خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 159
خطبات مسرور جلد 16 159 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 اپریل 2018 وجہ یہی ہے کہ یہ سمجھتے ہیں کہ مغربی دنیا کی ترقی انہیں بچالے گی اور اگر نقصان ہو ابھی تو ایسا کہ ہم پورا کر لیں گے۔لیکن یہ ان کی غلطی ہے جو ایسا سوچتے ہیں۔جب جنگوں کی تباہی آئے گی یا آتی ہے تو پھر بیشک معاشی لحاظ سے زیادہ مستحکم حکومتیں بھی ہوں تو وہ ملک ان جنگوں کے بعد پھر اپنے آپ کو سنبھالنے کی پہلی کوشش کرتے ہیں اور اب بھی کریں گے۔یورپ کے بعض ممالک جو کم مستحکم ہیں یہ تو پھر اور بھی زیادہ برے حالات میں جاسکتے ہیں۔پس جہاں جہاں بھی احمدی ہیں وہ عملی کوشش اور سب سے بڑھ کر دعاؤں سے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی طرف توجہ کریں کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہے جو دنیا کو تباہی سے بچا سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کے لئے ان باتوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے جو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہیں۔اس کے حضور جھک کر ہی اسے راضی کیا جا سکتا ہے۔ہر احمدی کو یہ یادرکھنا چاہئے کہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا بھی اسے دنیا و آخرت کی حسنات کا مالک نہیں بنا سکتا، نہ ہی آگ کے عذاب سے بچا سکتا ہے۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننازیادہ ذمہ داری ڈالتا ہے کہ اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: " یاد رکھو نری بیعت سے کچھ نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ اس رسم سے راضی نہیں ہو تا جب تک کہ حقیقی بیعت کے مفہوم کو ادانہ کرے۔اس وقت تک یہ بیعت بیعت نہیں، نری رسم ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ بیعت کے حقیقی منشاء کو پورا کرنے کی کوشش کرو۔اور حقیقی منشاء کیا ہے؟ فرمایا " یعنی تقویٰ اختیار کرو۔قرآن شریف کو خوب غور سے پڑھو اور اس پر تدبر کر و اور پھر عمل کرو۔کیونکہ سنت اللہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نرے اقوال اور باتوں سے کبھی خوش نہیں ہو تا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حاصل کرنے کے واسطے ضروری ہے کہ اس کے احکام کی پیروی کی جاوے اور اس کے نواہی سے بچتے رہو۔" جن باتوں سے اس نے روکا ہے ان سے بچو۔" اور یہ ایک ایسی صاف بات ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان بھی نری باتوں سے خوش نہیں ہو تا بلکہ وہ بھی خدمت ہی سے خوش ہو تا ہے۔" آپ فرماتے ہیں کہ " سچے مسلمان اور جھوٹے مسلمان میں یہی فرق ہوتا ہے کہ جھوٹا مسلمان باتیں بناتا ہے، کرتا کچھ نہیں۔اور اس کے مقابلہ میں حقیقی مسلمان عمل کر کے دکھاتا ہے ، باتیں نہیں بناتا۔پس جب اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ میرا بندہ میرے لئے عبادت کر رہا ہے اور میرے لئے میری مخلوق پر شفقت کر رہا ہے تو اس وقت اپنے فرشتے اس پر نازل کرتا ہے اور بچے اور جھوٹے مسلمان میں جیسا کہ اس کا وعدہ ہے فرقان رکھ دیتا ہے۔" ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 404-405) پس ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ سچا مسلمان بننے کی کوشش کرے۔یہ جو دنیا کی حسنات اور نعمتیں ہیں ان سے فائدہ اس لئے اٹھائے کہ یہ آخرت کی حسنات کا وارث بنانے والی ہوں گی۔ہم اپنی عبادتوں کے حق ادا کرنے والے بنیں۔دین کی وجہ سے بامر مجبوری جو ہمیں اپنے ملکوں کو چھوڑنا پڑا ہے تو یہاں آکر پھر دینی تعلیمات پر عمل کرنے کا حق ادا کرنے والے بنیں۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 27 اپریل 2018ء تا 03 مئی 2018ء جلد 25 شمارہ 17 صفحہ 05 تا07)