خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 7 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 7

خطبات مسرور جلد 16 7 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 جنوری 2018 میرے دادا ایک بہت بڑے بزرگ تھے۔انہوں نے ہمیں بتایا تھا کہ امام مہدی علیہ السلام آچکے ہیں اور اس کی ایک نشانی یہ بتائی تھی کہ امام مہدی کے پیروکار اشاعت اسلام کے کام میں امام مہدی کی مالی امداد کریں گے۔جب میں نے آپ لوگوں کا ریڈیو سنا۔کہتے ہیں کہ میں نے ریڈیو میں سناجو کہ امام مہدی علیہ السلام کے آنے کا اعلان کرتا ہے اور ساتھ ہی خلیفتہ المسیح کے خطبات سنے جن میں وہ مالی قربانی کے واقعات کا ذکر کرتے ہیں تو مجھے یقین ہو گیا کہ یہی وہ امام مہدی ہیں جن کے متعلق ہمارے دادا نے ہمیں خبر دی تھی اس لئے میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔چنانچہ موصوف نے بیعت بھی کی اور بڑی باقاعدگی سے چندہ بھی دے رہے ہیں اور مالی نظام میں بھی شامل ہیں۔غربت کی انتہا کو پہنچے ہوئے جو لوگ ہیں وہ بھی مالی قربانی کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ بھی انہیں عجیب رنگ میں نوازتا ہے اور ان کے ایمانوں کو مضبوط کرتا ہے۔گیمبیا کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک خاتون فاطمہ جالو صاحبہ جن کی عمر انچاس برس ہے وہ نیا منینا ویسٹ میں گنڈا (Kunda) نامی گاؤں میں رہتی ہیں۔جب انہیں چندہ وقف جدید کی تحریک کی گئی تو کہنے لگیں کہ میرے پاس پیسے تو نہیں ہیں لیکن میری سہیلی نے کچھ دن پہلے مجھے ایک مرغی تحفہ میں دی تھی۔اب یہ بھی وہی مثال ہے جس طرح قادیان میں ایک عورت مرغی کے انڈے اور مرغی لے کر حضرت مصلح موعودؓ کے پاس آگئی تھی۔جو اُسے کسی نے تحفہ میں دی تھی کہ اگر جماعت اسے قبول کر لے تو وہ وقف جدید کا چندہ ادا کر دیں گی۔چنانچہ انہوں نے مرغی ہی چندے میں دے دی۔چندہ ادا کرنے کے بعد کہنے لگیں کہ میں اپنے چچا کے سلسلہ میں بہت پریشان ہوں جو گھر کے واحد کفیل تھے اور چار مہینے پہلے بدامنی کے الزام میں سینیگال میں انہیں سات سال کی سزاسنائی گئی ہے اور وہ جیل میں ہیں۔مجھے انہوں نے دعا کے لئے خط بھی لکھا اور اس کے بعد کہتی ہیں چندہ بھی ادا کیا۔بہر حال چندے کی بھی برکت تھی۔کہتی ہیں دو مہینے بعد انہیں خبر ملی کہ ان کے چچا کو گورنمنٹ نے معاف کر دیا ہے اور وہ جیل سے رہا ہو گئے ہیں۔ان کی رہائی کے متعلق جس نے بھی سناوہ یہی کہتا تھا یہ کوئی معجزہ ہے ورنہ اس جرم میں رہائی ناممکن ہے۔ان خاتون کے چالا مین جالو صاحب ہیں۔ان کو جب اس واقعہ کا پتا چلا کہ ان کی بھتیجی نے اس طرح چندہ ادا کیا تھا اور مجھے دعا کے لئے بھی لکھا تھا اور پھر ان کی رہائی بھی ہو گئی تو اس سے بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے بھی احمدیت قبول کر لی۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے فاطمہ صاحبہ باقاعدگی سے چندہ ادا کرتی ہیں۔تبلیغ بھی کرتی ہیں اور لوگوں کو بتاتی ہیں کہ چندے کی برکت کے نتیجہ میں ان کے چچا کو رہائی مل گئی جس کی وجہ سے وہ پریشان تھیں۔پھر صرف افریقہ میں نہیں، احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان ترقی یافتہ ممالک میں بھی ایمان و اخلاص کا نمونہ دکھلاتے ہیں۔آسٹریلیا کے مبلغ سید و دود احمد صاحب لکھتے ہیں کہ میلبرن میں ایک خادم جو کہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں وہ وعدے کے مطابق وقف جدید کا چندہ ادا کر چکے تھے۔لیکن جمعہ پر مالی قربانی کی طرف دوبارہ توجہ دلائی گئی اس پر اس خادم نے مزید پانچ سو پچاس ڈالر کا وعدہ کیا اور اگلے دن ادا ئیگی بھی کر دی۔یہ خادم پڑھائی