خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 158
خطبات مسرور جلد 16 158 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06اپریل2018 والی نہیں ہونی چاہئیں اور نہ کبھی صرف دنیا حاصل کرنے کی غرض سے دنیاوی خواہشات کی تکمیل تمہارا مطمح نظر ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ "میں نے جن اور انسان کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ مجھے پہچانیں اور میری پرستش کریں۔پس اس آیت کی رُو سے اصل مدعا انسان کی زندگی کا خدا کی پرستش اور خدا کی معرفت اور خدا کے لئے ہو جاتا ہے۔" فرماتے ہیں " یہ تو ظاہر ہے کہ انسان کو تو یہ مرتبہ حاصل نہیں ہے کہ اپنی زندگی کا مدعا اپنے اختیار سے آپ مقرر کرے۔کیونکہ انسان نہ اپنی مرضی سے آتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے واپس جائے گا۔بلکہ وہ ایک مخلوق ہے۔اور جس نے اُسے پیدا کیا اور تمام حیوانات کی نسبت عمدہ اور اعلیٰ قومی اس کو عنایت کئے یعنی باقیوں کی نسبت انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، بہترین قومی عنایت کئے " اسی نے اس کی زندگی کا ایک مذعا ٹھہر ارکھا ہے خواہ کوئی انسان اس مدعا کو سمجھے یا نہ سمجھے۔مگر انسان کی پیدائش کا مد عابلا شبہ خدا کی پرستش اور خدا کی معرفت اور خدا میں فانی ہو جانا ہی ہے۔" (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 414) پس جب انسان اس مدعا کو سامنے رکھتا ہے تو وہ حقیقی مومن بنتا ہے اور دنیا کی حسنات کو بھی خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بناتا ہے۔پس انسان کی ذہنی صلاحیتیں ، انسان کی جسمانی قوتیں، انسان کے بہتر مالی حالات موجودہ زمانے کی ایجادات سے یا اور ان سب باتوں سے انسان کو کبھی غافل نہ کریں۔نہ صحت، نہ مال، نہ ذہنی صلاحیتیں، نہ جو ہمارے ارد گرد دنیاوی چمک دمک ہے اس بات سے ہمیں غافل کریں کہ ہم اپنے مقصد پیدائش کو بھول جائیں۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ احمدیوں کی اکثریت ان ملکوں میں دین کی وجہ سے آئی ہے ، مذہبی پابندیوں کی وجہ سے آئی ہے جو اُن کو اپنے ملک میں تھیں۔پس اس بات کو ہمیشہ سامنے رکھیں۔احمد ی اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ایک لمبے اندھیرے زمانے کے بعد پھر اسلام کا روشن سورج مسیح موعود کے زمانے میں طلوع ہونا تھا جس نے مسلمانوں کے دلوں کو بھی اندھیروں سے روشنی کی طرف حقیقی تعلیم اور بدعات سے پاک تعلیم بتا کر لانا تھا اور غیر مسلموں کو بھی اسلام کی حقیقی خوبصورت تعلیم بتانی تھی۔ان ملکوں میں آکر اب ہر احمدی کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس اہم فریضہ کو پوری طرح ادا کرنے کی کوشش کرے۔ہر جگہ جہاں احمدی ہیں اپنے ماحول کو بتائیں کہ حقیقی اسلام کیا ہے۔ہر احمدی کا عمل، اس کے اخلاق، اس کی عبادت کے معیار ایسے ہوں کہ دوسروں کی توجہ اپنی طرف کھینچنے والے ہوں۔یہ جہاں احمدیوں کو دوسروں سے ممتاز کریں گے وہاں یہاں کے مقامی لوگوں میں تبلیغ کے راستے کھولنے میں بھی مدد گار ہوں گے۔پس اس بات کو ہر احمدی کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ ہر احمدی کا ایک بہت بڑا مقصد ہے کہ پہلے اس نے خود اپنے مقصد پیدائش کو سمجھنا ہے اور پھر دوسروں کو اس مقصد پیدائش کو سمجھنے کی طرف توجہ دلانی ہے۔دنیا کو اس حقیقت سے آشنا کروانا ہے کہ دنیا کی نعمتیں جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں وہ خدا تعالیٰ سے دور لے جانے کے لئے نہیں ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے قریب کرنے کے لئے ہیں۔اس لئے اس میں اعتدال اختیار کرو ورنہ اعتدال سے نکلنے کی وجہ سے تم تباہی کی طرف بڑھ رہے ہو۔آج سے چار پانچ سال پہلے دنیا کا اس طرح تباہی کی طرف بڑھنے کا تصور نہیں تھا یا دنیا اس کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھی لیکن آج حالات بالکل مختلف ہیں اور جس تباہی کی طرف دنیا بڑھ رہی ہے اس کی اصل