خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 151 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 151

خطبات مسرور جلد 16 151 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مارچ 2018 ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سارے لوگوں نے ہمارے پیچھے ان کی نماز جنازہ ادا کی۔دوسر اذکر ہے سلیمہ میر صاحبہ سابق صدر لجنہ اماءاللہ کراچی کا جو عبد القادر ڈار صاحب کی اہلیہ تھیں۔یہ بھی 90 سال کی عمر میں 17 / مارچ 2018ء کو فوت ہوئی ہیں۔آپ کے والد میر الہی بخش صاحب صحابی تھے جو شیخ پور ضلع گجرات کے تھے۔انہوں نے 1904ء میں بیعت کی تھی۔اور سلیمہ میر صاحبہ کی والدہ مریم بیگم صاحبہ مدرستہ الخواتین قادیان کی تعلیم یافتہ تھیں۔قرآن کریم کی تدریس سے ان کو خاص شغف تھا۔1946ء میں سلیمہ میر صاحبہ کی شادی ہوئی اور تقسیم برصغیر کے بعد یہ کراچی آگئے۔اور 1961ء میں یہ لوگ ایران چلے گئے تو وہاں تین چار احمدی گھرانے تھے ان کے لئے نماز جمعہ اور اجلاس وغیرہ کا انتظام کیا۔1964ء میں ان کے شوہر فوت ہو گئے اور اس کے بعد یہ اپنے بھائی میر امان اللہ صاحب کے پاس کراچی آگئیں۔آٹھ بچوں کی پرورش کے ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی شروع کیا۔انہوں نے پھر بی۔اے تک تعلیم حاصل کی۔ساتھ ہی لجنہ کے دفتر میں کام کرنا شروع کر دیا۔ڈاک کے جواب دینے کا کام کیا۔پھر مختلف حیثیتوں سے ان کو کراچی میں لجنہ کا کام کرنے کی توفیق ملی۔1981ء میں جب منتظمہ کمیٹی کا قیام عمل میں آیا تو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے آپ کو منتظمہ کمیٹی کی صدر نامزد کیا۔کہتی ہیں کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے جب مجھے کمیٹی کا صدر مقرر کیا تو جب یہ اعلان کیا تو میری عجیب کیفیت تھی۔میں سکتہ کے عالم میں تھی کہ یہ ذمہ داری کس طرح اٹھاؤں گی۔کہتی ہیں ایک طرف اطاعت امام اور دوسری طرف میری کم مائیگی اور وسیع پیمانے پر کام کرنے کا تجربہ بھی نہ ہونے کا احساس تھا۔کہتی ہیں میں دعاؤں میں لگ گئی۔گڑ گڑا کر خدا تعالیٰ سے دعا مانگی۔کام شروع کیا اور جلدی جلدی مجلس عاملہ کے اجلاس بلائے۔قیادتوں کے دورے کئے اور ان سب کے سامنے اطاعت اور تنظیم سے وابستگی، اسلامی اخلاق اپنانے، بدعات کے خلاف جہاد کرنے ، ناجائز اعتراضات سے بکلی پر ہیز کرنے ، بعضوں کو عادت ہوتی ہے عورتوں کو خاص طور پہ ، اب تو مردوں کو بھی بہت ہے کہ بلا وجہ نظام پر اعتراضات شروع کر دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری مجلس میں کسی قسم کا اعتراض نہیں ہونا چاہئے اور کثرت سے استغفار کی طرف بار بار توجہ دلائی اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کو بھی خط لکھتی تھیں۔کہتی ہیں اللہ تعالیٰ کا تصرف ہوا کہ کراچی کی جماعت کی لجنہ ترقی کرنے لگیں۔1961 ء سے انہوں نے ایران میں لجنہ کا کام شروع کیا تھا پھر پاکستان میں اور پھر 1986ء میں جب لجنہ کراچی کا مرکزی لجنہ سے دوبارہ الحاق ہوا تو حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے آپ کو صدر لجنہ کراچی نامز د فرمایا اور انہوں نے 1986ء سے 1997ء تک صدر لجنہ کراچی کے فرائض سر انجام دیئے۔لجنہ کراچی نے کتب کی اشاعت کے سلسلہ میں آپ کے دور میں بڑا کام کیا جن میں ساٹھ کتب اور دو مجلتے آپ کے دور صدارت میں شائع ہوئے۔آپ کے دور میں داعیہ الی اللہ کی کلاس کا آغاز بھی ہوا۔اس پر حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے بڑی خوشی کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ آپ بفضلہ تعالیٰ اچھا کام کر رہی ہیں کہ دل سے دعائیں اٹھتی ہیں۔اللہ آپ کی عمر اور صحت اور خوشیوں میں برکت دے اور پھر آگے آپ کے مخلص ساتھیوں کو دنیا و آخرت میں بہترین جزا عطا فرمائے۔ان کے کام کے بہت سارے واقعات ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے ، خلیفتہ المسیح الثالث نے ان کی