خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 162 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 162

162 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2018 خطبات مسرور جلد 16 ہیں۔" ذراسی بات ہوئی تو نفسانی جذبات غالب آ گئے۔" اس وقت تک کہ خدا نے ان کو کمزور کر رکھا ہے گناہ کی جرات نہیں کرتے۔" اگر گناہ نہیں کر رہے تو اس لئے کہ کمزور ہیں۔ڈرتے ہیں کہیں پکڑے نہ جائیں اور سزانہ ملے۔" مگر جب ذرا کمزوری رفع ہوئی اور گناہ کا موقع ملا تو جھٹ اس کے مرتکب ہوتے ہیں۔" فرمایا کہ " آج اس زمانہ میں ہر ایک جگہ تلاش کر لو تو یہی پتہ ملے گا کہ گویا سچا تقویٰ اٹھ گیا ہوا ہے اور سچا ایمان بالکل نہیں ہے لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کو منظور ہے کہ ان کے بچے تقویٰ اور ایمان کا تخم ہر گز ضائع نہ کرے جب دیکھتا ہے کہ اب فصل بالکل تباہ ہونے پر آتی ہے تو اور فصل پیدا کر دیتا ہے۔" ایک نسل خراب ہو رہی ہے، ایک فصل خراب ہو رہی ہے تو اور فصل پیدا کر دیتا ہے۔یہاں مراد یہ ہے کہ اگر ایک نسل تباہ ہو گی یا کچھ لوگ تباہ ہوں گے یا ایک قوم تباہ ہو گی تو اور قومیں پیدا کر دے گا اور پیدا کر دیتا ہے۔فرمایا کہ " وہی تازہ بتازہ قرآن موجود ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کہا تھا انا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ (الحجر: 10) " کہ ہم نے ہی اس ذکر کو اتارا ہے، اس قرآن کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔فرمایا کہ "بہت سا حصہ احادیث کا بھی موجود ہے۔اور برکات بھی ہیں مگر دلوں میں ایمان اور عملی حالت بالکل نہیں ہے۔خدا تعالیٰ نے مجھے اسی لئے مبعوث کیا ہے کہ یہ باتیں پھر پیدا ہوں۔خدا نے جب دیکھا کہ میدان خالی ہے تو اس کی الوہیت کے تقاضا نے ہر گز پسند نہ کیا کہ یہ میدان خالی رہے۔" اگر برائیاں پھیل رہی ہیں تو اللہ تعالیٰ کی غیرت کا تقاضا تھا، اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا تقاضا تھا کہ اس میدان کو دوبارہ ایسے لوگوں سے بھرے یا ایسے لوگ پیدا کرے جو پھر دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے ہوں۔دین کا اجرا کرنے والے ہوں۔دین کو پھیلانے والے ہوں۔دین پر عمل کرنے والے ہوں۔آپ فرماتے ہیں " ہر گز پسند نہ کیا کہ یہ میدان خالی رہے اور لوگ ایسے ہی دُور رہیں۔اس لئے اب ان کے مقابلے میں خدا تعالیٰ ایک نئی قوم زندوں کی پیدا کرنا چاہتا ہے اور اسی لئے ہماری تبلیغ ہے کہ تقویٰ کی زندگی حاصل ہو جاوے۔" (ملفوظات جلد 4 صفحہ 395-396) پس اگر صحیح بیعت کی ہے تو احمدی کو زندوں میں شامل ہونا ہو گا، روحانی زندوں میں شامل ہونا ہو گا ور نہ کوئی فائدہ نہیں۔کیا یہ نئی قوم، صرف منہ سے کہہ دینے سے ہم نئی قوم بن جائیں گے۔نہیں۔بلکہ اس کے لئے عملی حالتوں کی تبدیلی اور سچا تقویٰ پیدا کرنے کی ضرورت ہے تبھی ہم وہ نئی قوم بن سکتے ہیں جو اسلام کی حقیقت کو سمجھنے والی ہے۔تبھی ہم وہ لوگ بن سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والے ہیں۔تبھی ہم اپنے عہد بیعت کو پورا کرنے والے ہو سکتے ہیں۔اسلام کی حقیقت کیا ہے اور اسے ہم کس طرح حاصل کر سکتے ہیں اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اسلام اللہ تعالی کے تمام تصرفات کے نیچے آجانے کا نام ہے اور اس کا خلاصہ خدا کی سچی اور کامل اطاعت ہے۔مسلمان وہ ہے جو اپنا سارا وجود خدا تعالیٰ کے حضور رکھ دیتا ہے بدوں کسی امید پاداش کے۔"بغیر کسی امید کے بغیر کسی انعام کے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔" مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَ هُوَ مُحْسِنُ (البقرة: 113) یعنی مسلمان وہ ہے جو اپنے تمام وجود کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے وقف کر دے اور سپر د کر دے اور