خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 155 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 155

خطبات مسرور جلد 16 155 14 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 اپریل 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 06 / اپریل 2018ء بمطابق 06 / شہادت 1397 ہجری بمقام مسجد بیت الرحمن، ویلنسیا (سپین) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: سپین مغربی ممالک میں سے تو بیشک ہے لیکن معاشی استحکام کے لحاظ سے یورپ کے کم مستحکم ملکوں میں شمار ہوتا ہے۔یہاں کام کے مواقع اور آمد اور معیار زندگی یورپ کے دوسرے ممالک مثلاً فرانس، جرمنی، ہالینڈ یا یو کے وغیرہ سے کم ہے اور یہ عموماً بتایا جاتا ہے۔لیکن اس کے باوجود پاکستان کے مقابلے میں اس کے معاشی حالات پاکستان سے یہاں آنے والوں کے لئے بہتر ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے پاکستانی یہاں کاروباری سلسلہ میں بھی اور ملازمت کے سلسلہ میں بھی آتے ہیں۔اور جہاں تک احمدیوں کا سوال ہے وہ جب پاکستان سے نکلتے ہیں تو دو وجوہات سے نکلتے ہیں۔جن میں سے سب سے بڑی وجہ پاکستان میں احمدیوں کے لئے مذہبی پابندیاں اور آزادی کا نہ ہوتا ہے۔دوسرے معاشی حالات کی بہتری ہے۔یہاں آنے والوں کی اکثریت یہی کہہ کر یہاں اسائلم لیتی ہے یا مستقل رہائش کا ویزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ احمدیوں کے پاکستان میں حالات ایسے نہیں کہ آزادانہ طور پر ہم اپنے آپ کو اپنے ایمان کے مطابق مسلمان کہہ سکیں یا عبادات کر سکیں یا مذ ہبی رسومات ادا کر سکیں۔بعض لوگ یہاں جب کیس کرتے ہیں تو صحیح طور پر اپنے حالات بیان کرتے ہیں۔لیکن بعض یہاں کم اور یورپ کے دوسرے ممالک میں زیادہ زیب داستان بھی کر لیتے ہیں۔حالانکہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ اگر حقیقی اور سچی بات بیان کی جائے اور پاکستان میں مذہب کے نام پر ہم پر جو زیادتیاں ہو رہی ہیں انہیں ہی بتا کر صرف یہ کہا جائے کہ ایسے حالات میں میر اوہاں رہنا مجھے ذہنی طور پر شدید دباؤ میں لا رہا ہے یا ڈالتا ہے اور مستقل ٹارچر بھی ہے تو عام طور پر یہ لوگ، حکومتی انتظامیہ بھی یا عدالتوں کے جج بھی یہ بات سمجھ جاتے ہیں اور مدد کا اور ہمدردی کارجحان رکھتے ہیں۔پس کیس کرتے وقت دوسروں کے کہنے میں آکر یاد کیلوں کے کہنے میں آکر اپنے آپ کو یا اپنی بات کو مبالغہ آمیزی کے ساتھ پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اسی طرح شروع سے آخر تک بیان بھی ایک ہی ہونا چاہئے ، نہ کہ بیان بدلے جائیں جس سے انتظامیہ کو جھوٹ کا شبہ ہو۔جھوٹ سے تو ویسے بھی ایک احمدی کو بچنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے تو جھوٹ کو شرک کے برابر قرار دیا ہے اور ایک احمدی سے کبھی یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ شرک کرنے والا ہو۔ایک طرف تو اس کا دعویٰ یہ ہے کہ میں سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرنے والا