خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 157 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 157

خطبات مسرور جلد 16 157 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 اپریل 2018 لفظ حقیقی درد اور گداز کے سوا انسان کے دل سے نکل ہی نہیں سکتا۔۔۔" جب انسان حقیقی طور پر ربنا کہتا ہے تو پھر ایک درد سے ربنآ نکلتا ہے۔بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو صرف ظاہری طور پر ہی ربنا کی دعا پڑھ لیتے ہیں۔لیکن اگر انسان دلی کیفیت سے دعا مانگ رہا ہو تو تبھی حقیقت میں ربنا کا لفظ منہ سے نکلتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مطابق تو ربنا کا لفظ منہ سے نکل ہی نہیں سکتا جب تک حقیقی در دنہ ہو اور گداز نہ ہو۔آپ فرماتے ہیں کہ "اصل میں انسان نے اپنے بہت سے ارباب بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔اپنے حیلوں اور دغا بازیوں پر اسے پورا بھروسہ ہوتا ہے تو وہی اس کے رب ہوتے ہیں۔اگر اسے اپنے علم کا یا قوت بازو کا گھمنڈ ہے تو وہی اس کے رب ہیں۔اگر اسے اپنے حسن یا مال و دولت پر فخر ہے تو وہی اس کا رب ہے۔غرض اس طرح کے ہزاروں اسباب اس کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔جب تک ان سب کو ترک کر کے ان سے بیزار ہو کر اس واحد لاشریک سچے اور حقیقی رب کے آگے سر نیاز نہ جھکائے اور ربنا کی پر درد اور دل کو پگھلانے والی آوازوں سے اس کے آستانے پر نہ گرے تب تک وہ حقیقی رب کو نہیں سمجھا۔" جیسا کہ میں نے کہا لوگ کہتے ہیں ہم ربنا کی دعا بھی پڑھتے ہیں۔لیکن فرمایا کہ حقیقی ربنا اسی وقت ادا ہو تا ہے جب پر درد اور دل کو پگھلانے والی آواز نکل رہی ہو۔اس حقیقت کو جانتا ہو کہ جب میں نے ربنا گہا ہے تو میں ایک وحدہ لا شریک خدا کو پکار رہا ہوں جو میر ارب ہے۔اور آپ نے فرمایا جب یہ ہو گا تو تبھی وہ حقیقی رب کو سمجھتا ہے، اسی سے دعا مانگتا ہے۔پس فرمایا " پس جب ایسی دل سوزی اور جان گدازی سے اس کے حضور اپنے گناہوں کا اقرار کر کے توبہ کرتا اور اسے مخاطب کرتا ہے کہ ربنا یعنی اصل اور حقیقی رب تو تو ہی تھا مگر ہم اپنی غلطی سے دوسری جگہ بہکتے پھرتے رہے۔اب میں نے ان جھوٹے بتوں اور باطل معبودوں کو ترک کر دیا ہے اور صدق دل سے تیری ربوبیت کا اقرار کرتا ہوں۔تیرے آستانے پر آتا ہوں۔" ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 188-189) پس یہ ہے وہ حالت جو خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے اور اس کی عبادت کرنے اور اپنے مقصد پیدائش کو سمجھنے کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم میں دیکھنا چاہتے ہیں۔جب ہم اس طرح اپنے رب کو پکارنے کا حق ادا کریں گے تو دنیا کی حسنات بھی ہمیں مل جائیں گی اور آخرت کی حسنات بھی ملیں گی بلکہ دنیا کی حسنات بھی انسان آخرت کی حسنات کے حصول کے لئے ہی مانگتا ہے تاکہ صحت ہو تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا ہو۔صحت ایک دنیاوی خیر ہے، بھلائی ہے، حسنات میں شامل ہے۔اگر صحت ہو گی تو انسان عبادت بھی صحیح طرح کر سکتا ہے۔مال ہو تو اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر اس کی قربانی کا حق ادا کر سکتا ہے۔اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی توفیق اسے مل سکتی ہے۔پس اس اہم اصول کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے۔عبادت کا حق ادا کرنے کی بات ہوئی ہے تو اس بارے میں ہمیشہ ہمیں یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ یہ اس وقت ادا کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے جب ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنے پیدائش کے مقصد کو پورا کرنے والے بھی ہوں گے۔اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات:57) اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے احکامات کی طرف جب ہم دیکھتے ہیں تو ایک حکم کے بعد دوسرا حکم جس طرف ہمیں لے کر جاتا ہے وہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کو کبھی نہ بھولو۔تمہاری دنیاوی کوششیں بھی تمہیں اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کرنے