خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 156 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 156

خطبات مسرور جلد 16 156 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 اپریل 2018 ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آنے والا ہوں۔اور زمانے کے امام اور مسیح موعود اور مہدی معہود کو مانتا ہوں۔اور دوسری طرف اس بنیادی گناہ جس سے بچنا ایک موحد کا پہلا فرض ہے اس سے انسان بیچنے والا نہ ہو۔پس اس لحاظ سے ہر احمدی کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ دنیاوی فوائد کے حصول کے لئے ہم سے کوئی ایسی حرکت سر زد تو نہیں ہو رہی یا ہم کوئی ایسی حرکت تو نہیں کر رہے جو ہمیں خدا تعالیٰ کے نزدیک انتہائی گناہگار بنارہی ہو۔پس جیسا کہ میں نے کہا جب ہم اپنے ایمان کو بچانے کے لئے ، اپنے دین پر قائم رہنے کے لئے اپنے ملک سے نکلے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کے حکموں کو سب سے اول فوقیت ہمیں دینی چاہئے۔ہمیں دیکھنا چاہئے کہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام قبول کرنے کے بعد ہماری ترجیحات کیا ہیں اور کیا ہونی چاہئیں۔اگر یہ ترجیحات خدا تعالیٰ کے احکامات کے مطابق نہیں تو ہم نے اس مقصد کو نہیں پایا جو مقصد ہماری ہجرت کا ہے۔اور اگر یہ اس کے مطابق ہیں تو ہم نے اس ہجرت کے مقصد کو پالیا اور ایسی صورت میں پھر اللہ تعالیٰ کے فضل بھی ہمارے شامل حال ہوں گے۔اگر ہماری بنیاد ہی جھوٹ پر ہے اور ہم نے دنیا کے حصول کو اپنا مقصد سمجھا ہوا ہے تو پھر ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث نہیں بن سکتے۔اللہ تعالیٰ کو واحد ماننے والے ، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے بھی شرک نہیں کر سکتے۔وہ لوگ جنہوں نے اپنے مقصد پیدائش کی حقیقت کو سمجھا ہے ان کی زندگی کا پہلا مقصد خدا تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ہمیں ہمیشہ یادر کھنا چاہئے کہ دنیا کو حاصل کرنا اور دنیا کی رنگینیوں میں ڈوبا ہمارا مقصد نہیں ہے اور نہ ہی یہ ایک مومن کا مقصد پیدائش ہے۔اگر ہم خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے اس کے بتائے ہوئے مقصد پیدائش کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو تبھی ہم حقیقی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔اس دنیا میں آنے کے مقصد کو پورا کر سکتے ہیں۔یہ دنیا اور اس کی نعمتیں تو ہمیں مل ہی جائیں گی کہ اللہ تعالیٰ دین ودنیا کی نعماء سے اپنی طرف آنے والوں کو محروم نہیں رکھتا۔اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ دنیاوی نعمتوں سے بھی محروم نہیں رکھتا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے کہ مجھ سے دنیا و آخرت کی حسنات مانگو۔جیسا کہ فرماتا ہے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرة:202۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ: انسان اپنے نفس کی خوشحالی کے واسطے دو چیزوں کا محتاج ہے۔ایک دنیا کی مختصر زندگی اور اس میں جو کچھ مصائب شد ائد ابتلا و غیرہ اسے پیش آتے ہیں ان سے امن میں رہے۔دوسرے فسق و فجور اور روحانی بیماریاں جو اسے خدا سے دُور کرتی ہیں ان سے نجات پاوے۔انسان کے لئے دو باتیں ہیں ایک دنیاوی مشکلات اور بیماریاں دوسرے روحانی مشکلات اور بیماریاں۔پس انسان ان دونوں سے نجات پانے کی کوشش کرتا ہے۔فرمایا کہ "تو دنیا کا حَسَنًہ یہ ہے کہ کیا جسمانی اور کیا روحانی دونوں طور پر یہ ہر ایک بلا اور گندی زندگی اور ذلّت سے محفوظ رہے۔" ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 302) آپ پھر ربنا کی مزید تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔" دیکھو۔۔۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً۔۔۔" اس بارے میں آپ نے فرمایا کہ " دراصل ربنا کے لفظ میں تو بہ ہی کی طرف ایک بار یک اشارہ ہے۔" جب انسان ربنا کہتا ہے یعنی اے ہمارے رب تو اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے۔فرمایا " کیونکہ ربنا کا لفظ چاہتا ہے کہ وہ بعض اور رتبوں کو جو اس نے پہلے بنائے ہوئے تھے ان سے بیزار ہو کر اس رب کی طرف آیا ہے اور یہ "