خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 8 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 8

خطبات مسرور جلد 16 8 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 جنوری 2018 کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم کام بھی کرتے ہیں اور انہیں ہر پندرہ روز کے بعد پانچ سو تیس ڈالر ملتے ہیں لیکن اس ہفتے وہ کہتے ہیں ان کو بارہ سو بتیس ڈالر ملے جس کی انہیں بالکل امید نہیں تھی۔کہنے لگے کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے نتیجہ میں ہوا ہے۔پھر امیر صاحب نجی ہیں۔وہ ئسز وانگا جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ بہت ہی مخلص ہیں۔سیکرٹری مال کے طور پر خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے جب سے چندے کی ادائیگی شروع کی اللہ تعالیٰ نے ان کے کاروبار میں بہت برکت ڈالی۔ان کی اہلیہ جو کہ ایک عیسائی خاندان سے آئی ہوئی ہیں وہ کہتی ہیں کہ سب خدمت دین اور مالی قربانی کا نتیجہ ہے ورنہ ہمارے قرضے ختم ہی نہیں ہوتے تھے۔پھر ببین کے پارا کو ریجن کی ایک پر انی جماعت "انا" ہے وہاں کے معلم حمید صاحب لکھتے ہیں کہ یہاں کے لوکل زیادہ تر کھیتی باڑی کرتے ہیں اور کپاس کی کاشت کرتے ہیں۔اس سال کاشتکاروں نے کپاس چچن کر گاؤں کے پاس ایک جگہ ڈھیر لگایا تا کہ فیکٹری میں بھجوائی جائے۔لیکن ایک دن اچانک کپاس کے ڈھیر کو آگ لگ گئی اور کروڑوں روپے کی کپاس جل کر راکھ ہو گئی۔اس وقت صرف ایک آدمی کی کپاس بچی جو جماعت کے مخلص ممبر ہیں۔مقامی لوگوں نے ان سے کہا کہ یہ تو ایک معجزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی کپاس کو بچا لیا ہے۔اس پر وہ احمد کی دوست کہنے لگے کہ میرا یقین ہے کہ خدا تعالیٰ نے میرے اموال کو اس لئے بچایا ہے کہ میں احمدی ہوں اور ہر ماہ اللہ کی راہ میں چندہ دیتا ہوں۔کانگو برازاویل کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک خاتون مادام عائشہ سرکاری سکول میں پڑھاتی ہیں۔ایک دن یہ اپنے بیٹے کے ساتھ مشن ہاؤس آئیں اور اپنی شدید مالی پریشانی کا اظہار کیا۔مالی پریشانی کی ایک وجہ خاوند کی طرف سے کچھ بھی خرچ نہ دینے کے علاوہ یہ بھی تھی کہ حکومت کی طرف سے بطور ٹیچر جو ماہانہ الاؤنس ملتا تھا وہ بھی سابقہ قرضے کی کٹوتی کی وجہ سے آدھا مل رہا تھا۔انہوں نے قرض لیا ہوا تھا آدھی تنخواہ مل رہی تھی۔خاوند کچھ دے نہیں رہا تھا بڑی پریشان تھی۔یہ کہتے ہیں ان کی پریشانی سن کر ایک تو انہوں نے مجھے خط لکھنے کا کہا کہ دعا کے لئے خط لکھیں اور ایک نسخہ یہ بتایا کہ جتنی بھی توفیق ہے آپ چندہ کی ادائیگی با قاعدگی سے کیا کریں۔کہتے ہیں انہوں نے فور أخط تو خیر لکھا لیکن چندہ کی ادائیگی بھی باقاعدگی سے کرنی شروع کر دی اور اپنی فیملی کی طرف سے بھی چندہ ادا کیا۔کہتے ہیں ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ خاوند نے خود بخود گھر کا کرایہ ، بچے کی سکول فیس ادا کرنی شروع کر دی۔دوسری طرف ان کی بڑی بہن جس نے والد مرحوم کی ساری جائیداد پر قبضہ کیا ہوا تھا اس نے پہلی دفعہ اپنی اس بہن کو ایک لاکھ فرانک سیفا بھیجا۔اس احمد کی خاتون نے فوراً مشن ہاؤس فون کر کے اطلاع دی کہ چندے کی برکت سے میری ساری پریشانی دور ہو گئی ہے اور پھر خود مشن ہاؤس آکر اس رقم میں سے مزید دس ہزار فرانک سیفا چندہ ادا کیا۔