خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 147
خطبات مسرور جلد 16 147 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مارچ 2018 ہے یا امکان ہے کہ پھل تھوڑا ہے آمد کم ہو گی اس لئے قرض کی وصولی میں سہولت دے دو۔کچھ حصہ لے لو، کچھ آئندہ سال لے لو۔لیکن وہ یہودی کسی قسم کی سہولت دینے کو تیار نہ ہوا اور پھر اس پریشانی میں جابر بن عبد اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں پتہ چلا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کو سفارش کی لیکن وہ نہ مانا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح اپنے اس صحابی سے اس کے قرض اتارنے کے سلسلہ میں شفقت فرمائی۔دعا کی۔اور کس طرح پھر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔اس کا ذکر روایات میں ملتا ہے۔یہاں یہ بھی بتا دوں کہ بعض یہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر و یعنی حضرت جابر کے والد جو تھے ان کے قرض کی ادائیگی کے سلسلہ میں یہ واقعہ بیان کرتے ہیں جو انہوں نے اپنے بیٹے کو قرض اتارنے کے سلسلہ میں نصیحت فرمائی تھی۔بہر حال اس وقت پھل کم لگا تھا اور اس قرض کی ادائیگی مشکل تھی۔پھر جیسا کہ میں نے بتایا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک معاملہ پہنچا لیکن صحیح بخاری میں جو روایت ملتی ہے اس سے لگتا ہے کہ یہ بعد میں کسی وقت کا واقعہ ہے۔بہر حال جو بھی ہو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے صحابہ سے شفقت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبولیت دعا کا معجزہ جس طرح بھی یہ بیان کیا جائے اس سے ظاہر ہوتا ہے۔حضرت جابر بن عبد اللہ روایت کرتے ہیں کہ مدینہ میں ایک یہودی تھا جو میرے کھجوروں کے باغ کا نیا پھل تیار ہونے تک مجھے قرض دیا کرتا تھا۔میری یہ زمین رومہ نامی کنوئیں والے راستہ پر واقع تھی۔ایک بار سال گزر گیا مگر پھل کم لگا اور پوری طرح تیار بھی نہ ہوا۔پھل کی برداشت کے موسم میں وہ یہودی حسب معمول اپنا قرض وصول کرنے آگیا جبکہ اس سال میں نے کوئی پھل نہ توڑا تھا۔کہتے ہیں کہ میں نے اس سے مزید ایک سال کی مہلت مانگی لیکن اس نے انکار کر دیا۔اس کی نیت یہ تھی کہ اس طرح شاید یہ پورے کا پورا باغ میرے قبضہ میں آ جائے۔تو اس واقعہ کی خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تو آپ نے صحابہ کو فرمایا کہ چلو ہم یہودی سے جابر کے لئے مہلت طلب کرتے ہیں۔یہ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مع چند صحابہ کے میرے باغ میں تشریف لائے اور یہودی سے بات کی۔مگر یہودی نے کہا۔اے ابو القاسم ! میں اسے مہلت نہیں دوں گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا۔یہودی کا یہ رویہ دیکھ کر آپ نے کھجور کے درختوں میں ایک چکر لگایا پھر آکر یہودی سے دوبارہ بات کی۔لیکن اس نے پھر انکار کر دیا۔کہتے ہیں اس دوران میں نے باغ سے کچھ کھجوریں توڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں جو آپ نے تناول فرمائیں۔پھر فرما یا جابر یہاں تمہارا جو باغوں میں چھپر سا ہوتا ہے آرام کرنے کی جگہ ہوتی ہے وہ کہاں ہے ؟ میں نے بتایا تو آپ نے فرمایا کہ میرے لئے وہاں چٹائی بچھا دو تا کہ میں کچھ دیر آرام کروں۔کہتے ہیں میں نے تعمیل ارشاد کی۔آپ وہاں سو گئے۔جب بیدار ہوئے تو میں پھر مٹھی بھر کھجور میں لایا۔آپ نے ان میں سے کچھ کھائیں۔پھر کھڑے ہوئے اور یہودی سے دوبارہ بات کی مگر وہ نہ مانا۔آپ نے دوبارہ باغ کا چکر لگایا اور مجھ سے فرما یا جابر کھجوروں سے پھل اتارنا شروع کر و اور یہودی کا قرض ادا کرو۔میں نے پھل اتارنا شروع کیا۔اس دوران آپ کھجوروں کے