خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 149
خطبات مسرور جلد 16 149 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 مارچ 2018 قرض ادا ہو سکے یا بے سہارا اولا د چھوڑ جائے تو اس کی بے سہارا اولاد اور قرض کی ادائیگی کا انتظام کیا جائے گا۔(صحیح مسلم کتاب الجمعة باب تخفيف الصلاة والخطبة حديث 2005) یعنی حکومت یہ کرے گی۔ذمہ دار لوگ یہ کریں گے۔یتیم کی پرورش اور اس کا اخراجات کا انتظام کرنا اس کی بہت زیادہ تلقین اسلام میں کی گئی ہے۔اسی وجہ سے آپ نے یہ فرمایا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔لگتا ہے کہ یہ دوجو مختلف روایتیں ہیں۔ایک طرف تو آپ نے دو دینار قرض والے کا جنازہ پڑھنے سے انکار کیا دوسری دفعہ آپ نے فرمایا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔یہ دو مختلف مواقع لگ رہے ہیں۔پہلے تو بلا وجہ قرض لینے والوں کو یہ سمجھانے کے لئے ہے کہ قرض کی بڑی اہمیت ہے اور اس کے لواحقین کو اور قریبیوں کو اس ذمہ داری کو ادا کرنا چاہئے۔اور دوسرے موقع پر اسلامی حکومت کی یہ ذمہ داری قرار دی گئی ہے کہ یتیم بچوں کی پرورش اور مرنے والے کی اگر جائیداد قرض اتارنے کی کفیل نہ ہو سکے تو اس کی ادائیگی کرنی چاہئے۔پس یہ ہے اسلامی حکومتوں کے لئے ایک سبق جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دیا کہ کس طرح اسلامی حکومتوں کو اپنی رعایا کا خیال رکھنا چاہئے۔لیکن بد قسمتی سے سب سے زیادہ رعایا کے حقوق جو مارے جارہے ہیں وہ اسلامی حکومتوں میں ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت جابر پر شفقت کا ایک اور واقعہ بھی ملتا ہے۔راوی کہتے ہیں کہ میں حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بات سنی وہ بیان کریں۔حضرت جابر نے کہا کہ میں ایک سفر میں آپ کے ساتھ تھا۔راوی کہتے تھے کہ میں نہیں جانتا سفر جنگ کا تھا یا عمرہ کا۔بہر حال جب ہم مدینہ کی طرف لوٹے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اپنے گھر والوں کے پاس جلدی جانا چاہتا ہو وہ جلدی چلا جائے۔حضرت جابر کہتے تھے کہ یہ سن کر ہم جلدی جلدی چلے اور میں اپنے ایک اونٹ پر سوار تھا جس کا رنگ خاکی تھا۔کوئی داغ نہ تھا۔لوگ میرے پیچھے تھے۔میں اسی طرح جارہا تھا کہ وہ اونٹ اڑ گیا۔چلنے سے انکار کر دیا۔میرے چلانے سے بھی نہ چلا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا تو مجھے کہا کہ جابر ذرا مضبوطی سے اس کے اوپر بیٹھو اور یہ کہہ کر آپ نے اس کو اپنے کوڑے سے ایک ضرب لگائی تو اونٹ اپنی جگہ سے کود کر چل پڑا اور اس کے بعد بڑی تیزی سے چلنا شروع ہو گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اس اونٹ کو بیچتے ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں بیچتا ہوں۔جب ہم مدینہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کئی صحابہ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوئے تو میں بھی آپ کے ساتھ گیا اور اس اونٹ کو مسجد کے سامنے پتھر کے فرش کے ایک کونے میں باندھ دیا۔میں نے آپ سے کہا یہ آپ کا اونٹ ہے۔آپ باہر نکلے اور آپ نے اس اونٹ کے ارد گر د چکر لگایا۔فرمایا یہ اونٹ ہمارا اونٹ ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے کئی اوقیے بھیجے اور فرمایا یہ جابر کو دے دو۔پھر آپ نے فرمایا کہ کیا تم نے قیمت پوری کی پوری لے لی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں لے لی ہے۔آپ نے فرمایا کہ یہ قیمت اور یہ اونٹ تمہارا ہے۔(صحيح البخارى كتاب الجهاد باب من ضرب دابة غيره في الغزو حديث 2861) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شفقت فرماتے ہوئے اس اونٹ کو بھی واپس کر دیا اور قیمت بھی ادا کر دی۔ہو سکتا ہے یہ بھی وجہ ہو کہ ایک روایت میں یہ بھی ملتا ہے کہ پانی لانے کے لئے یہ اونٹ استعمال ہو تا تھا اور حضرت جابر