خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 164
خطبات مسرور جلد 16 164 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2018 پس ہمارے اللہ تعالیٰ سے تعلق اور محبت کے بارہ میں یہ امید اور توقع ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم سے رکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کو واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کی کامل اطاعت کرنا اور صرف اس کی رضا کو حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔لیکن یہ ایسا امر ہے جس کے لئے بھر پور کوشش کرنی چاہئے۔تبھی احمدی ہونے کا مقصد بھی حاصل ہو گا۔چنانچہ آپ نے خود ہی یہ سوال اٹھایا کہ کیا اطاعت ایک سہل امر ہے؟ آسان بات ہے ؟ پھر فرماتے ہیں کہ جو شخص پورے طور پر اطاعت نہیں کرتا وہ اس سلسلہ کو بدنام کرتا ہے۔حکم ایک نہیں ہو تا بلکہ حکم تو بہت ہیں۔جس طرح بہشت کے کئی دروازے ہیں کہ کوئی کسی سے داخل ہوتا ہے اور کوئی کسی سے داخل ہوتا ہے۔اسی طرح دوزخ کے کئی دروازے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ تم ایک دروازہ تو دوزخ کا بند کرو اور دوسرا کھلا رکھو۔" (ملفوظات جلد 4 صفحہ 74) پھر آپ فرماتے ہیں کہ " یا درکھو محض اسم نویسی سے کوئی جماعت میں داخل نہیں۔"صرف نام لکھوانے سے جماعت میں داخل نہیں ہو جاتے " جب تک وہ حقیقت کو اپنے اندر پیدا نہ کرے۔" فرمایا' آپس میں محبت کرو۔اتلاف حقوق نہ کرو۔" ایک دوسرے کے حق نہ مارو اور خدا کی راہ میں دیوانہ کی طرح ہو جاؤ تا کہ خدا تم پر فضل کرے۔اس سے کچھ باہر نہیں۔" آپ نے واضح فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کے لئے کامل ایمان لانا اور اس پر عمل کرنا ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 75 حاشیہ) ضروری ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ اس کی عملی مثال ایسی ہی ہے جیسے زبان سے صرف شیرینی یا مصری کہہ دینا یا میٹھا میٹھا کہنے سے منہ میٹھا نہیں ہو جاتا جب تک میٹھا کھایا نہ جائے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی محبت اور توحید کا زبانی اقرار فائدہ نہیں دے گا جب تک عملی حصہ نہ ہو اور عملی حصہ اسی وقت ثابت ہو گا جب دنیا کو مقدم کرنے کا بوجھ اتار کر دین کو مقدم کرو گے۔آپ نے فرمایا کہ ہماری جماعت خدا کو خوش کرنا چاہتی ہے تو پھر دین کو مقدم کرو۔اگر خدا کو خوش کرنا ہے تو دین کو مقدم کرو۔دین تمہاری ترجیح ہونی چاہئے۔آپ نے انذار فرمایا کہ اگر تمہارے اندر وفاداری اور اخلاص نہیں ہے تو تم جھوٹے ہو اور ایسی صورت میں دشمن سے پہلے وہ ہلاک ہو گا جس میں وفاداری نہیں ہے۔فرمایا کہ خدا تعالیٰ فریب نہیں کھا سکتا۔اس کو دھو کہ نہیں دیا جا سکتا۔اور نہ کوئی اسے فریب دے سکتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ تم سچا اخلاص اور صدق پیدا کرو۔دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہ کس طرح تم یہ حاصل کر سکتے ہو اور (ماخوذ از ملفوظات جلد 3 صفحہ 188 تا 190) صحابہ نے کس طرح اسے مقدم رکھا اور تمہیں کس طرح اس کی کوشش کرنی چاہئے آپ فرماتے ہیں کہ : " دیکھو دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک تو وہ جو اسلام قبول کر کے دنیا کے کاروبار اور تجارتوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔شیطان ان کے سر پر سوار ہو جاتا ہے۔" فرمایا کہ " میرا یہ مطلب نہیں کہ تجارت کرنی منع ہے " یا دنیاوی کام کرنا منع ہے۔" نہیں۔صحابہ تجارتیں بھی کرتے تھے مگر وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے تھے۔انہوں نے اسلام قبول کیا تو اسلام کے متعلق سچا علم جو یقین سے ان کے دلوں کو لبریز کر دے انہوں نے حاصل کیا۔یہی