خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 9 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 9

خطبات مسرور جلد 16 9 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 جنوری 2018 صدر لجنہ کینیڈا لکھتی ہیں کہ یونیورسٹی کی ایک بچی نے بتایا کہ ایک دفعہ میری لوکل سیکرٹری وقف جدید نے مجھے کہا کہ تم چندہ وقف جدید ضرور دو۔خدا تعالیٰ اس طرح تمہاری مشکلات دور فرمائے گا۔اس بچی نے بتایا کہ میرے پاس اس وقت صرف پچاس ڈالر تھے جو کہ ایک سٹوڈنٹ ہونے کے ناطے میرے لئے بہت بڑی رقم تھی لیکن میں نے چندہ وقف جدید میں ادا کر دیئے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں یہ رقم دینے کے کچھ عرصہ بعد ہی مجھے یونیورسٹی سے آٹھ سو ڈالر سکالر شپ مل گیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے میری قربانی سے بہت بڑھ کے نوازا۔مصر کے ہمارے ایک احمدی عبد الرحمن صاحب ہیں۔کہتے ہیں جب انہوں نے لکھا۔غالباً انہوں نے جون میں لکھا تھا۔کہتے ہیں کہ گزشتہ جمعہ کے روز میرے پاس سو مصری پاؤنڈ تھے جن میں سے پچاس پاؤنڈ میں نے جماعت کو دے دیئے اور پچاس سفر خرچ اور باقی ضروریات کے لئے رکھ لئے۔میں اپنے گھر اور علاقے سے دور رہتا ہوں جہاں خدا کے سوا میرا کوئی نہیں ہے۔اگلے دن اچانک علم ہوا کہ ماہوار تنخواہ جو بالعموم تاخیر سے آتی ہے اس دفعہ جلدی آگئی ہے اور مجھے اسی دن وصولی کرنی چاہئے۔تاہم میں دو دن بعد گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حکومت نے تنخواہ میں ساٹھ فیصد اضافہ کر دیا ہے۔اب میرا ارادہ ہے کہ اگلے جمعہ کو اس کا نصف بھی خدا کی راہ میں دے دوں۔دعا کریں کہ خدا تعالیٰ اپنی راہ میں خرچ کرنے کی لذت عطا فرمائے۔پھر انڈیا کے ہمارے ایک انسپکٹر سلیم خان صاحب ہیں لکھتے ہیں کہ صوبہ گجرات کی ایک جماعت سمبڑیالہ کے دورے پر گئے تو وہاں کے ایک دوست سے فون پر رابطہ ہوا۔انہیں بتایا کہ ہم ایک گھنٹے تک آپ کی طرف آرہے ہیں۔جب ایک گھنٹے کے بعد گئے تو کہتے ہیں کہ ابھی بات چیت چل رہی تھی کہ اچانک دو آدمی آئے اور ان سے بات کی۔اس کے بعد ان کا ریفریجریٹر اٹھا کے لے گئے۔کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ بات یہ ہے کہ آپ نے کہا تھا ہم آرہے ہیں اور پیسے ہمارے پاس آج تھے کوئی نہیں تو ریفریجریٹر گھر میں پڑا تھا۔میں نے اس کا سودا کر دیا اور اس کو فروخت کر دیا۔اس پہ کہتے ہیں ہم نے کہا کہ اس کی اتنی جلدی کیا تھی۔نہ کرتے۔ابھی بھی واپس رکھ لیں۔انہوں نے کہا یہ نہیں ہو سکتا کہ مرکز سے نمائندہ یا مرکز کی نمائندگی میں کوئی ہمارے پاس آئے اور ہم اس کو خالی ہاتھ جانے دیں۔ریفریجریٹر کا کیا ہے فریج ہم دوبارہ خرید لیں گے انشاء اللہ۔اللہ تعالیٰ ان کے مال میں برکت ڈالے۔موصوف کرائے کے گھر میں رہتے ہیں۔مستری کا کام کرتے ہیں لیکن اپنی تنگدستی کے باوجود اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی سے گریز نہیں کیا۔اسی طرح انڈیا سے ہی انسپکٹر وقف جدید منور صاحب ہیں وہ لکھتے ہیں کہ جماعت ساندھن صوبہ یوپی کے دورے کے دوران ایک دوست کے پاس چندہ وقف جدید کی وصولی کے لئے گئے تو انہوں نے اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔آپ کل صبح آجائیں پھر دیکھتے ہیں۔کہتے ہیں اگلے روز میں دوبارہ ان کے گھر گیا تو موصوف نے بتایا کہ پیسوں کا انتظام نہیں ہوا۔ان بچوں کو دیکھیں۔بچوں