خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 150
خطبات مسرور جلد 16 150 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 مارچ2018 کے ماموں اور رشتہ دار بھی اس کو استعمال کرتے تھے۔انہوں نے اعتراض بھی کیا کہ کیوں تم نے بیچ دیا۔اب ہم پانی کس طرح لائیں گے۔(صحیح البخاری کتاب الجھاد باب استئذان الرجل الامام حديث 2967) تو بہر حال یہ شفقت تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو اور ان صحابہ کو جنہوں نے خاص قربانیاں دی ہوں ان کے بچوں کے ساتھ یہ فرمایا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان صحابہ کے درجات بلند کرے اور یہ مختلف واقعات جو میں بیان کرتارہتا ہوں ہمیں بھی توفیق دے کہ ان نیکیوں کو جاری رکھیں اپنے اوپر بھی لاگو کریں۔اس مختصر خطبہ کے بعد اب میں دو مخلصین کا ذکر خیر کروں گا۔پہلے ہیں مکرم بلال ادلبی صاحب سیریا کے گزشتہ دنوں کار کے حادثہ میں شدید زخمی ہوئے اور 17 / مارچ 2018ء کو رات ڈیڑھ بجے حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے وفات پاگئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔بلال صاحب 1978ء میں پیدا ہوئے جب مرحوم کی عمر 17 سال تھی تو ان کے احمدی بھائی نے ان کو ڈاکٹر مسلم الدروبی صاحب کی کمپنی میں ملازمت دلوائی جہاں انہیں جماعت اور احمدیوں سے تعارف حاصل ہوا۔کچھ عرصہ بعد انہوں نے بیعت کر لی۔ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ سیریا میں 2010ء سے ہم مختلف احمدی گھروں میں نمازیں ادا کرتے آرہے ہیں۔اس سال جب ہم قادیان سے لوٹے تو میں نے اس گروپ کے ساتھ نماز ادا کرنی شروع کی جو بلال صاحب کے گھر نماز ادا کرتا تھا۔اس بات پر کہ انہوں نے میری وجہ سے بیعت کی تھی انہوں نے بڑے جوش سے میرا استقبال کیا۔مہمان نوازی تو ان کی عادت تھی ہی لیکن اس بات کی شکر گزاری کرتے تھے کہ آپ کی وجہ سے مجھے احمدیت کا راستہ ملا اور بڑی آؤ بھگت کرتے تھے۔صدر صاحب جماعت ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ بلال صاحب کی سپورٹس گارمنٹس کی دوکان تھی۔وہ کپڑوں میں سب محتاج بھائیوں کی مدد کرتے تھے یہاں تک کہ اگر ان کی دوکان پر کپڑا نہ ہوتا تو وہ کہیں سے خرید کر مہیا کر دیتے۔بڑے غیرت مند تھے۔کسی احمدی کو اس حال میں نہ دیکھ سکتے تھے کہ اس کے پاس پہننے کو کچھ نہ ہو۔اور اگر اسے کوئی تنگی ہوتی تو ہر طرح کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرتے۔اپنے بچوں کا بھی بڑا خیال رکھنے والے تھے۔انہیں بہترین سکولوں میں داخل کروایا۔کہتے ہیں مرحوم کی وفات سے دو دن پہلے ہم ان کے گھر میں نماز پڑھ رہے تھے کہ سیکرٹری مال نے بتایا کہ انہوں نے وصیت اور تحریک جدید اور وقف جدید کے تمام واجب الادا چندے ادا کر دیئے ہیں بلکہ نئی زمین خریدی تھی اس کو بھی وصیت میں شامل کروایا۔بڑی باقاعدگی سے چندوں کا حساب رکھنے والے، ان کی ادائیگی کرنے والے، خدمت خلق کرنے والے، نمازوں اور عبادت کا بڑا اہتمام کرنے والے، خلافت کے ساتھ انتہائی تعلق، ہر خطبہ کو سنتے تھے۔بلکہ صدر صاحب لکھتے ہیں کہ جب میں خطبہ کا خلاصہ اگلے ہفتہ سناتا تو یہ منہ ڈھانپ کر رونے لگتے تھے اور ہمیشہ کہتے تھے کہ لگتا ہے خلیفہ وقت میرے بارے میں یا مجھ سے بات کر رہے ہیں۔انہوں نے پسماندگان میں ایک بیٹا عمر گیارہ سال اور ایک بیٹی عمر بارہ سال چھوڑے ہیں۔جرمنی میں ان کے بڑے بھائی احمدی ہیں۔لیکن دو بھائی اور ایک بہن احمدی نہیں اور مخالفت بھی کافی تھی۔جب ان کے جنازے کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے خود یہ تصرف کیا کہ ان کے بھائی نے کہا کہ آپ لوگ یعنی احمدی جنازہ پڑھ لیں اور ہماری مسجد میں آ کے جنازہ پڑھ لیں۔کوئی روک نہیں ہے۔اور کہتے