خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 161 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 161

خطبات مسرور جلد 16 161 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2018 تعالیٰ نے تو دنیا کے فساد کو ختم کرنے کے لئے اور آپس میں محبت اور بھائی چارہ پیدا کرنے کے لئے اور خدا تعالیٰ کے پہچاننے کے لئے ایک انتظام کیا تھا۔لیکن مسلمان اس طرف توجہ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ مسلمان دنیا اس وقت سب سے زیادہ فسادوں کی نذر ہو رہی ہے۔ان کے دینی اور دنیاوی رہنما انہیں اندھیروں میں دھکیل رہے ہیں اور آپس میں ایک ہی ملک کے رہنے والے شہری ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو رہے ہیں۔اور اس بات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بیرونی دنیا خاص طور پر غیر مسلم طاقتیں مسلمانوں کے گروہوں کو لڑانے اور اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے جنگی ساز و سامان بھی دے رہی ہیں اور فوجی مدد بھی دے رہی ہیں۔پس یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے۔اور یہ حالت جہاں ہمیں اپنے لئے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا ہے اور دوسرے مسلمانوں کے لئے ، عامتہ المسلمین کے لئے جنہوں نے نہیں مانا، ان کے لئے دعاؤں کی طرف متوجہ کرنے والی ہونی چاہئے وہاں ہمیں اس بات کی بھی ضرورت ہے، اس طرف توجہ کی بھی ضرورت ہے کہ اپنی عملی حالتوں کو ویسا بنائیں ، اپنی روحانی حالتوں کو ویسا بنائیں جیسا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔کیونکہ اگر ہماری عملی حالتیں ایسی نہیں ہیں جیسا آپ ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں تو عین ممکن ہے کہ ہم بھی اس گروہ میں شامل ہو جائیں جو فتنہ وفساد میں مبتلا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسلسل اور بار بار اپنی جماعت کے افراد کو نصیحت فرمائی ہے کہ تمہاری حالتیں بیعت کے بعد کیسی ہونی چاہئیں ؟ اس کے لئے تم نے کیا طریق اختیار کرنے ہیں یا کرنے چاہئیں ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض اقتباسات اس وقت میں پیش کروں گا جو ان باتوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں اس لئے ہمیں ان کو غور سے سننا چاہئے۔یہ نہ سمجھیں کہ پہلے بھی کئی مرتبہ سن چکے ہیں یا پڑھ چکے ہیں۔پڑھ کے اور سن کے بھی بھول جاتے ہیں۔جس تواتر سے اور جس طرح مختلف پیرائے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ باتیں بیان کی ہیں اور سالوں میں پھیلی ہوئی مجالس میں بار بار جماعت کو اپنی حالتوں کے بہتر کرنے کی تلقین کی ہے یہ اس بات کا اظہار ہے کہ آپ کو اپنی جماعت کی کس قدر فکر تھی کہ کہیں وہ اپنے مقصد کو بھول نہ جائیں۔کہیں بیعت کے بعد پھر ان میں بگاڑ نہ پیدا ہو جائے۔پھر وہ اندھیرے کی طرف نہ بڑھنے شروع ہو جائیں۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : ہماری جماعت کے لئے ضروری ہے کہ اس پر آشوب زمانہ میں جب کہ ہر طرف ضلالت، غفلت اور گمراہی کی ہوا چل رہی ہے تقویٰ اختیار کریں۔دنیا کا یہ حال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی عظمت نہیں ہے۔حقوق اور وصایا کی پرواہ نہیں ہے۔نہ یہ پتہ ہے کہ ہمارے کیا حق ہیں اور کس طرح ہم نے ادا کرنے ہیں نہ ان باتوں کی پرواہ ہے جس کی ان کو تلقین کی گئی تھی یا جس کی خود وہ وصیت کرتے ہیں یا ان کو وصیت کی گئی۔" دنیا اور اس کے کاموں میں حد سے زیادہ انہماک ہے۔ذرا سا نقصان دنیا کا ہوتا دیکھ کر دین کے حصہ کو ترک کر دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حقوق ضائع کر دیتے ہیں جیسے کہ یہ سب باتیں مقدمہ بازیوں اور شرکاء کے ساتھ تقسیم حصہ میں دیکھی جاتی ہیں۔لالچ کی نیت سے ایک دوسرے سے پیش آتے ہیں۔نفسانی جذبات کے مقابلہ میں بہت کمز ور واقع ہوئے