خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 148 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 148

خطبات مسرور جلد 16 148 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 مارچ 2018 درختوں میں کھڑے رہے۔کہتے ہیں میں نے پھل توڑ کر یہودی کا سارا قرضہ ادا کر دیا اور کچھ کھجوریں بچ گئیں۔میں نے حضور کی خدمت میں یہ خوشخبری عرض کی تو آپ نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کار سول ہوں۔(صحیح البخاري كتاب الأطعمه باب الرطب والتمر۔۔۔الخ حديث 5443) یعنی یہ جو معجزہ ہوا۔یہ جو غیر معمولی واقعہ ہوا اس لئے ہوا کہ اللہ تعالیٰ میری دعائیں سنتا ہے اور میرے کاموں میں برکت ڈالتا ہے۔پس جہاں اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت اور قبولیت دعا کی وجہ سے پھل میں برکت کا ہم واقعہ دیکھتے ہیں وہاں قرض کی ادائیگی کے لئے صحابہ کی بے چینی بھی نظر آتی ہے۔پس یہ روح ہے جو حقیقی مومن کا ایک خاص امتیاز ہونی چاہئے۔بعض دفعہ ہمیں یہاں اپنے معاشرے میں نظر آتا ہے کہ احمدی کہلا کر پھر اس کی فکر نہیں کرتے اور قرض اتارنے کے معاملے میں ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں۔سالوں گزر جاتے ہیں مقدمے چل رہے ہوتے ہیں۔پس ہمیں بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ الفاظ یاد رکھنے چاہئیں کہ میری بیعت میں آنے کے بعد پھر صحابہ کے نمونوں کو اپنے اوپر لاگو کر و۔وہ اپناؤ۔تبھی وہ خوبصورت معاشرہ قائم ہو سکتا ہے جو مہدی اور مسیح کے آنے کے بعد قائم ہونا تھا۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 7 صفحه 413) قرض کی ادائیگی کی اہمیت کے بارے میں بھی حضرت جابر سے ایک روایت بیان کی جاتی ہے لیکن اس سے پہلے ایک واقعہ بیان کر دوں کہ بعض روایت میں آتا ہے کہ جب یہ پتہ لگا قرض ادا ہو گیا ہے حضرت عمر بھی وہاں آئے۔حضرت عمر سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پوچھو کیا واقعہ ہوا۔تو آپ نے کہا مجھے پوچھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ جب آپ نے باغ کا ایک چکر لگایا تھا تو مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اب یہ پورے کا پورا قرض اس کا ادا ہو جائے گا۔اور جب دوسرا چکر لگایا تو مزید پختہ یقین ہو گیا۔(صحيح البخارى كتاب الاستقراض باب اذا قاص او جازفه في الدين۔۔۔الخ حديث 2396، کتاب الهبة باب اذا وهب دينا على رجل حديث 2601) جیسا کہ میں نے کہا اس قرض کی ادائیگی کی اہمیت کے بارے میں حضرت جابر سے ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک صحابی پر دو دینار کا قرض تھا اور اس کی وفات ہو گئی۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا۔اس پر دوسرے صحابی نے یہ ضمانت دی کہ میں ذمہ داری لیتا ہوں قرض اتارنے کی تو اس بات پر پھر آپ نے جنازہ پڑھایا۔اور اگلے دن پھر اس ذمہ لینے والے سے پوچھا کہ تم نے جو دو دینار اپنے ذمہ لئے تھے وہ ادا بھی کر دیئے ہیں کہ نہیں؟ (مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحہ 104-105 حدیث 14590 مسند جابر بن عبد الله مطبوعه عالم الكتب بیروت 1998ء) پس یہ اہمیت ہے قرض کی ادائیگی کی اور یہ فکر ہونی چاہئے۔لیکن حضرت جابر سے یہ بھی روایت ملتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی مومن مال چھوڑ جائے تو یہ اس کے اہل و عیال کو ملتا ہے جو بھی جائیداد چھوڑے گا۔اور اگر کوئی قرض چھوڑ جائے اور جائیداد بھی ہو اور ترکہ میں اس کی گنجائش نہ ہو کہ پورا