خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 153 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 153

خطبات مسرور جلد 16 153 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 مارچ 2018 " اوڑھنی والیوں کے لئے پھول۔" تو یہ کہا کرتی تھیں کہ اگر پھول لینا چاہتی ہو تو اوڑھنی لینی پڑے گی۔پھول تو اسی کے لئے ہیں جو پردہ کرنے والی ہیں۔ایک نواسی کہتی ہیں کہ جب میری شادی ہونے والی تھی تو حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کی کتاب میں سے بچی کی رخصتی کے موقع پر کی گئی نصائح کو انڈر لائن کر کے مجھے دیا کہ اس کو بار بار پڑھو۔کہتی ہیں رات دیر تک کنواری لڑکیوں کا فنکشن میں رہنا ان کو پسند نہیں تھا۔کالج کے زمانے میں ہماری سہیلیوں کے گھر میں کوئی فنکشن ہوتا تو خود ساتھ جاتی تھیں۔آج کل بھی بہت ساری لڑکیاں رات گزارنے یا Night Spend کے لئے لکھتی ہیں۔یہ بالکل غلط طریقہ ہے۔ہماری بچیوں کو اس سے پر ہیز کرنا چاہئے۔کہتی ہیں ہماری فجر کی نماز چھوٹ جاتی تو سارا دن ہم سے بات نہیں کرتی تھیں۔یہ ہمیں ان کی بہت بڑی سزا ہوتی تھی۔ایک دفعہ یہاں شکاگو امریکہ میں آئی ہوئی تھیں تو ایک فنکشن میں کسی عورت نے میوزک لگایا اور رقص کرنے والے انداز میں اٹھی تو آپ نے پیچھے سے جا کر اس کو پکڑ لیا اور کہنے لگی کہ یہ میوزک بند کر دو۔تمہیں پتہ نہیں کہ ناچنے والیوں کو کیا کہا جاتا ہے ؟ ایک عیسائی لڑکی کو پالا۔اس کو دعائیں سکھلائیں۔مختلف اخلاق کی باتیں سکھلائیں۔بلکہ وہ کہتی تھی کہ میں تو آدھی احمدی ہو چکی ہوں۔امہ الباری ناصر صاحبہ کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپا سلیمہ میر صاحبہ سے لجنہ کراچی کی طویل خدمت لی۔آپ اس دنیا میں نہیں رہیں لیکن آپ کی تربیت یافتہ ممبرات دنیا کے کونے کونے میں لجنہ کے کام کرتی ہوئی آپ کا نام اور کام زندہ رکھیں گی۔آپ کا نام حسن کار کردگی کی مثال بن گیا ہے اور کہتی ہیں ہمیشہ بڑی سر پرستی کیا کرتی تھیں۔کام سکھایا کرتی تھیں۔اپنے نام کی ان کو زیادہ خواہش نہیں تھی بلکہ یہ خواہش ہوتی تھی کہ جتنی ان کے ساتھ کام کرنے والی ہیں ان کو کسی طرح کام آجائے۔اور جب کتابوں کی اشاعت ہوئی ہے اس میں بھی انہوں نے اپنی ٹیم کو بڑا Encourage کیا۔آخری عمر میں اکثر ملک سے باہر جانا پڑتا تھا۔جماعت کا کام متاثر نہ ہو اس لئے خود ہی مرکز کو درخواست دے کر ایک دوسری صدر منظور کروالیں اور بڑی خوبصورتی سے ایک میٹنگ بلائی اور ان کو پھولوں کے ہار پہنائے۔اور مسٹر بھٹی صاحبہ کو صدر کی کرسی پر بٹھا کر ان کی خدمات کے بارے میں دلنشین تقریر کی اور اطاعت کی تلقین کی اور بڑے وقار سے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو گئیں۔یہ لکھتی ہیں کہ انتقال اقتدار ایسے بھی ہوتا ہے۔پس وہ لوگ جنہیں بعض دفعہ جماعتی خدمات سے ہٹایا جائے یا ان کی منظوری نہ دی جائے تو اس پر بڑے اعتراض شروع ہو جاتے ہیں۔ان کے لئے یہ سبق ہے کہ اگر کام مل جائے تو الحمد للہ اور اگر نہیں ملتا تو تب بھی اللہ کا شکر ادا کریں اور کام کرنے کے ، جماعت کی خدمت کرنے کے اور دوسرے طریقے تلاش کریں۔لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ عہدہ ہی ملے تو کام ہو سکتا ہے۔پھر یہ کہتے ہیں کہ سب کام معاملہ فہمی اور راز داری سے کرنے والی تھیں۔دل کی بات کر کے کبھی یہ خدشہ نہیں ہو تا تھا کہ یہ بات کہیں نکل جائے گی۔بڑی راز رکھنے والی تھیں۔امتہ الباری ناصر صاحبہ لکھتی ہیں کہ پتہ نہیں کیسے وہ سب کے راز اپنے سینے میں دفن رکھتی تھیں اور یہ بہت بڑی خصوصیت ہے جس کی کمی آج کل مردوں میں بھی ہے۔امۃ النور صاحبہ کراچی سے لکھتی ہیں کہ سلیمہ میر صاحبہ انتہائی محبت کرنے والی، بے غرض انتہائی مہ