خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 152
خطبات مسرور جلد 16 152 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مارچ2018 خدمات کو بہت سراہا۔ایک خط میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے لکھا کہ آپ کی طرف سے لجنہ کراچی کی رپورٹ اور نہایت پر خلوص جذبات عقیدت پہنچے۔میں آپ سب کے جذبات عقیدت اور اخلاص کی دل کی گہرائیوں سے قدر کرتا ہوں اور اپنے رب سے ہمیشہ آپ کے لئے بھلائی کا طالب رہتا ہوں اور یہ عرض کرتا ہوں کہ وہ دن پہلے سے بڑھ کرشان کے ساتھ لوٹادے جن کی یادیں مجھے بہت عزیز ہیں۔سلیمہ میر صاحبہ 36 سال کی عمر میں بیوہ ہو گئی تھیں۔ان کی بیٹی کہتی ہیں کہ لیکن کبھی کسی قسم کی بے صبری اور ناشکری کا کلمہ ان کے منہ سے نہیں سنا۔ہمیشہ ہر بات میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر تیں اور ہمیشہ مثبت سوچ رکھتی تھیں اور بچوں میں بھی یہ چیز دیکھنا چاہتی تھیں۔ان کی ایک بیٹی کہتی ہیں کہ میرے شوہر بیمار ہو گئے اور ان کی آخری بیماری ہی تھی۔کہتی ہیں میری امی یعنی سلیمہ میر صاحبہ میرے پاس آئی ہوئی تھیں۔جو پہلی چیز مجھے انہوں نے دی وہ ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھی اور کہا کہ میں نے بھی تمہارے ابا کی وفات کے بعد ملفوظات کے ساتھ زندگی گزاری ہے اور سب کچھ خدا کے حوالے کر دیا ہے۔اور یہ کہا کرتی تھیں کہ سب محبتوں پر حاوی خدا تعالیٰ کی محبت ہونی چاہئے۔بیٹی کہتی ہیں کہ جب شوہر کا آخری وقت تھا اور ڈاکٹر نے مجھے سائن (sign) کرنے کے لئے کہا تو میں ضبط نہ کر سکی اور رونے لگی اور روتے ہوئے میری آواز اونچی ہو گئی۔میری والدہ نے بھی سن لی۔کہتی ہیں اس وقت میں انتہائی تکلیف میں تھی۔سلیمہ میر صاحبہ وہاں بیٹھی ہوئی تھیں۔بیٹی کا خاوند فوت ہو رہا تھا۔بیٹی انتہائی تکلیف میں تھی۔کہتی ہیں جب میں ہسپتال سے جانے لگی تو اپنی امی سلیمہ میر صاحبہ کے پاس رکی۔لیکن امی نے انتہائی سخت لہجے میں کہا کہ تم میری بیٹی ہو۔میری بیٹی اتنی بے صبری نہیں ہو سکتی۔اور تمہاری رونے کی اتنی اونچی آواز کیوں نکلی ہے۔کہنے لگیں کہ جو صبر اول وقت میں ہوتا ہے وہی صبر ہو تا ہے۔بعد میں توسب کو صبر آجاتا کہتی ہیں مجھے نصیحت کی کہ تمہارا شوہر خدا کی امانت تھی۔اس نے دیا تھا، اس کی چیز تھی، اس نے واپس لے لی۔چار بیٹیوں کے بعد پہلا بیٹا پیدا ہوا اور کچھ عرصہ بعد اس کی وفات ہو گئی تو بڑے صبر اور حو صلے سے کہتی تھیں کہ اللہ کی امانت تھی اس نے لے لی۔ہر وقت دعائیں کرنے والی تھیں۔بچے کہتے ہیں کہ ہمیشہ یہ نصیحت کیا کرتی تھیں۔پنجابی میں کہتی تھیں کہ "خلیفے دالر نہیں چھڑنا۔" یعنی خلیفہ کا دامن کبھی نہ چھوڑنا۔خلافت سے وابستہ رہنا۔پردے کا انتہائی اہتمام کرنے والی تھیں۔جہاں بھی پر دے میں کمزوری دیکھتیں بڑے اچھے انداز میں سمجھادیتیں تا کہ دوسروں کو بُرا بھی نہ لگے۔ان کی ایک بیٹی کہتی ہیں کہ میری چھوٹی بہن کے لئے رشتہ آیا تو لڑکے نے کہا کہ پہلے میں لڑکی کو دیکھوں گا پھر بات آگے بڑھے گی۔کہتی ہیں کہ ہم نے امی سے کہا کہ بہن کو نقاب کی بجائے سکارف میں سامنے کر دیتے ہیں۔اپنی بیٹی کا رشتہ تھا۔کہتی ہیں اس پر امی نے فوراجواب دیا کہ رشتہ ہوتا ہے تو ہو لیکن نقاب کے بغیر یہ نہیں جائے گی۔ایک بچی کا لندن میں ڈرائیونگ ٹیسٹ تھا اور انسٹرکٹر مرد تھا تو بیٹی کے ساتھ چل پڑیں کہ مرد کے ساتھ تمہیں اکیلا نہیں جانے دوں گی۔لوگوں نے مذاق بھی اڑایا۔لیکن انہوں نے دنیا کی کوئی پرواہ نہیں کی۔سر پر سکارف لینے کے لئے یا نقاب لینے کے لئے ہمیشہ کہا کرتی تھیں۔لجنہ کی جو کتاب ہے جس میں سارے خلفاء کے ارشادات ہیں اس کا نام ہے ہے۔