خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 160
خطبات مسرور جلد 16 160 15 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2018ء بمطابق 13 / شہادت 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بشارت، پید رو آباد، سپین تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: دنیا میں بڑھتا ہو ا فساد اور اس کا حل: اس زمانے میں دنیا میں ہر طرف فتنہ و فساد برپا ہے۔کہیں دین کے نام پر فساد برپا ہے تو کہیں دنیاوی طاقت اور برتری ثابت کرنے کے لئے فساد برپا ہے۔کہیں غربت اور امارت کے مقابلے کی وجہ سے فساد ہو رہا ہے تو کہیں سیاسی جماعتوں کے حکومتی اختیارات سنبھالنے کے لئے فساد پیدا ہوا ہوا ہے۔کہیں گھروں میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے اور فساد ہیں تو کہیں ایک دوسرے کے حق ادانہ کرنے کی وجہ سے لڑائی جھگڑے اور فتنہ وفساد برپا ہو رہا ہے۔کہیں نسلی برتری ثابت کرنے کے لئے فساد کی کوششیں کی جارہی ہیں تو کہیں اپنا حق لینے کے لئے غلط طریق اختیار کر کے فتنہ و فساد کی کوشش کی جارہی ہے۔غرض کہ جس پہلو سے بھی دیکھیں دنیا فتنہ و فساد میں گھری ہوئی ہے۔نہ غریب اس سے محفوظ ہے، نہ امیر اس سے محفوظ ہے۔نہ ترقی یافتہ ممالک اس سے محفوظ ہیں ، نہ کم ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ممالک اس سے محفوظ ہیں۔گویا کہ انسان جو اپنے آپ کو اس زمانے میں بڑا ترقی یافتہ سمجھ رہا ہے، یہ سمجھتا ہے کہ یہ علم اور عقل اور روشنی کا زمانہ ہے، حقیقت میں اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔خدا تعالیٰ کو بھول کر دنیا کی تلاش اور اسے ہی اپنا معبود سمجھ کر، اسے ہی اپنا رب سمجھ کر تباہی کے گڑھے کی طرف بڑھ رہا ہے بلکہ اس کے قریب پہنچ چکا ہے۔ایسے حالات میں غیر مسلم دنیا کا دنیا کی چکا چوند میں ڈوبنا تو کچھ حد تک انسان سمجھ سکتا ہے کیونکہ ان کے دین میں تو بگاڑ پیدا ہو چکا ہے۔ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف رہنمائی کرنے کے لئے ان کا دین جامع اور مکمل حل پیش نہیں کرتا۔لیکن مسلمانوں پر حیرت ہے جن کے پاس ایک جامع اور مکمل کتاب اپنی اصلی حالت میں موجود ہے اور پھر خدا تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق اس زمانے کے امام کو بھیجا ہے جس نے علماء کے آپس کے اختلافات کی وجہ سے قرآن کریم کی تفسیروں میں یا دین میں جو اختلافات اور غلط رنگ پیدا کر دیا تھا اس کی اصلاح کرنی تھی۔لیکن بجائے اس کے کہ مسلمان خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اس فرستادے کی بات سنیں اور اس بات کی طرف آئیں جو اختلافات اور فسادات کو ختم کرنے والی بات ہے، مسلمانوں کی اکثریت دین کے نام پر فساد پیدا کرنے والے علماء کے پیچھے چل پڑی ہے اور ان کے پیچھے چل کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے کی بات سننے کے لئے تیار نہیں۔اللہ