہ اسلام کے نام پر کر رہے ہیں بلکہ دین پھیلانا ہے۔دین کی تبلیغ کرنی ہے۔تربیت کرنی ہے۔تو پہلے اپنے اندر تقویٰ پیدا کرو۔تقویٰ ہو گا تو سارے کام بھی آہستہ آہستہ شروع ہو جائیں گے۔فرمایا تلوار نہیں اٹھانی۔" یہ حرام ہے۔اگر تم تقویٰ کرنے والے ہو گے تو ساری دنیا تمہارے ساتھ ہو گی۔پس تقویٰ پیدا کرو۔جو لوگ شراب پیتے ہیں یا جن کے مذہب کے شعائر میں شراب حجز و اعظم ہے ان کو تقویٰ سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔وہ لوگ نیکی سے جنگ کر رہے ہیں۔