خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 163
163 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2018 خطبات مسرور جلد 16 اعتقادی اور عملی طور پر اس کا مقصود اور غرض اللہ تعالیٰ ہی کی رضا اور خوشنودی ہو اور تمام نیکیاں اور اعمال حسنہ جو اس سے صادر ہوں وہ بمشقت اور مشکل کی راہ سے نہ ہوں بلکہ ان میں ایک لذت اور حلاوت کی کشش ہو۔"اگر کوئی نیکیاں کرنی ہیں ، اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کر رہے ہیں تو اس لئے نہیں کہ ہمارے پہ بڑا بوجھ پڑ گیا بلکہ ہر نیک کام کرنے میں انسان کو ایک لذت، ایک مزا آنا چاہئے۔خوش دلی سے کرنا چاہئے۔فرمایا کہ "جو ہر قسم کی تکلیف کو راحت سے تبدیل کر دے۔" فرماتے ہیں " حقیقی مسلمان اللہ تعالیٰ سے پیار کرتا ہے یہ کہہ کر اور مان کر کہ وہ میرا محبوب و مولیٰ پیدا کرنے والا اور محسن ہے اس لئے اس کے آستانہ پر سر رکھ دیتا ہے۔سچے مسلمان کو اگر کہا جاوے کہ ان اعمال کی پاداش میں کچھ بھی نہیں ملے گا اور نہ بہشت ہے اور نہ دوزخ ہے اور نہ آرام ہیں نہ لذات ہیں تو وہ اپنے اعمال صالحہ اور محبت الہی کو ہر گز ہر گز چھوڑ نہیں سکتا۔" یہ ہے اللہ تعالیٰ سے بے نفس محبت جو آپ پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ کسی بدلے کے لئے نہیں ، دوزخ کے ڈر سے نہیں، جنت کو حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی خالص محبت ہونی چاہئے۔چاہے کچھ بھی نہ ملے تب بھی اللہ تعالیٰ سے محبت ہو۔کیونکہ اس کی عبادات اور خدا تعالیٰ سے تعلق اور اس کی فرمانبرداری اور اطاعت میں فنا کسی پاداش یا اجر کی بناء اور امید پر نہیں ہے بلکہ وہ اپنے وجود کو ایسی چیز سمجھتا ہے کہ وہ حقیقت میں خدا تعالیٰ ہی کی شناخت اس کی محبت اور اطاعت کے لئے بنائی گئی ہے اور کوئی غرض اور مقصد اس کا ہے ہی نہیں۔اسی لئے وہ اپنی خداداد قوتوں کو جب ان اغراض اور مقاصد میں صرف کرتا ہے تو اس کو اپنے محبوب حقیقی ہی کا چہرہ نظر آتا ہے۔" جب بے نفس ہو کر اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرو گے تو پھر اللہ تعالیٰ کا چہرہ نظر آتا ہے۔پھر صحیح تعلق پیدا ہوتا ہے۔بهشت و دوزخ پر اس کی اصلاً نظر نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر نظر ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے عشق میں اپنی حالت کو بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : " میں کہتا ہوں کہ اگر مجھے اس امر کا یقین دلا دیا جاوے کہ خدا تعالیٰ سے محبت کرنے اور اس کی اطاعت میں سخت سے سخت سزادی جائے گی تو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری فطرت ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ ان تکلیفوں اور بلاؤں کو ایک لذت اور محبت کے جوش اور شوق کے ساتھ برداشت کرنے کو تیار ہے اور باوجود ایسے یقین کے جو عذاب اور دکھ کی صورت میں دلایا جاوے کبھی خدا کی اطاعت اور فرمانبرداری سے ایک قدم باہر نکلنے کو ہزار بلکہ لا انتہا موت سے بڑھ کر دکھوں اور مصائب کا مجموعہ قرار دیتی ہے۔" فرمایا کہ " ایک سچا مسلمان خدا کے حکم سے باہر ہونا اپنے لئے ہلاکت کا موجب سمجھتا ہے خواہ اس کو اس نافرمانی میں کتنی ہی آسائش اور آرام کا وعدہ دیا جاوے۔" فرماتے ہیں " پس حقیقی مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس قسم کی فطرت حاصل کی جاوے کہ خدا تعالیٰ کی محبت اور اطاعت کسی جزا اور سزا کے خوف اور امید کی بناء پر نہ ہو بلکہ فطرت کا طبعی خاصہ اور جزو ہو کر ہو پھر وہ محبت بجائے خود اس کے لئے ایک بہشت پیدا کر دیتی ہے اور حقیقی بہشت یہی ہے۔کوئی آدمی بہشت میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ اس راہ کو اختیار نہیں کرتا ہے۔اس لئے میں تم کو جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو اسی راہ سے داخل ہونے کی تعلیم دیتا ہوں کیونکہ بہشت کی حقیقی راہ یہی ہے۔" ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 181 تا 183)